• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کے طلبا کل کی پیشہ ور افرادی قوت، مسائل کا بہتر حل نکالنے والے اور رہنما ہیں۔ معیاری تعلیم تک رسائی، زندگی میں آگے بڑھنے کےلیے صرف بچوں کی ذاتی زندگی کے لیے ہی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف برائے 2030ء طے کرتے ہیں کہ ہر بچے کو پرائمری اور سیکنڈری سطح کی مفت اور معیاری تعلیم تک رسائی ہونی چاہیے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ کووِڈ-19وبائی بیماری کے نتیجے میں تعلیم کے شعبہ میں ہونے والی پیشرفت کے فوائد 20سال پیچھے چلے گئے ہیں۔ اگرچہ تمام طلبا ہی وبائی مرض کے اثرات سے متاثر ہوئے ہیں مگر اس کے نتیجے میں مراعات یافتہ اور پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے بچوں کے درمیان فرق اور بھی بڑھ گیا ہے۔

مثال کے طور پر، ہندوستان کے ایک مطالعہ میں بتایا گیا ہے کہ وہاں کم مراعات یافتہ گھرانوں کے تقریباً 40فی صد طلبا تعلیم تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں اور حکومت کا اندازہ ہے کہ تقریباً 30 ملین اسکول کے بچوں کو آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسمارٹ فونز، آلات یا انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔ مراعات یافتہ اور پسماندہ طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے بچوں کے درمیان تعلیمی قابلیت کے فرق کو کم یا ختم کرنے کا ایک طریقہ بچوں میں مطالعہ کی عادت پیدا کرنا ہے۔

بچوں کی زندگی کے شروع کے سال بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ بچے کی عمر کا وہ حصہ ہوتا ہے، جس دوران بچے کی عادات اور مزاج بن رہا ہوتا ہے۔ ابتدائی برسوں میں بچے کو جیسا ماحول ملے گا، آنے والے وقتوں میں وہ ویسا ہی نظر آئے گا۔ اس اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس عمر میں بچوں کو زیادہ سے زیادہ اچھی اور مفید سرگرمیوں میں مصروف رکھیں۔

کتاب انسان کی بہترین دوست مانی جاتی ہے، ایسے میں بچے کی ابتدائی زندگی میں اگر اس کا بہترین دوست سے تعارف کرا دیا جائے تو یہ دوستانہ آگے چل کر بہترین نتائج کا باعث بنتا ہے۔ بچوں کو ابتدائی عمر میں ہی ہاتھ میں کتابیں پکڑائی جائیں تو وہ مطالعے کی طرف راغب ہوجاتے ہیں اور پھر وہ کتابوں کو کبھی نہیں چھوڑتے۔ یہ محض کوئی مفروضہ نہیں بلکہ تجربہ ہے۔ جن مائوں نے اپنے بچوں کو کتابوں سے رغبت دلائی ہے اُن کے بچوں کی سیکھنے کی استعداد دیگر بچوں کی نسبت کئی درجہ بہتر ہوتی ہے۔ 

مطالعے کا شوق رکھنے والے بچے تخلیقی رجحان رکھتے ہیں اور لکیر کے فقیر بننے کے بجائے جدت پسند ہوتے ہیں۔ پانچ ماہ کی عمر سے بچہ عموماً بیٹھنا شروع کردیتا ہے۔ اس عمر سے اگر کتاب کا تعارف شروع کردیا جائے تو نتائج اسی لحاظ سے اچھے ہوتے ہیں، کتاب سے دلچسپی بچے کے مزاج کا حصہ بن جاتی ہے۔

مطالعے محض مشغلہ نہیں ہے۔ حال ہی میں ہونے والے کئی تحقیقی مطالعوں میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مطالعے کی عادت رکھنے والے افراد میں الزائمر (دماغی بیماری) میں مبتلا ہونے کے امکانات، مطالعہ نہ کرنے والے افراد کی نسبت ڈھائی گنا کم ہوتے ہیں۔ ماہر تعلیم این ای کوننگھم نے اپنے تحقیقی مطالعے میں لکھا ہے کہ باقاعدگی سے کتب بینی کرنے والے افراد نا صرف روزانہ کوئی نہ کوئی نئی بات سیکھتے ہیں بلکہ ان کی معلومات اور ذہانت کا معیار بھی دیگر افراد کی نسبت بہتر ہوتا ہے۔

ایک اور مفکر اور محقق کرسٹل رسل اپنے تحقیقی مطالعے میں لکھتے ہیں کہ کتب بینی آپ کا ذہنی تناؤ ختم کرکے آپ کی پُرسکون فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو جلا بخشتی ہے۔ اچھی کتاب پڑھنے سے آپ کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ اور سوچنے کی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، افسانوی کتب پڑھنے سے دوسروں کی نفسیات کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے اور آپ بآسانی اپنے مخاطب کے احساسات اور جذبات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

مطالعہ اور بچوں کی شخصیت سازی

٭ دن میں 15منٹ کا مطالعہ بچوں کے ذخیرہ الفاظ میں سالانہ دس لاکھ سے زائد الفاظ کا اضافہ کرسکتا ہے۔

٭ آمنے سامنے بیٹھ کر مطالعہ کرنے والے بچوں کا IQ لیول دوسرے بچوں کی نسبت 6پوائنٹ زیادہ ہوتا ہے۔

٭ بنیادی تعلیم حاصل نہ کرنے والے بچوں میں اسکول سے بھاگنے کی شرح مطالعہ کرنے والے بچوں کی نسبت تین سے چار گنا زیادہ ہوتی ہے۔

٭ امریکی محکمہ تعلیم کے ایک سروے کے مطابق، مطالعہ کرنے والے بچوں میں اعتماد، یادداشت اور قائدانہ صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں۔

کتب بینی کی عادت پیدا کرنا

ماہرین کے مطابق، درج ذیل طریقوں پر عمل پیرا ہوکر آپ اپنے بچوں میں کتاب دوستی کی عادت پیدا کرسکتے ہیں۔

ہوم لائبریری

چھوٹا ہی سہی لیکن کوشش کریں کہ گھر میں ایک کتب خانہ ضرور بنائیں، کیونکہ یہ بچوں میں مطالعہ کا شوق بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھر میں موجود کتابوں کی تعداد اور بچوں کی مجموعی تعلیمی قابلیت کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے۔

والدین کتابیں پڑھیں

بچوں میں مطالعے کا شوق پروان چڑھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اگر والدین گھر میں کتابیں نہیں پڑھتے تو وہ خود کتابیں پڑھنا شروع کردیں۔ والدین کو گھر میں کتابیں اس طرح اور ایسی جگہ پڑھنی چاہئیں جہاں بچے انھیں دیکھ سکیں۔ اگر آپ کے بچے سمجھتے ہیں کہ پڑھنا ایسا کام ہے جو بڑے نہیں کرتے تو ہوسکتا ہے کہ وہ بھی بڑے ہونے پر کتابوں سے دوری اختیار کرلیں۔