• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بولٹن کی ڈائری۔۔۔ ابرار حسین
عمران خان اور ان کی جماعت پی ٹی آئی کے ساتھ چاہے کسی کا کتنا ہی سیاسی اختلاف کیوں نہ ہو لیکن چند باتوں کا کریڈٹ انہیں نہ دینا زیادتی ہوگی۔ ایک تو عمران خان تمام تر مخالفت کے باوجود بعض اہم عہدے ایسے لوگوں کو بھی دے گئے جن کا اتنے بڑے منصب پر پہنچنا مروجہ سیاست میں ممکن نہیں تھا جیسا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں یا آزاد کشمیر کے وزیر اعظم ، اسی طرح صحت کارڈ کا اجراء بھی پاکستان جیسے ملک میں ایک تاریخ ساز اقدام ہے، تاہم ان سب سے بڑھ کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ ہفتے ایک قرارداد منظور کی جس کے مطابق ہر سال 15 مارچ کو ’’اسلامو فوبیا‘‘ کے خلاف عالمی دن منایا جائے گا،یہ قرار داد اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی کی جانب سے پیش کی گئی جنرل اسمبلی میں اسے پاکستان نے متعارف کرایا تھا، یہ بلاشبہ عمران خان کی خصوصی کاوشوں اور دلچسپی سے ممکن ہوا ہے ،اب عمران خان چاہے وزیر اعظم رہیں یا نہ رہیں 15 مارچ کا دن جب بھی آئے گا امت مسلمہ عمران خان کی اس کاوش کو سراہتی رہے گی، ویل ڈن پاکستان، ویل ڈن عمران خان ، خیال رہے کہ مذکورہ قرارداد کو او آئی سی کے 57 ممالک کے علاوہ دیگر 8 ملکوں سمیت جس میں چین اور روس کی حمایت بھی حاصل تھی جب کہ بھارت، فرانس اور یورپی یونین کے نمائندوں نے اس پر یہ کہتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ مذہبی عدم برداشت ساری دنیا میں پائی جاتی ہے، ایسا کیوں ہے کہ اس قرارداد میں صرف اسلام کی بات کی گئی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بجا طور اس قرارداد کی منظوری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ وائس آف امریکہ نے کہا کہ کیا اس قرارداد کی منظوری سے واقعی کوئی فرق پڑے گا یا یہ محض ایک علامتی قرارداد ہے اور اس پر تحفظات کا اظہار کیوں کیا گیا ہے،اس پر ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں اس بات کا حوالہ دیا گیا اور بتایا گیا کہ اس بارے میں تجزیہ کاروں کی آراء خاصی متضاد دکھائی دیتی ہیں۔ شمشاد احمد خان پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب رہ چکے ہیں، قرارداد اور اس کی حیثیت کے بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ بذات خود ایک علامتی سا ادارہ بن کر رہ گیا ہے، اس تنظیم کو بنی نوع انسان کی امن اور خوشحالی کے لیے بہترین امید کے طور پر قائم کیا گیا تھا لیکن بطور مجموعی وہ ان توقعات پر پوری نہیں اتری جو اس سے وابستہ کی گئی تھیں لیکن وہ اپنے طور پر کوششیں جاری رکھتی ہے اور اسلامو فوبیا سے متعلق اس قرارداد کی منظوری بھی انہی کوششوں کا حصہ ہے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق شمشاد احمد خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس قرارداد کا اور اس قسم کے دوسرے اقدامات کا بنیادی مقصد اسلام کے بارے میں بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود غلط تصورات کو درست کرنا ہے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے وزیر اعظم روایتی قسم کے سیاست دان نہیں ہیں اور وہ ملک کے اندرونی معاملات کے علاوہ اسلام اور اسلامی دنیا کے لیے کچھ کرنے کے خواہاں ہیں اور انہی کی کوششوں سےاو آئی سی میں یہ قرارداد تیار ہوئی جسے پاکستان نے پیش کیا اور اقوام متحدہ نے منظور کیا، اس پر عمل اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہر سال اس دن کو منایا جائے لیکن عام آدمی کے ذہن میں کسی بھی چیز کے بارے میں جو غلط تصورات بیٹھ جاتے ہیں یا بٹھا دیئے جاتے ہیں انہیں طاقت سے درست نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس قسم کے علامتی اقدامات تعلیم کے ذریعے ہی درست کئے جاسکتے ہیں، جن سے بین المذاہب ہم آہنگی کا جذبہ اور احساس پیدا کیا جاسکے اور یہ کام بتدریج ہی ہو سکتا ہے۔ وائس آف امریکہ کے مطابق اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب ٹی ایس ترمرتی نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد ہندو فوبیا اور دیگر مذاہب سے متعلق عدم برداشت کو بیان نہیں کرتی، بھارتی تجزیہ کار ڈاکٹر راونی ٹھاکر ، جو دہلی یونیورسٹی سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ ہندو فوبیا انہیں تو کہیں نظر نہیں آتا، البتہ اسلامو فوبیا تھوڑا تھوڑا نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر راونی ٹھاکر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت جو بھارتی حکومت ہے اس کی آئیڈیالوجی بہت واضح ہے، وہ شروع ہی سے ہندو ازم پر یقین رکھتی ہے اور اسلام کو ایک بیرونی دھرم قرار دیتی ہے ، یہی ان کے اعتراض کا سبب ہے کیونکہ بھارت کے مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کے ساتھ گہرے رشتے ہیں، لاکھوں کی تعداد میں بھارتی مزدور ان ملکوں میں کام کرتے ہیں اور مذہب کو خارجہ پالیسی سے ہر صورت میں الگ رکھنا چاہیے ورنہ اسے نقصان ہو سکتا ہے۔ ہمارے خیال میں مودی حکومت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر عالم اسلام کے سامنے عیاں ہوگیا ہے، ہمیں بھارت کے اعتراض پر تعجب ہر گز نہیں کیوں کہ بھارت میں مودی حکومت کی مسلم دشمنی اور ہندو ازم سوچ اب کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے، مقبوضہ کشمیر پر تو بھارت کا جابرانہ قبضہ ہے وہاں پر تو مسلمانوں پر جو ظلم ڈھایا جارہا ہے اس کا جواز شاید بھارت کے عوام کو یہ دیا جاتا ہو کہ کشمیر میں تحریک مزاحمت کو کچلنے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے حالانکہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے اور کشمیری عوام کی جدوجہد اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے مگر خود بھارت کے اندر کبھی گائے رکشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل، کبھی حجاب پر پابندی کی آڑ میں مسلمانوں پر مظالم تو کبھی مساجد، نماز اور اذان کے معاملے پر ہندو انتہا پسند مسلم عوام جو بھارت کے وفادار شہری ہیں پر تاریخ کا بد ترین ظلم و جبر کا ہر حربہ آزما رہا ہے۔ بی جے پی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات مسلم امہ کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں، اب اس قرارداد کی مخالفت کرکے بھارت نے اپنا اصل چہرہ مزید واضح کر دیا ہےاور سیکولر ازم کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں، مسلم ممالک کی بے حسی سے بھارت کے مظالم بڑھتے ہی جا رہے ہیں، اسی طرح یورپ کے بعض ممالک میں اسلامو فوبیا ایک گمبھیر مسئلہ بن چکا ہے، ایسے میں مسلم امہ کو عظیم سفارتی کامیابی حاصل ہوئی ہے جو عمران خان کی خصوصی کاوشوں سے ممکن ہو ئی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صرف منظور ہونے والی نتیجہ خیز ثابت ہونے والی اس قرارداد کو پاکستان نے او آئی سی کے تعاون سے عالمی فورم پر پیش کیا ،اس سے قبل گزشتہ سال اسلام آباد میں اس تنظیم کے رکن ممالک کےوزرائےخارجہ کے اجلاس میں منظور کرا کے اسے تنظیم کا بڑا سفارتی ہدف بنایا گیا تھا اس قرارداد سے مظالم کا شکار مسلم امہ کا حوصلہ بلند ہوا ہے بلاشبہ یہ قرارداد وزیر اعظم عمران خان کی انسدادِ اسلاموفوبیا کو یقینی بنانے اور اسے عالمی امن سے جوڑنے کے ایجنڈے کے مسلسل سفارتی کاوشوں کا ثمر ہے، ہم یہاں اس موقع پر یہ بھی یاد دلانا مناسب سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے تو اقتدار میں آتے ہی انسداد اسلامو فوبیا کو اپنا مشن بنایا اور ہر اہم موقع پر جاندار آواز بلند کی ، ہمیں ان حوالوں سے عمران خان میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جھلک نظر آتی ہے کہ جنہوں نے اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرکے عالم اسلام کا وقار بلند کر دیا تھا،انہوں نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ہالینڈ کی حکومت کواس موضوع پر خط لکھ کر ان کے رویئے میں مثبت تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کیا تھا اور جیسا کہ ملک کے بلند پایہ کالم نگار اور صحافیوں کے استاد گرامی ڈاکٹر مجاہد منصوری نے نشاندہی کی ہے کہ اپنی انفرادی حیثیت اور اسلامی ممالک کے قائدین خصوصاً طیب اردوان کے ساتھ مل کر عمران خان نے مسلم امہ خصوصاً عالمی امن کے اس بڑے کاز کے لئے مسلسل اور سنجیدہ سفارتی کوششیں کیں،عالمی فورمز اور میڈیا انٹرویوز میں عالمی امن کی ضرورت کے طور پر اسے تواتر سے واضح کیا جس کے باعث عالمی سطح پر اب یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ اسلامو فوبیا وہ پُرخطر عالمی مسئلہ بن گیا ہے جس نے پرامن یورپی معاشروں حتیٰٰ کہ اسکینڈے نیوین ممالک اور آسٹریلیا و نیوزی لینڈ تک کو لپیٹ میں لے لیا ہے ، ہم دیانت داری سے سمجھتے ہیں کہ آئندہ کا مورخ جب بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ مرتب کرے گا تو عمران خان کا یہی ایک کارنامہ جب قلمبند کرے گا تو اس سے عمران خان ہمشہ تاریخ میں زندہ رہیں گے۔
یورپ سے سے مزید