• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لوئر سندھ کی شوگر ملوں کا ڈھائی سو سے مہنگا گنا نہ خریدنے کا اعلان

اسلام آباد (حنیف خالد) لوئر سندھ کی درجن بھر شوگر ملوں نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی صورت حکومت سندھ کی سرکاری امدادی قیمت اڑھائی سو روپے فی من سے زیادہ قیمت پر گنا نہیں خریدیں گی۔ 

یہ فیصلہ اس بناء پر کیا گیا کہ رحیم یار خان‘ بہاولپور‘ بہاولنگر‘ ملتان‘ مظفر گڑھ سے مڈل مین مافیا پنجاب سے کسانوں سے 225روپے کی سرکار یا مدادی قیمت سے بھی کاشت کاروں کو نقد ادائیگی کر کے خرید رہا ہے اور روزانہ ہزاروں ٹن گنا ٹرکوں، ٹرالیوں، ٹرالروں میں کوٹ سبزہ کی چیک پوسٹ سے گزر کر اپر سندھ اور لوئر سندھ کی شوگر ملوں کو پونے تین سو سے تین سو روپے فی چالیس کلو گرام فروخت کر رہا ہے مگر لوئر سندھ کی شوگر ملوں نے حکومت سندھ کے مقرر کردہ اڑھائی سو روپے فی چالیس کلو گرام سے زیادہ ادائیگی مڈل مینوں کو کرنے سے انکار کر دیا ہے اور ان کا گنا خریدنے کا سلسلہ روک دیا گیا ہے‘۔ 

اسکے نتیجے میں اتوار کی شام تک چینی کے کلوزنگ ایکس ملز ریٹ پر کافی اثر پڑا ہے۔ 

پنجاب شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سینئر ایگزیکٹو ممبر ماجد ملک نے جنگ کو بتایا کہ لوئر سندھ اور اپر سندھ میں چینی کے کلوزنگ ایکس ملز ریٹ 85روپے کلو ہو گئے ہیں۔ 

جنوبی پنجاب میں کلوزنگ ایکس ملز ریٹ 85روپے 10پیسے کلو‘ سنٹرل پنجاب میں 86روپے فی کلو تک پہنچ گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں اتوار کی شام چینی کے کلوزنگ ایکس ملز ریٹ 86روپے پچیس پیسے فی کلو تک تھے۔

 لوئر سندھ کی شوگر ملوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اڑھائی سو روپے فی چالیس کلو گرام سے زیادہ قیمت پر کسی مڈل مین یا کاشتکار سے گنا نہیں خریدیں گی‘ اسکے نتیجے میں لوئر سندھ کی ملوں کی اکثریت کے پاس گنے کے سٹاک بہت کم رہ گئے ہیں اور انہوں نے خود کو نو کین (NOCANE) قرار دے دیا ہے۔

 اس صورتحال میں وفاقی دارالحکومت راولپنڈی اسلام آباد میں اتوار کی تک چینی کے خوردہ ریٹ 480روپے فی پانچ کلو تک آ گئے ہیں جو کہ 96روپے کلو بنتی ہے۔

 اس طرح نیا شوگر سیزن شروع ہونے کے بعد پہلی دفعہ چینی پرچون میں ایک سو روپے سے بھی کم قیمت پر صارفین کو ملنا شروع ہو گئی ہے۔

 دھمیال روڈ راولپنڈی کے ایک خوردہ فروش سے ایک صارف نے چینی 96روپے فی کلو کے حساب سے خریدی‘ یہی ریٹ راولپنڈی اسلام آباد سمیت پنجاب کے دوسرے علاقوں میں بھی بتائے گئے ہیں۔

 ہفتے کی شام ہول سیلرز نے پورے ملک میں چینی تقریباً 90روپے فی کلو تک کر دی جبکہ یہی چینی نومبر کے آغاز میں ایک سو ساٹھ روپے کلو پرچون میں اور ایک سو چالیس روپے کلو ایکس ملز ریٹ پر دی جا رہی تھی۔ 

وفاقی وزارت صنعت و پیداوار اور وفاقی وزارت قومی فوڈ سکیورٹی و ریسرچ نے شوگر ملز مالکان کے ساتھ طویل دورانیہ کے مذاکرات میں ایکس ملز ریٹ 84روپے 75پیسے اور خوردہ ریٹ 89روپے 75پیسے کرنے کا آرڈر دیا مگر نہ تو شوگر ملز مالکان اور نہ ہی اعلیٰ عدالتوں میں دائر کی گئی رٹ درخواستوں کے فیصلے عوام کو وائٹ کرسٹل شوگر دلا سکے اور نہ ہی آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی تینوں صوبوں میں موجود شوگر ملوں نے ہائی کورٹ میں رٹ درخواستیں دائر کرنے کے باوجود 84روپے 75پیسے فی کلو چینی کا ایکس ملز ریٹ قبول کیا‘ مگر نئے کرشنگ سیزن میں چینی کی وافر پیداوار کے نتیجے میں مارکیٹ میکنزم کے تحت طلب کم اور رسد زیادہ ہونے سے چینی کے ایکس ملز ریٹ تیزی سے کم ہونا شروع ہو گئے۔ 

حکومت نے جو ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی الخلیج شوگر ملز دوبئی سے منگوائی تھی اسکی قیمت نئی ملکی چینی آنے سے 90سے اچانک گر کر 88روپے کلو رہ گئی ہے پھر بھی اس پائوڈر نما چینی کو لوگ بہت کم خریدنا پسند کر رہے ہیں۔

 شوگر انڈسٹری کے مطابق اگر حکومت پنجاب کوٹ سبزہ کے بارڈر سے ہزاروں ٹن یومیہ گنے کی پنجاب سے سندھ سپلائی اُسی طرح روکے جس طرح سندھ کی حکومت نے 2021ء کے وسط میں سندھ سے چینی پنجاب آنے سے روکی تھی تو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں چینی کے ایکس ملز ریٹ 15دسمبر تک 80روپے کلو یا اس سے بھی کم ہو سکتے ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید