• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جسٹس (ر) گلزار کی سیکیورٹی کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کو ریٹائرمنٹ کے بعد اضافی فُول پروف سیکیورٹی نہ دینے کی درخواست نمٹا دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سماعت کرتے ہوئے درخواست نمٹانے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

جیورسٹ فاؤنڈیشن نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کو ریٹائرمنٹ کے بعد سیکیورٹی دینے کےخط کو چیلنج کیا تھا۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو چیف جسٹس گلزار احمد کی ریٹائرمنٹ کے بعد سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے خط لکھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلے میں کہنا ہے کہ خط پر عمل کیا گیا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی کارروائی کی گئی ہے، جب تک مجاز اتھارٹی کارروائی نہ کرے، درخواست گزار یا پاکستانیوں کے حقوق متاثر نہیں ہو سکتے۔

عدالتِ عالیہ کا اپنے تحریری فیصلے میں یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی شہری کے لیے سیکیورٹی خطرات کا اندازہ لگانا ایگزیکٹیو اتھارٹیز کے خصوصی دائرہ کار میں آتا ہے۔

اس سے قبل آج ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کو اضافی فول پروف سیکیورٹی دینے کی درخواست قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

دورانِ سماعت مدعی ریاض حنیف عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے کیس دوسرے بینچ کو منتقل کرنے کی استدعا کر دی۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دلائل شروع کریں، آپ اپنی مرضی کے بینچ کی استدعا نہیں کر سکتے۔

مقامی وکیل نے کہا کہ پھر میرے مزید کوئی دلائل نہیں، آپ درخواست پر فیصلہ کریں۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ نے گزشتہ روز جسٹس (ر) گلزار احمد کی اضافی فول پروف سیکیورٹی کے خلاف مقامی وکیل کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کی تھی۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فول پروف سیکیورٹی رکھنے کیلئے خط لکھا ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد اضافی سیکیورٹی کا تقاضہ کرپشن، ڈر اور اللّٰہ تعالیٰ پر کامل یقین نہ ہونا ظاہر کرتا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے فول پروف سیکیورٹی کو وسیع تر قومی مفاد کہا ہے جو کہ غلط ہے، سابق چیف جسٹس کا فول پروف سیکیورٹی کا تقاضہ بد نیتی، قومی خزانے پر بوجھ اور ذاتی مفاد پر مبنی ہے۔

درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ عدالت سابق چیف جسٹس گلزار احمد کا خط غیر قانونی، غیر آئینی اور قانون سے ماوراء قرار دے۔

درخواست گزار نے مزید استدعا کی کہ عدالت فریقین کو تمام مراعات واپس لینے اور قانون کے مطابق کارروائی کے احکامات جاری کرے۔

درخواست گزار نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے یہ استدعا بھی کی کہ عدالت وصول شدہ رقم کا 20 فیصد درخواست گزار کو دینے کے احکامات جاری کرے۔

درخواست میں سابق چیف جسٹس گلزار احمد، وزارتِ قانون، وزارتِ داخلہ اور رجسٹرار سپریم کورٹ کو فریق بنایا گیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید