• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھائیوں کی وزیراعلیٰ پنجاب سے والدین کے قاتلوں کو پکڑنے میں مدد کی اپیل

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) لاہور کے مقتول جوڑے کے اہل خانہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی سے ان ملزمان کی گرفتاری میں مدد کی اپیل کی ہے جنہوں نے 9 مئی 2021 کو لاہور کے سبزہ زار میں ان کے والدین کو قتل کیا اور نامعلوم ہیں اور ان کا سراغ نہیں لگ سکا ہے۔ 70 سالہ سید انیس الدین اور ان کی اہلیہ 60 سالہ ناصرہ بی بی کو 9 مئی کی شام کو نامعلوم قاتلوں نے ان کے گھر میں قتل کر دیا تھا اور اہل خانہ نے شکایت کی ہے کہ لاہور پولیس نے اس حقیقت کے باوجود قاتلوں کو پکڑنے کے لیے کچھ نہیں کیا کہ اہل خانہ نے علاقے سے ایک مشکوک کار کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی ہے۔ سید علی جنید اور سید عمیر، جو لندن میں سیکورٹی کنسلٹنٹ کے طور پر رہتے اور کام کرتے ہیں، نے دی نیوز اور جیو کو واقعے کے بارے میں بتایا۔ سید انیس الدین لندن میں اپنی بہو سے فون پر بات کر رہے تھے کہ ان کے تین منزلہ مکان کے مرکزی دروازے پر کسی نے دستک دی اور سید انیس نے دروازے پر آنے والے کو جواب دینے کیلئے فون کاٹ دیا۔ لندن میں اہل خانہ کی اپنے والدین سے دوبارہ بات نہ ہوسکی کیوں کہ انہیں غالباً اسی شخص نے قتل کردیا تھا جو انیس الدین کے دروازہ کھولنے پر اندر آیا تھا۔ یہ جوڑا گراؤنڈ فلور پر رہتا تھا جبکہ اوپر کی دو منزلوں پر ان کے کرایہ دار تھے جو گیراج میں پارکنگ کے لیے گھر کا ایک ہی سامنے والا گیٹ استعمال کرتے لیکن اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے علیحدہ داخلی راستے استعمال کرتے تھے۔10 مئی 2021 کو جنید اور عمیر کو ان کے ایک کزن نے فون کرکے بتایا کہ ان کے والدین کو قتل کردیا گیا ہے۔ نوکرانی معمول کے مطابق صبح 10 بجے گھر کی صفائی کے لیے پہنچی تھی لیکن کسی نے اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا۔اس نے اس کی اطلاع جوڑے کے رشتہ داروں کو دی جنہوں نے دروازہ کھولا تو اندر سے جوڑے کی لاشیں ملیں جن کی گردن اور جسم کے مختلف حصوں پر چاقو کے تیز زخم تھے۔سید انیس کی پہلی بیوی کا 2008 میں انتقال ہو گیا تھا اور ان کی دوسری شادی 2010 میں ناصرہ بی بی سے ہوئی تھی۔
اہم خبریں سے مزید