• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شام بھی ہو چلی تھی اور رات گزارنے کے لیے اسے ایسے ہی کسی درخت کی ضرورت تھی۔اس نے سوچا ،’’ آرام کرنے اور رات گزارنے کے لیے یہ درخت بہت اچھا ہے ، یہاں سکون سے سو سکوں گی اور ممکن ہے صبح ناشتے کے لیے کچھ کیڑے مکوڑے بھی مل جائیںاس کے بعد تازہ دم ہوکر اپنی منزل کی طرف سفر شروع کروں گی۔‘‘

اگلی صبح جب رابن چڑیا بیدار ہوئی تو اس نے خود کو تازہ دم محسوس کیا ۔ ناشتے کے لیے کچھ کیڑے بھی مل گئے جو درخت کی شاخوں اور پتوں پر رینگ رہے تھے۔

درخت کے قریب ہی ایک چھوٹا سا تالاب بھی تھا۔ اُس نے خود کو پانی میں ڈبو کر صاف کیا اور درخت کی شاخ پر بیٹھ کر پروں کو کھول کر اپنی چونچ سے ان کی صفائی کی پھر اطراف کاجا ئزہ لینے لگی۔ یہ جگہ خاصی اچھی اور پر سکون تھی۔ قریب میں کوئی دوسرا پرندہ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔’’ میں یہاں مستقل قیام کر سکتی ہوں اور اکیلی درخت پر بیٹھ کر گانا گا سکتی ہوں‘‘۔ 

اس نے سو چا اور خوشی خوشی اپنا ایک پسندیدہ گیت گانے لگی۔ یہاں اسے ٹوکنے کے لیے کوئی پرندہ نہیں تھا۔ وہ خوب اونچی آواز میں گیت گانے لگی، مگر اچانک ہی گھبرا کر چپ ہوگئی، اُسے کتوں کے بھانکنے کی آواز یں سنائی دیں۔ اس نے سٹپٹا کر نیچے کی طرف دیکھا۔ درخت کے تنے کے پاس کئی کتے کھڑے تھے اور منہ اوپر کر کے اس کی طرف دیکھ کر غرا رہے تھے۔ایک کتا غرا کر بولا،’’بند کرو اپنا یہ بکواس گیت ہم سونے کی کوشش کر رہے تھےاور تمھاری بھدی آواز نے ہماری نیند خراب کر دی۔‘‘

مارے شرم کے رابن کا رنگ سرخ ہوگیا، وہ شرمندگی کے مارے اُڑی اور وہاں سے دور چلی گئی۔ اُس کا دل بہت دکھی تھا، پرندنے تو پرندے ، کتےاور بلیاں بھی اس کی آواز سننا نہیں چاہتے تھے۔ رابن چڑیا دکھی دل کے ساتھ اُڑتی رہی،آخر تھک کر چور ہوگئی اب اس سے مزید اڑا نہیں جا رہا تھا۔ وہ ایک جگہ بیٹھ گئ اور سوچنے لگی،’’ شاید یہی وہ جگہ ہے ، یہیں پر اپنا گانے کا شوق پورا کر سکتی ہوں، اگر یہاں نہیں گا سکی تو کہیں بھی اور کبھی بھی نہیں گا سکوں گی۔وہ اُڑتے اُڑتے ٹھنڈے علاقے میں آگئ تھی ، یہاں اسے سردی محسوس ہورہی تھی۔ اسے ایک درخت دکھائی دیا ، اس نے اپنے پروں کو سمیٹا اور درخت کے پتوں چھپ کر سوگئی۔ 

اگلی صبح جب وہ بیدار ہوئی تو اس کے اطراف میں برف ہی برف تھی۔ آسمان سے نرم نرم برف کے گالے زمین پر گر رہے تھے اس نے ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، اسے یہ منظر بے حد حسین لگا۔ اس نے اطراف کا جائزہ لیا تو اسے پہاڑوں پر اور پہاڑ کے دامن میں چھوٹے چھوٹے بہت سے مکان دکھائی دیئے ان کی چھتیں برف سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ گھروں سے دھواں نکل کر لہراتا ہوا اوپر کی طرف جا رہا تھا ۔ اسے کچھ بچے بھی دکھائی دیے جو گرم اور رنگین اونی کپڑے پہنے گھروں سے نکل آئے تھے اور برف سے کھیل رہے تھےاور برف باری سے خوب لطف اندوز ہو رہے تھے۔

رابن کو یہ سب بہت اچھا لگا اور پھر وہ موج میں آکر خود کو نہ روک سکی اور بے سوچے سمجھے پرندوں کا ایک گیت گانے لگی۔ بچوں نے شاید اس کی آواز سن لی، انہوں نے کسی پرندے کی ایسی آواز پہلے کبھی نہیں سنی تھی وہ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگےبرف سے کھیلنا بھول گئے وہ باتیں کر رہے تھے اور رابن کی طر اشارہ بھی کر رہے تھے۔ مارے شرم کے رابن چپ ہوگئی اور اس نے اپنا گیت ادھورا چھوڑ دیا۔ ایک چھوٹی لڑکی نے جلدی سے کہا، ارے چپ کیوں ہوگئیں ، گاؤنا تمھاری آواز تو بہت پیاری ہے ، تم بہت اچھا گا رہی ہو، گاؤ۔۔۔‘‘

رابن نے یہ سنا تو شرما کر رہ گئی۔ ایک دوسرے چھوٹے لڑکے نے کہا، ’’ارے بھئی کچھ اور سناؤنا ۔۔۔ ہم نے آج تک سردیوں میں کسی پرندے کو یوں گاتے نہیں دیکھا۔‘‘

رابن مزید جھینپ گئی وہ اس قدر شرمائی کہ اس کا سینہ شرم سے سرخ ہوگیا۔ ’ارے واہ ‘‘ ایک لڑکی خوش ہو کر بولی ،’’ اس کا سینہ کس قدر سرخ ہے۔‘‘

رابن بری طرح گھبرا گئی اسے معلوم تھا کہ اس کا سینہ سرخ نہیں کتھئی ہے بلکہ وہ تو پوری کتھئی تھی۔ اس نے خود پر نظر ڈالی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس کا سینہ واقعی سرخ ہورہا تھا۔

ایک تیسری چھوٹی لڑکی نے چہک کر کہا،’’تم سب سے خوب صورت چڑیا ہو، ہمارے لیے کچھ اور گانا گاؤ‘‘۔

رابن ایک بار پھر شرماگئی لیکن اس شرمانے میں فخر کا احساس بھی تھا۔ وہ پہلا دن تھا جب رابن چڑیا کے سینے کا رنگ کتھئی سے سرخ ہو اور آج تک فخر سے اس کا سینہ سرخ ہی ہے۔