• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق، وسط سے طویل مدت میں دنیا کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے، وہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ فضائی آلودگی اس سنگین مسئلہ کا ایک حصہ ہے اور یہ روئے زمین پر رہنے والے انسانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ 2021ء میں امریکن لَنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 40فی صد سے زائد امریکی غیرصحت مند ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔

عالمی اعدادوشمار زیادہ سنگین تصویر پیش کررہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا بھر میں 90 فی صد یعنی ہر 10 میں سے نو افراد سانس کے ذریعے آلودہ ہوا لے رہے ہیں۔ اندازہ ہے کہ کھلی فضا میں اور گھر کے اندر آلودہ ہوا لینے سے دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 70لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، یہ اموات اس لیے ہوتی ہیں کیوں کہ آلودہ ہوا پھیپھڑوں اور قلبی نظام کی گہرائی میں داخل ہوتی ہے، جس سے فالج، امراض قلب، پھیپھڑوں کے کینسر، دائمی آبسٹرکٹو پلمونری مرض اور سانس کے انفیکشن بشمول نمونیا جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، فضائی آلودگی غیر متعدی امراض کے لیے خطرے کا ایک اہم عنصر ہے، جس کی وجہ سے بالغ افراد میں ایک چوتھائی (24فی صد) اموات امراض قلب، 25فی صد فالج، 43 فیصد دائمی آبسٹرکٹو پلمونری مرض اور 29فی صد اموات پھیپھڑوں کے کینسر سے واقع ہوتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ، فضائی آلودگی سے ہر شخص متاثر ہوتا ہے لیکن غریب اور پسماندہ زندگی گزارنے والے افراد کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کہتی ہے کہ،’’یہ بات ناقابلِ قبول ہے کہ دنیا بھر میں تین ارب افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، گھروں میں آلودہ ٹریپس اور آلودہ ایندھن کے استعمال کے باعث سانس کے ذریعے خطرناک دھواں لے رہے ہیں۔ اگر دنیا نے فضائی آلودگی کے خاتمہ کے لیے فوری اقدامات نہ لیے تو ہم پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے قریب سے بھی نہیں گزریں گے۔‘‘

سائنس ہمیں پہلے ہی بتا چکی ہے کہ غیرصحت مند ہوا انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے۔فضائی آلودگی، خصوصاً فضا میں شامل وہ آلودہ مادے جو آنکھ سے نظر نہیں آتے، انسانی صحت کے لیے خطرات کو مزید بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔

فضائی آلودگی اور صحت کی خرابی کے درمیان تعلق اتنا گہراہے کہ ’’عالمی ادارہ صحت‘‘ نے فضائی آلودگی کو ’’نیا تمباکو‘‘ قرار دیا ہے۔ عالمی ادارے کے حالیہ تخمینوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ، دنیا بھر میں 80لاکھ سے زائد افراد کی اموات کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ سگریٹ پینے سے اتنی زیادہ اموات نہیں ہوتیں، جتنی کہ آلودہ فضا میں سانس لینے سے ہوتی ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ماہرِ طبعیات اور کلائمیٹ ریسرچر، رچرڈ میولرکی جانب سے 2018ء میں کی جانے والی اپنی ماحولیاتی تحقیق میں فضائی آلودگی سے متعلق ایک قدم اور آگے جاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ 2018ء میں ایک اوسط امریکی شہری کی زندگی کو پورے دن کے دوران، سگریٹ کے ایک تہائی سگریٹ پینے جتنا نقصان ہوتا ہے۔ ہرچندکہ، ایک تہائی سگریٹ کے مساوی سگریٹ کا دھواں روزانہ لینا بظاہر کوئی تشویش ناک بات معلوم نہیں ہوتی، تاہم اگر اسے جمع کیا جائے تو ایک سال میں 100اور 10سال میں 1000سگریٹس بنتی ہیں۔

ہم کس فضا میں سانس لے رہے ہیں؟

سگریٹ نوشی کے ذریعے 7 ہزار کیمیائی مادے انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں، جن میں سے کم از کم 69کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ وہ کینسر کا باعث بنتے ہیں۔ ہر جگہ فضائی آلودگی کی صورتِ حال مختلف ہے۔ اگر امریکا کی بات کی جائے تو وہاں ایندھن، فضائی آلودگی کے باعث اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور یہ تقریباً 2لاکھ اموات کا باعث بنتا ہے۔

فضائی آلودگی، صرف شہری مسئلہ؟

آسٹِن کی دی یونیورسٹی آف ٹیکساس کا ایک تحقیقی گروپ شہروں میں فضائی آلودگی پھیلانے والے مادوں کے اخراج، لوگوں کے اس سے متاثر ہونے کے عمل اور انسانی صحت کے درمیان تعلقات کی افہام و تفہیم کے لیے کام کرتا ہے۔ تنظیمی مشاورت کے میدان میں ایک کہاوت مقبول ہے کہ، ’’آپ جس چیز کی معیار بندی نہیں کرسکتے ، اس کا نظم و نسق سنبھالنابھی آپ کے بس کی بات نہیں‘‘۔

ہمارے شہروں کی فضا بہت زیادہ آلودہ ہے۔ مگر صرف اتنا معلوم ہونا کافی نہیں ہے۔ فضائی آلودگی سے مؤثر طور سے نمٹنے اور صحت عامہ میں بہتری لانے کے لیے شہر کے منصوبہ سازوں، ہوائی معیار کو منضبط کرنے والوں، صحت عامہ کے لیے کام کرنے والوں اور اس سے متعلق دوسرے شعبے کے لوگوں کو آلودگی پھیلانے والے مختلف مادوں اور ان کے تعامل کے طریقوں کے بارے میں صحیح معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔

آسٹِن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں ڈپارٹمنٹ آف سول ، آرکیٹیکچرل اینڈ انوائرمینٹل انجینئرنگ میں اسسٹنٹ پروفیسر جوشوا آپٹے کہتے ہیں، ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ فضائی آلودگی کی درستی کے ساتھ معیار بندی کے بغیر، آلودگی کے ذرائع اور ان سے نبردآزمائی کے طریقۂ کار کے بارے میںہم لوگ تاریکی میں تیر چلارہے ہوتے ہیں۔ ‘‘

ماہرین کے مطابق، آج فضائی آلودگی عمومی طور پر ایک شہری مسئلہ ہے، جس سے دنیا کے بڑے شہر متاثر ہیں، تاہم اگر اس پر سنجیدگی سے کام نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ شہروں سے نکل کر گاؤں اور دیہات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ تاہم، ا س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دیہی علاقے فضائی آلودگی سے مکمل طور پر محفوظ ہیں بلکہ فضائی آلودگی کے اثرات دور دراز علاقوں میں بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔

صحت سے مزید