• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آر تھری انکوائری، سابق کمشنر کیپٹن (ر) محمد محمود الزامات سے بری

اسلام آباد (انصار عباسی) راولپنڈی رنگ روڈ پروجیکٹ کے حو الے سے شروع کی جانے والی ایک نئی انکوائری میں سابق کمشنر کیپٹن (ر) محمد محمود کو تمام الزامات سے بری الذمہ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عمران خان کے دور میں وزیراعظم آفس سے براہِ راست موصول ہونے والی ہدایات کے بعد محمود کے پیش رو گلزار شاہ نے ’’غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی‘‘ رپورٹ تیار کی تھی۔ 

انکوائری میں تجویز دی گئی ہے کہ ضابطے کی تمام شرائط پوری کرنے کے بعد آر تھری پروجیکٹ کو بحال کیا جائے اور ساتھ ہی یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ گلزار شاہ اور اُس وقت کے چیف سیکریٹری جواد رفیق ملک کیخلاف انضباطی کارروائی کی جائے۔ 

جواد ملک نے انکوائری میں اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ گلزار شاہ کی جانب سے کرائی گئی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کے شرائط کار پنجاب حکومت نے طے نہیں کیے تھے بلکہ وزیراعظم آفس کی طرف سے کمشنر راولپنڈی کو ملے تھے۔ 

ملک نے مزید کہا تھا کہ کیپٹن محمود کو ہٹانے کا معاملہ بھی وزیراعظم آفس کی سطح پر کی گئی اسکروٹنی کی وجہ سے ہوا تھا.

صوبائی حکومت کی متعلقہ ایجنسیوں کو چاہئے تھا کہ وہ گلزار شاہ کی تیار کردہ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی جانچ پڑتال کریں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ 

رواں سال اپریل میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے ڈی جی سول سروس اکیڈمی عمر رسول سے کرائی گئی ایک نئی انکوائری میں چیئرمین پروجیکٹ ریویو کمیٹی برائے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ بورڈ آف پنجاب حکومت ڈاکٹر سلمان شاہ کا حوالہ دیا گیا کہ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ غیر مصدقہ باتوں کی وجہ سے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ میں پنجاب کی ترقی کیلئے ایک ایسے انتہائی اہمیت کے حامل پروجیکٹ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکا جس سے کھربوں روپے کی معاشی سرگرمیاں شروع ہو سکتی تھیں۔ 

تازہ ترین انکوائری میں سابق کمشنر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد محمود کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق، افسر کیخلاف ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا۔ 

انکوائری رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ غیر معمولی رکاوٹوں، مخاصمانہ رویے اور مصنوعی طور پر پیدا کردہ حالات کا ثابت قدمی، تحمل، لگن اور عزم کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر مجاز اتھارٹی کو چاہئے کہ وہ افسر کی خصوصیات کا اعتراف کرے۔ 

رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی رپورٹ تیار کرنے اور آر تھری پروجیکٹ کی الائنمنٹ کے حوالے سے قانونی جواز تیار کرنے اور 2021ء کی منظوری حاصل کرنے پر گلزار شاہ کیخلاف انضباطی کارروائی کی جائے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شاہ کی جانب سے کرائی گئی انکوائری غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی تھی، جس میں عزائم مذموم اور پہلے سے طے شدہ تھے کہ محمود کو پھنسانا ہے۔ 

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گلزار شاہ نے ماتحت افسران کو دھمکانے اور ان پر دبائو ڈالنے کا جرم کیا ہے اور من گھڑت رپورٹس اور شکایات پر دستخط کرائے۔ انکوائری رپورٹ میں اُس وقت کے چیف سیکریٹری جواد ملک کیخلاف بھی کوتاہی، معاملات نظر انداز کرنے اور مس کنڈکٹ کے الزامات کے تحت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مذکورہ افسر چیف سیکریٹری پنجاب کے عہدے کے قابل نہیں۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو افسران شدید دبائو کے باوجود شفافیت اور سچائی کی خاطر ڈٹے رہے وہ شاباشی کے حقدار ہیں، ان افسران نے اپنی ساکھ اور وقار برقرار رکھا۔ 

ان افسران میں کیپٹن (ر) انوار الحق، اس وقت کے ڈی سی راولپنڈی؛ جہانگیر احمد، اس وقت کے سابق اے ڈی سی راولپنڈی؛ مس عمارہ خان، اس وقت کی ڈی جی آر ڈی اے؛ علی عنان قمر، اس وقت کے ڈی سی اٹک؛ وسیم علی تابش، اس وقت کے لینڈ ایکوئزیشن کلکٹر آر ڈی اے اور فرخ نوید، اس وقت کے سی ای او پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اتھارٹی شامل ہیں۔ 

انکوائری رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ آف پنجاب اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے تحت ایک آزاد اور اچھی ساکھ کی حامل انجینئرنگ کنسلٹنگ ٹیم کے ذریعے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن (تیسرے فریق سے رائے حاصل کرنا) کرائی جائے تاکہ راولپنڈی رنگ روڈ اکنامک کوریڈور پروجیکٹ کے حوالے سے موزوں روُٹ کا تعین ہو سکے جس میں سابقہ آپشنز کو بھی مد نظر رکھا جائے۔

اہم خبریں سے مزید