• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر: چوہدری تبریز عورہ۔۔۔ لندن
ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 96برس کی عمر میں آنجہانی ہوگئیں، وہ برطانیہ کی سب سے زیادہ بادشاہی کرنے والی شخصیت تھیں جن کی بادشاہی کا دورانیہ 70 سال پر محیط تھا اپنے دور میں ملکہ نے پیار اور محبت کی ایک ایسی داستان رقم کی جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ، ملکہ کے پیار اور خلوص کی وجہ سے نہ صرف برطانوی شہری بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کے شہری بھی متاثر تھے، ملکہ کی 70سالہ بادشاہی میں ملکہ کی طرف سے کسی بھی ملک یا مذہب ، قوم کے خلاف کوئی بھی متنازع بیان راقم کی نظر سے نہیں گزرا ،یہی وجہ تھی کہ ملکہ کی وفات کے بعد دنیا کے طول و عرض پر لوگ غمگین اور دکھی نظر آئے، ملکہ کی 6ستمبر 2022کو برطانیہ کی نئی وزیر اعظم لز ٹرس کے ساتھ ملاقات ہوئی ، ملاقات کی تصویریں شاہی خاندان کی طرف سے جاری کی گئی تھیں جس میں ملکہ صحت یاب نظر آ رہی تھیں، ٹھیک 2دن بعد یعنی 8 ستمبر کو جب ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کی خبر نشر ہوئی تو لوگوں کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ملکہ ہم میں نہیں رہیں، ملکہ کے انتقال کی خبر پوری دنیا میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی جس کے بعد برطانیہ میں بسنے والے شہریوں نے لندن میں شاہی خاندان کے محل بکنگھم کی جانا شروع کر دیا ، برطانوی حکومت نے 12 روز تک سرکاری سطح پر سوگ کا اعلان اور لندن بریج آپریشن پلان پر عمل درآمد شروع کر دیا، یہ وہ خفیہ پلان تھا جس کو ملکہ الزبتھ کی زندگی میں ہی بنایا گیا تھا کہ جب ملکہ کی وفات ہو گی اس کے بعد اس پلان پر عمل کیا جائے گا، دنیا بھر کے سربراہان مملکت کے تعزیتی پیغامات برطانوی شاہی خاندان کو موصول ہوئے ، دنیا کے مختلف ممالک کے سفارتخانوں میں بھی تعزیتی ریمارکس درج کئے گئے ، دنیا بھر کے میڈیا پر ملکہ برطانیہ کی وفات کی کوریج نمایاں رہی ،ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد ملکہ کے بیٹے چارلس نے اپنی والدہ کی جگہ سنبھال لی ہے اور وہ اب برطانیہ کے بادشاہ بن چکے ہیں، چارلس کے بادشاہ بننے کے بعد ملکہ کا تابوت بارلمول محل سے ایڈنبرا براستہ سٹرک منتقل کیا گیا جس کے بعد 13ستمبر کو رائل ائر فورس کے طیارے سے ملکہ کا تابوت آخری رسومات کے کیلئے لندن منتقل کیا گیا، ایک رات ملکہ تابوت بکنگھم پیلس میں رکھنے کے بعد 14ستمبر کو 4روز کے لیے ویسٹ منسٹر ہال میں رکھا گیا اور لوگوں کی اجازت دی گئی کہ لوگ ملکہ کو خراج تحسین پیش کر سکتے ہیں ملکہ کے تابوت کو دیکھنے اور خراج تحسین پیش کرنے کے لئے قطار میلوں لمبی تھی، اس قطار میں ہر مکتبہ فکر لوگ موجود تھے جن میں بیرونی ممالک سے صرف ملکہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے آئے ہوئے لوگ شامل تھے لوگوں کے جذبات دیدنی تھے جس سے اندازہ لگانا آسان تھا کہ ملکہ کتنی زیادہ دنیا میں مقبول اور محبت رکھتی تھیں ملکہ کی آخری رسومات 19ستمبر بروز سوموار ویسٹ منسٹر ایبے میں ادا کی گئیں، اس روز برطانیہ میں عام تعطیل تھی، ملکہ کی آخر ی رسومات میں دنیاکے مختلف ملکوں کے 500کے قریب لوگ شریک تھے جن کو خصوصی طور پر دعوت نامے جاری کئے گئے تھے، پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کی۔ یورپین ممالک کے سربراہان کے علاوہ امریکہ کے صدر ،کینیڈا، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، بنگلہ دیش کے وزیراعظم بھی شریک تھے، ویسٹ منسٹر ایبے میں شاہی خاندان کے افراد ، برطانوی وزیر اعظم ،سابق وزرائے اعظم ، سنیئر سیاست دان ، بیووکریٹ ، افواج کے نمائیندے بھی شامل تھے ملکہ کے جنازے کو سرکاری جنازے کی حیثیت حاصل تھی ملکہ کے تابوت کو رائل نیوی اور رائل ائر فورس نے خصوصی طور پر توپوں سے سلامیاں پیش کی ملکہ کی آخری رسومات کے دن سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے پولیس کے ساتھ فوجی دستوں نے سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیئے، ملکہ کے تابوت کو شاہی پرٹوکول میں ویسٹ منسٹر ایبے سے براستہ ہارڈ پارک کارنر ونڈسر کاسل منتقل کیا گیا وہاں پر ملکہ کی تدفین کی گئی ملکہ کی آخری رسومات کی دنیا بھر کے میڈیا نے لائیو کوریج دی جس کو کروڑوں افراد نے براہ راست دیکھا، ملکہ کے تابوت کے راستے پر بھی لاکھوں لوگ موجود تھے جنہوں نے ملکہ کے آخری سفر کے موقع پر ملکہ کو خراج تحسین پیش کیا ۰ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی 70سالہ بادشاہی سے ایک بات ثابت ہوئی ہے جو بادشاہ اپنی قوم کی فکر کرتے ہیں اور ان کی بہتری کے لئے کام کرتے ہیں وہ اپنی عوام کا پیار حاصل کر لیتے ہیں اور عوام اپنے بادشاہ کوجو خراج تحسین پیش کرتے ہیں وہ رہتی دنیا تک مثال بن جاتی ہے۔
یورپ سے سے مزید