• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کسی کے خیالات کی اپنی تحریر میں مزاحیہ نقل اتارنے کو پیروڈی کہتے ہیں۔ پیروڈی اردو ادب اور طنز و مزاح کا قیمتی حصہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ پیروڈی لکھنا اتنا ہی مشکل کام ہے جتنا اچھا شعر لکھنا یا معیاری مزاح لکھنا۔ مجھے یاد پڑتاہے کہ ہمارے زمانہ ٔ طالب علمی میں تعلیمی درسگاہوں میں ادبی تقریبات، تقریری مقابلے، مشاعروں اور بذلہ سنجی کے پھول کھلتے تھے۔ حاضر جوابی اور فقرے بازی طلبہ کا طرہ ٔ امتیاز سمجھی جاتی تھی۔ سائنس اور آرٹس دونوں کے طلبہ شعر و ادب سے دلچسپی رکھتے تھے لیکن آج کے طالب علم کی حدود وقیود کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجھے پیروڈی کا مفہوم بھی لکھنا پڑا ہے۔
عام طور پر جتنا بڑا کوئی شاعر ہوتا ہے یا جتنا مقبول کوئی شاعر ہوتاہے اسی قدر پیروڈی لکھنے والے اس پر طبع آزمائی کرتے اور اس کے کلام کو تختہ مشق بناتے ہیں۔ ہمارے طالب علمی کے دور میں اکثر علامہ اقبالؒ پر طبع آزمائی کی جاتی تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں گورنمنٹ کالج لاہور کا طالب علم تھا تو ہمارے ہوسٹل میں ایک سالانہ ڈنر ہوا کرتا تھا جسے ایک اہم تقریب کادرجہ حاصل تھا یا یوں کہہ لیجئے کہ میلہ لگتا تھا ا ور طلبہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے تھے کیونکہ اس فنکشن میں جہاں ہوسٹل کے بہترین لکھاری اور بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا جاتا تھا وہاں ’’بریڈ ین آف دی ایئر‘‘(Bread man of the year) کا بھی ایوارڈ دیا جاتا تھا جو سب سے زیادہ روٹیاں کھانے والے طالب علم کو ملتا تھا۔ سالانہ ڈنر میں پیروڈی اس فنکشن کا ناگزیر حصہ ہوتی تھی۔ ہمارے ایک ایسے ہی سالانہ ڈنر میں پاکستان کے نامور شاعر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم مرحوم مہمان خصوصی تھے جن کا خود گورنمنٹ کالج لاہور اورہوسٹل سے گہرا تعلق رہا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی تقریر میں پھلجھڑیاں چھوڑتے ہوئے یہ فقرہ کہہ کر محفل کو کشت زعفران بنا دیا کہ مجھے یوں لگتا ہے جیسے نیو ہوسٹل کا باورچی ابھی تک محمد دین ہی ہے جس کے کھانے میں نے کئی برس قبل کھائے تھے کیونکہ وہ پلائو پکائے، مرغ پکائے یا دال پکائے ذائقہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ وہ بڑا مستقل مزاج انسان ہے یکسانیت میں یقین رکھتا ہے اور میں اس کی مستقل مزاجی کو سلام پیش کرتا ہوں۔ پیروڈی کا سیشن شروع ہوا تو ایک طالب علم نے یہ دو اشعار سناکر محفل لوٹ لی۔ علامہ اقبالؒ کے ان دو اشعار کی پیروڈی اس قدر مقبول عام ہوئی کہ میں آج تک اس کا ذکر سنتا آ رہا ہوں:
علامہ اقبالؒ سے معذرت کے ساتھ اس نے ’’عرض‘‘ کیا:
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
ناشتہ تیار ہے
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
دوسری میں باقی فوج تھی
ہوسٹل کے کھانوں کی واردات وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے زندگی کاخاصا حصہ ہوسٹلوں میں گزارا ہو کیونکہ ہوسٹل کے کھانے ایک طرح انسان کے تزکیہ نفس کا حصہ ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ انسان نہ صرف کھانوں کے ذائقوں سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ اکثر اوقات کھانا کھانے سے بھی باغی ہو جاتا ہے۔ اس پس منظر میں ایک طالب علم نے علامہ اقبالؒ پر یوں طبع آزمائی کی:
ہوسٹل کی روٹی نے اکڑ کے یہ کہا
آسان نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
ہوسٹل کی دال سے یوں ہوئیں دست بازیاں
تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا
مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے کئی برس قبل ایک ناول پڑھا تھا جو علی گڑھ یونیورسٹی کی ہوسٹل لائف کے بارے میں لکھا گیا تھا۔ اس ناول کے انتساب نے مجھے چونکا دیا۔ انتساب یوں تھا ’’ان یتیم بچوں کے نام جن کے والدین بقید ِ حیات ہیں‘‘ ہوسٹل میں رہنے والے ایسے ہی ’’یتیم‘‘ بچے ہوتے ہیں جن کے والدین زندہ و سلامت ہوتے ہیں اوروہ ’’اڈیاں چُک چُک‘‘ کر عید کی چھٹیوں اور موسم گرما و سرما کی چھٹیوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔
رام کہانی یا تمہید ذرا لمبی ہوگئی کیونکہ مجھے ماضی کی یادوں نے گھیر لیا تھا اسی لئے تو کہتے ہیں کہ یادِ ماضی عذاب ہے یارب....... اور یہ عذاب بھی اس وقت بنتی ہے جب انسان مصروفیت سے فراغت کے دور میں داخل ہو جاتا ہے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ میں بڑے بڑے موضوعات چھوڑ کر پیروڈی کا ذکر کیوں لے بیٹھا؟ اول تو اس لئے کہ اہم موضوعات پر لکھتے لکھتے میرے قلم کی سیاہی خشک ہوگئی ہے اگرچہ خیالات کی ندی اسی طرح رواں دواں ہے۔ دوم کبھی کبھی آنسو بہانے کی بجائے کھلکھلا کر ہنسنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے ہمیں ہنسنے اور مسکرانے کا موقعہ کم ہی ملا ہے ورنہ تو اخبارات اور ٹی وی چینلز رُلاتے ہی رہتے ہیں، دھمکاتے ہی رہتے ہیں اور خوفزدہ ہی رکھتے ہیں۔
مجھے پیروڈی کی یہ رام کہانی یوں یاد آئی کہ کل ایک ’’شام غریباں‘‘ میں جسے میں انجمن ِ متفکرین پاکستان کہتا ہوں ایک صاحب نے یہ شعر سنایا جو مجھے پسند آیا اور پھر خاصی دیر تک اس کےاصل مفہوم پر بحث ہوتی رہی۔ شعر یہ ہے:
میں اپنے گھر کی اک اک چیز گنتا ہوں ’’فرازؔ‘‘
اک تیرے آنے سے پہلے، اک تیرے جانے کے بعد
احمد فرازؔ مرحوم کے شعر کی پیروڈی خوب ہے لیکن اس پیروڈی نے حاضرین مجلس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ کچھ باذوق صاحبان کا خیال تھا کہ یہ پیروڈی کسی ایسی ظالم حسینہ کے بارے میں ہے جو دل کے ساتھ ساتھ گھر لوٹنے بھی آتی ہے اور اس کی رخصتی کے بعد شاعر چوری کا حساب لگانے میں مصروف ہو جاتا ہے جبکہ میرا ذاتی خیال تھا کہ اس پیروڈی میں ہمارے حکمرانوں پر طنز کی گئی ہے جن کی آمد سے پہلے بھی قوم اپنے گھر کی اک اک شے گنتی ہے اور پھر ان کی رخصتی کے بعد بھی اک اک شے گن کر صدمے سے بے ہوش ہو جاتی ہے۔ یہ واردات ہمارے ساتھ کئی دہائیوں سے ہو رہی ہے اور اسی کارونا شاعر نے اس پیروڈی میں رویا ہے۔آپ کاکیا خیال ہے؟ آپ میرے ساتھ اتفاق کرتے ہیں یا آپ کو کسی ڈاکو حسینہ کا تجربہ ہوچکاہے؟
تازہ ترین