• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہار، 41 برس تک بہروپیا بیٹا بن کر رہنے والے شخص کو 7 سال قید کی سزا

کراچی (نیوز ڈیسک) بھارت میں عدالت نے ایک شخص کو جیل بھیجنے کا حکم سنایا ہے جو 41؍ برس تک ایک امیر زمیندار کا بیٹا بننے کا ڈھونگ کرتا رہا۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، فروری 1977ء میں ریاست بہار کے ایک گائوں مُرگوان میں اسکول کا طالب علم کنہیا سنگھ گھر واپسی پر کھو گیا۔ کنہیا سنگھ ضلع نالندا کے اس امیر زمیندار کامیشور سنگھ کی اکلوتی اولاد تھا۔ متاثرہ خاندان نے بچے کی گمشدگی کی رپورٹ پولیس تھانے میں درج کرائی لیکن بچہ نہ ملا اور کچھ عرصہ بعد تلاش کا یہ سلسلہ بھی انجام کو پہنچا۔ بیٹے کی گمشدگی کے غم میں نڈھال باپ ڈپریشن کا شکار ہوگیا اور سادھو سنتوں کے دروازے پر جا پہنچا جہاں ایک ڈھونگی بابا نے اسے بتایا کہ اس کا بیٹا زندہ ہے اور جلد واپس آئے گا۔ ستمبر 1981ء میں تقریباً 20؍ سال کی عمر کا ایک شخص مرگوان گائوں سے 15؍ کلومیٹر دور ایک اور گائوں پہنچا جس نے گیروُ کپڑے پہن رکھے تھے اور بھیک مانگ کر اپنا گزر بسر کرتا تھا۔ اس شخص نے مقامی افراد کو بتایا کہ وہ مرگوان گائوں کے امیر زمیندار کا بیٹا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ واضح نہیں لیکن جب گمشدہ بیٹے کی خبر اُڑتی ہوئی کامیشور سنگھ تک پہنچی تو وہ اپنے گائوں سے دوسرے گائوں تصدیق کیلئے پہنچا جس کے بعد کچھ لوگوں نے اسے بتایا کہ وہ واقعی اُس کا بیٹا ہے جس پر کامیشور سنگھ اسے اپنے ساتھ لیکر گھر پہنچا۔ پولیس ریکارڈز کے مطابق، بڑھاپے کی وجہ سے کامیشور سنگھ نے مقامی افراد اور پولیس والوں کو بتایا کہ وہ ٹھیک سے دیکھ نہیں سکتا، اگر سب لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ میرا بیٹا ہے تو میں اسے گھر لیجاتا ہوں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کامیشور سنگھ کی اہلیہ نے اس شخص کو دیکھتے ہی پہچان لیا کہ وہ ان کا بیٹا نہیں ہے کیونکہ ان کے گمشدہ بیٹے کے سر پر چوٹ کا نشان تھا جبکہ اس نئے آنے والے شخص کے سر پر ایسی کوئی چوٹ کا نشان نہیں تھا۔ کامیشور کی اہلیہ رام سکھی دیوی نے اس صورتحال پر مقامی پولیس اسٹیشن میں درخواست جمع کرائی جس کے بعد ایک ماہ کی گرفتاری کے بعد مقدمہ شروع ہوا جس میں اس بہروپیے کو ضمانت پر رہائی مل گئی۔ چار دہائیوں تک مقدمہ چلتا رہا لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ضمانت پر رہائی کے بعد بھی یہ بہروپیہ کامیشور سنگھ کے گھر پر اس کا بیٹا کنہیا بن کر رہتا رہا، اپنی تعلیم مکمل کی، شادی کی اور کئی جعلی شناختیں حاصل کیں۔ ان شناختی دستاویزات کی مدد سے اس شخص نے ووٹ ڈالے، ٹیکس ادا کیے، قومی شناخت حاصل کرنے کیلئے بایو میٹرک بھی کرایا، اسلحے کا لائسنس تک حاصل کیا اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ اس نے کامیشور سنگھ کی زمین کے 37؍ ایکڑ تک فروخت کر ڈالے۔ عدالتی کارروائی کے دوران وہ حکام کو چکمہ دیتا رہا، ڈی این اے کرانے سے انکار کیا تاکہ ماں باپ کے ڈی این اے سے میچ کرایا جا سکے حتیٰ کہ اپنی اصل شناخت کے خاتمے کیلئے اس نے اپنی موت کا جعلی سرٹیفکیٹ تک پیش کر دیا۔ اس کیس میں طویل ترین تحقیقات، طویل عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کامیشور سنگھ کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرنے والا شخص دراصل دیانند گوسائیں تھا جو پیشے کے لحاظ سے بھکاری تھا جو گانے اور نغمے گا کر پیٹ پالتا تھا۔ چار دہائی تک جاری رہنے والی اس عدالتی کارروائی میں چار درجن کے قریب ججوں نے سماعت کی اور رواں سال فروری میں عدالت نے پہلی مرتبہ مسلسل 44؍ روز تک سماعت کرکے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ مجرم اپنی موت کا جھوٹا سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی وجہ سے پکڑا گیا، سرٹیفکیٹ میں گوسائیں کی موت کا وقت جنوری 1982ء بتایا گیا تھا جبکہ سرٹیفکیٹ مئی 2014ء میں جاری ہوا تھا جس کے بعد اس معاملے پر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا۔ عدالت نے استغاثہ سے سوال کیا کہ کسی کی موت کے 32؍ سال بعد اس کی موت کا سرٹیفکیٹ کیوں بنایا گیا۔ عدالت نے مجرم کو سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔ جج من ویندر مشرا نے فیصلے میں کہا ہے کہ مجرم نے خود کو کامیشور کا بیٹا کنہیا ثابت کرنے کیلئے خود ’’مار‘‘ کر اپنی موت کا جھوٹا سرٹیفکیٹ پیش کیا۔
اہم خبریں سے مزید