• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی 1947 سے ہر طرح کے تشدد کا شکار

لاہور (صابر شاہ) کراچی 1947 سے ہر طرح کے تشدد کا شکار رہا ہے، خون کی پیاسی کراچی کی سرزمین نے کئی برسوں میں کئی نامور پاکستانیوں کی بھی جان لی۔ 1947 میں فوجیوں نے شہر کی سڑکوں پر گشت کیا تاکہ نسلی مہاجروں اور سندھ کے مقامی باشندوں کے درمیان خونریز جھڑپوں کو روکا جا سکے۔ اس جھگڑے نے تب 170سے زیادہ جانیں لی تھیں۔

جنوری 1948 میں کراچی میں ایک بار پھر 40 گھنٹوں کیلئے کرفیو لگ گیا تھا کیونکہ امن کو یقینی بنانے کے لیے فوج کو بلایا گیا تھا۔ 8جنوری 1953 کو ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کچھ طلباء نے ڈی جے سائنس کالج سے جلوس نکالا اور پولیس نے ان پر گولیاں چلائیں۔

اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو کرفیو لگانا پڑا اور فوج بھیجنی پڑی تاکہ فسادات کو قابو میں کیا جا سکے جس میں صرف 48 گھنٹوں میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جولائی 1972 میں سندھی کو سندھ کی سرکاری زبان قرار دینے پر ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم چھ افراد کے مارے جانے کے بعد یہاں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر چار دنوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 19 مارچ 1983 کو شیعہ سنی جھگڑے کے بعد جزوی کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ کم از کم 127 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مئی 1986 میں پشتونوں اور مہاجروں کے درمیان ہونے والی فائرنگ پر جزوی کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ نومبر 1986 میں مہاجروں اور پشتونوں کے درمیان لسانی فساد نے ایک اور کرفیو کی راہ ہموار کی۔


10 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور فوجیوں کو فسادیوں اور کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ 15 دسمبر 1986 کو نسلی تشدد میں کم از کم 20 افراد مارے گئے تھے جس کے نتیجے میں 21 علاقوں میں کرفیو لگا تھا۔ فوجیوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے پانچ افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

 کم از کم 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مئی 1988 میں کراچی ایک بار پھر کرفیو کی زد میں آگیا تھا جب نسلی تشدد میں 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 16 دسمبر 1988 کو نسلی فسادات میں ہلاکتوں کی تعداد 10 تک پہنچنے کے بعد جزوی کرفیو کا حکم دیا گیا۔ فروری 1991 میں نسلی تشدد میں 14 افراد ہلاک اور 26 دیگر زخمی ہوئے۔ 25 فروری 1995 کو تقریباً 22 افراد مارے گئے۔

دسمبر 1994 میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق تین ہفتے قبل کراچی سے فوج کے انخلاء کے بعد بے مثال تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ فوج کے انخلاء سے 29 ماہ کا آپریشن ختم ہوا۔

پولیس اور نیم فوجی دستے تشدد کو روکنے میں ناکام دکھائی دئیے جس کی وجہ سے 1994 میں 90 سے زیادہ افسران اور 750 سے زیادہ عام شہری مارے گئے۔ جون 1995 میں مہاجر لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی پر تشدد کے نتیجے میں کراچی میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

 لڑکی نے اپنے مرکزی حملہ آور کی شناخت پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما کے طور پر کی تھی۔ 2 اگست 1995 کو ایک منی بس سے 12 افراد (پنجابی اور سندھیوں) کی لاشیں ملی تھیں جبکہ 6 دیگر نامعلوم مسلح افراد کے حملوں میں مارے گئے تھے۔

دسمبر 1995 تک برطانیہ، فرانس، اٹلی اور سعودی عرب کے قونصل خانوں نے شدت پسندوں کی جانب سے پرتشدد دھمکیاں ملنے کے بعد کراچی میں اپنے دروازے بند کرنا شروع کر دیے۔

جنوری 1996 میں کراچی کے مختلف علاقوں میں مہاجر قومی موومنٹ کے چار کارکنوں سمیت نو افراد کو قتل کر دیا گیا۔ 5 جولائی 2003 کو قانون نافذ کرنے والوں کو ایک بار پھر کرفیو کے تحت شہر کی حفاظت کا حکم دیا گیا جو بنیادی طور پر ایک مسجد کے باہر نو شیعوں کے قتل سے شروع ہوا۔

 7 مئی 2004 کو سندھ مدرستہ الاسلام میں ایک خودکش بمبار نے شیعہ مسجد پر حملہ کیا جس میں 15 نمازی جاں بحق ہوئے۔ 31 مئی 2004 کو ایک خودکش حملہ آور نے امام بارگاہ علی رضا مسجد کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس میں 16 نمازی شہید ہو گئے تھے۔

31 مئی 2005 کو کراچی میں ایک شیعہ مسجد پر حملے کے بعد مشتعل ہجوم کی جانب سے جلائے گئے فاسٹ فوڈ کی دکان سے چھ لاشیں برآمد ہوئیں۔ 11 اپریل 2006 کو نشتر پارک میں حضور اکرم ﷺ کے یوم ولادت کی مناسبت سے منعقد ہونے والے ایک مذہبی اجتماع میں بم دھماکے میں سنی (بریلوی) علماء سمیت 50 سے زائد افراد جان سے گئے۔ 28 دسمبر 2009 کو ایم اے جناح روڈ پر شیعہ جلوس پر ہونے والے بم حملے میں کم از کم 42 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

فروری اور اکتوبر 2010 کے درمیان نسلی اور سیاسی جھڑپوں میں 70 سے زائد جانیں گئیں۔ 25 جنوری 2012 کو سٹی کورٹ کے قریب تین شیعہ وکلاء کو نامعلوم مسلح افراد نے قتل کر دیا تھا۔ 3 مارچ 2013 کو کراچی کے عباس ٹاؤن دھماکے میں 28 شیعوں سمیت 51 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تحقیق مزید بتاتی ہے کہ خون کی پیاسی کراچی کی سرزمین نے کئی برسوں میں کئی نامور پاکستانیوں کی جانیں لی ہیں جن میں عالمی شہرت یافتہ پاکستانی قوال امجد صابری، ڈاکٹر سید وحید الرحمٰن (کراچی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر)، خاتون کارکن سبین محمود، ڈاکٹر شکیل اوج (ڈین آف اسلامک اسٹڈیز فیکلٹی جامعہ کراچی)، ایک مشہور مقامی عالم مولانا مسعود بیگ (معروف جامعہ بنوریہ سے وابستہ)، علی اکبر کمیلی (سابق سینیٹر علامہ عباس کمیلی کے بڑے بیٹے)، معروف عالم دین علامہ تقی ہادی نقوی اور ایس ایس پی کراچی کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ چوہدری اسلم سمیت کئی دیگر شخصیات شامل ہیں۔

یاد رہے کہ جون 2013 میں کراچی کے برنس روڈ کے قریب اس وقت کے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر (بعد میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور اب فروری 2015 سے سپریم کورٹ کے جج کے عہدے پر فائز) کے قافلے کو بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے تھے

۔10 جون 2004 کو مسلح افراد نے اس وقت کے کراچی کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل احسن سلیم حیات کو لے جانے والے قافلے پر فائرنگ کر دی تھی جس میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اہم خبریں سے مزید