• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وَبائی مرض کے خواتین کی جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرات

کووِڈ-19وَبائی مرض نے 46 لاکھ سے زائد اموات (اور اس میں اب بھی اضافہ ہورہا ہے)کے ساتھ دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وبائی مرض نے معاشرے کے مراعات یافتہ اور پسماندہ طبقات کے مابین پہلے سے موجود فرق کو بھی مزید بڑھادیا ہے اور خواتین و لڑکیاں اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی صنفی تفریق کی رپورٹ 2021ء میں کہا تھا کہ وبائی مرض کے باعث صنفی ترقی کی گزشتہ 39سال کی پیشرفت پر پانی پھیر گیا ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال خدمات تک رسائی میں خلل پڑا ہے، لاک ڈاؤن جیسے اقدامات سے صنفی بنیاد پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ ہم نے ماضی میں اس طرح کے حالات سے کچھ نہیں سیکھا ہے۔ ایبولا وَبائی مرض کے دوران بھی خواتین اور لڑکیوں پر تشدد اور استحصال کے واقعات میں اضافہ رپورٹ کیا گیا تھا۔

جنسی اور تولیدی صحت پر اثرات

کووِڈ-19سے دنیا بھر میں صحت کا نظام مغلوب ہو چکا ہے، کیوں کہ وَبائی مرض کے متاثرین کے لیے ضروری نگہداشت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ خواتین کی صحت پر سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ بہت سے ممالک جنسی اور تولیدی صحت کی خدمات کو دستیاب رکھنے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں خواتین کی صحت کے سلسلے میں لاپرواہی برتی گئی اور ان کی صحت کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوا۔

بین الاقوامی طبی جرنل ’دی لانسیٹ‘ میں زچگی اور اس کے نتائج پر 40 مطالعات کا ایک منظم جائزہ اور مشترکہ تجزیہ شائع کیا گیا ہے، جس میں یہ نتیجہ اَخذ کیا گیا کہ وبائی مرض کے دوران حمل کے ضائع ہونے، دوران زچگی اموات اور بعداز زچگی ہونے والے ڈپریشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ ’پاپولیشن فنڈ‘ نے نشاندہی کی ہے کہ، وَبائی مرض کے باعث 115 کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں خواتین کو خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات میں رسائی حاصل کرنے میں اوسطاً 3.6 ماہ کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں 70لاکھ غیر ارادی حمل کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

مطالعہ میں بتایا گیا ہے کہ، وَبائی مرض نیپال میں زچگی کی صحت کی خدمات کو کمزور کرنے کا باعث بنا، جہاں مارچ 2020ء اور جون 2021ء کے درمیان حمل یا ولادت کے نتیجے میں 258خواتین کی موت واقع ہوئی، جب کہ کووِڈ-19سے پہلے کے سال میں 51زچگی اموات واقع ہوئی تھیں۔

صنفی بنیاد پر تشدد میں اضافہ

خواتین کے خلاف تشدد کی تعریف، انھیں ’جسمانی، جنسی یا نفسیاتی نقصان یا تکلیف‘ کے طور پر کی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، وَبائی مرض کے بعد خواتین پر تشدد میں 25 فی صد تک اضافہ ہوا ہے۔ وَبائی مرض کی نوعیت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات نے خواتین کے لیے اس بات کو مشکل بنا دیا ہے کہ وہ قانونی یا صحت کی خدمات تک رسائی حاصل کرسکیں، کیوں کہ دنیا نے اپنے زیادہ تر وسائل وَبائی مرض سے نمٹنے میں لگائے ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے نے اس حوالے سے پریشان کن اعدادوشمار جاری کیے ہیں؛ 2020ء کے دوران 243 ملین خواتین اور لڑکیوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ کئی ممالک کو صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد اور قتل کے خلاف ـ’ایمرجنسی‘ نافذ کرنا پڑی۔ فرانس میں گھریلو تشدد کی رپورٹس میں 30 فیصد اضافہ ہوا، ترکی میں صرف جولائی 2020ء میں 36 خواتین کو قتل کیا گیا اور کیوبیک میں 2021ء کی پہلی سہ ماہی میں 10خواتین کا قتل ہوا جب کہ اس سے قبل پورے 2020ء میں 12 خواتین قتل کی گئی تھیں۔

ؒلڑکیوں اور جوان خواتین پر اثرات

بحرانوں کے دوران لڑکیاں اور خواتین معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور گروہوں میں شمار کی جاتی ہیں کیوں کہ اس دوران وہ سب سے زیادہ خطرات سے دوچار رہتی ہیں۔ 

حالیہ مطالعوں میں پریشان کن اعدادوشمار سامنے آئے ہیں: بھارت میں کی گئی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ وبائی مرض کے دوران بڑھنے والے صنفی تضادات، ازدواجی عصمت دری، خاندانی تشدد اور جبری شادی کی دھمکیوں جیسے واقعات میں اضافہ ہوا، جس سے لڑکیاں اور خواتین غیر متناسب طور پر متاثر ہوئیں۔ یوگنڈا میں بچوں کو نظر انداز کرنے اور بچوں کے خلاف جسمانی اور جنسی استحصال کی بڑھتی ہوئی رپورٹس سامنے آئیں، جن میں لڑکیاں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری اور فروغ کے نتیجے میں ایچ آئی وی/ ایڈز کی شرح میں کمی، نوعمری میں حمل اور بچوں کی اموات، اور زچگی کی صحت اور معاشی نمو میں بہتری کے ساتھ سماجی انصاف تک رسائی بہتر آتی ہے۔ یونیسکو کا تخمینہ ہے کہ، ہو سکتا ہے کہ وبائی مرض کی وجہ سے 11 ملین لڑکیوں کو اسکول واپس جانے کا موقع نہ ملے، جس کے نتیجے میں ان کا مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔

صنفی مساوات کی طرف واپسی کی کوششیں

دنیا بھر کے تمام ممالک کووِڈ-19کی وبا سے متاثر ہوئے ہیں، جس سے خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق اور معاشرے میں ان کی قدر و منزلت کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ تسلیم کرنا بہت ضروری ہے کہ خواتین اور لڑکیاں زیادہ خطرات کا شکار ہیں اور اس لیے وہ غیر متناسب طور پر امتیازی سلوک، نظراندازی اور بدسلوکی کا شکار ہیں۔

ہم کووِڈ-19وبائی مرض سے کیسے سیکھ سکتے ہیں اور خواتین اور لڑکیوں کے پیچھے نہ رہ جانے کو یقینی بنانے کے لیے دنیا کو بہتر طریقے سے کیسے تعمیر کر سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق، اس سلسلے میں لڑکیوں اور خواتین کی آراء کو اہمیت دینا، انھیں جنسی اور تولیدی صحت کا حق دینا، وبائی مرض کے باعث اسکول سے باہر رہ جانے والی لڑکیوں اور جوان خواتین کو واپس اسکول لانا وغیرہ اور اس جیسے دیگر اقدامات کے ذریعے لڑکیوں اور خواتین کی زندگیوں کو بدلا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی جسمانی اور ذہنی صحت میں بھی بہتری آئے گی۔