• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پانی فراہم کرنے والی 11 کمپنیوں پر جرمانے کا اعلان، پانی کے گھریلو بلز میں 150 ملین پونڈ کمی کا امکان

لندن (پی اے/ہارون مرزا) پانی کی فراہمی سے متعلق ریگولیٹر نے پانی فراہم کرنے والی 11 کمپنیوں پر جرمانےکرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پانی کے گھریلو بلز میں 150 ملین پونڈ کمی کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔آف وا ٹ کا کہنا ہے کہ پانی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پانی کی فراہمی میں خلل،آلودگی کے واقعات اور اندرونی سیور فلڈنگ کے حوالے سے مقررہ حدود پوری نہ کرنے کی وجہ سے جرمانہ کیا جا رہا ہے۔ ٹیمز واٹر اور سدرن واٹر نے سب سے زیادہ خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انھیں اپنے صارفین کو کم وبیش 80 ملین پونڈ واپس کرنا ہوں گے لیکن ایسی دوسری کمپنیاں، جنھوں نے مقررہ حدود سے بڑھ کر کام کیا ہے، وہ صارفین سے مزید رقم لے سکیں گی، یعنی ان کے صارفین کے بل زیادہ آئیں گے۔ ریگولیٹر کے نقطہ نظر سے انگلینڈ کے لاکھوں مکینوں کو پانی فراہم کرنے والے ادارے سیون ٹرینٹ نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب وہ صارفین کے بلز میں اگلے سال63 ملین پونڈ کا اضافہ کرسکے گی۔ آف واٹ کا کہنا ہے کہ تمام واٹر کمپنیوں کو افراط زر کے تناسب سے صارفین کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ کچھ کمی افراط زر کی وجہ سے ہونے والے اضافے کی نذر ہوجائے گی۔ آف واٹ انگلینڈ اور ویلز کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ بلیک کا کہنا ہے کہ جب صارفین کو رقم واپس کرنے کا موقع آتا ہے تو بہت سی کمپنیاں ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہیں اور ہم انھیں اپنے صارفین کو 150ملین پونڈ واپس کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کمپنیاں ہر سال اپنی کارکردگی کو پہلے سے بہتر بنائیں گی اور اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو ہم انھیں پکڑیں گے، تمام واٹر کمپنیوں کو صارفین اور عوام کا اعتماد حاصل کرنا چاہئے، ہم اس سیکٹر کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کرتے رہیں گے۔ آف واٹ نے واٹر کمپنیوں کی جانچ پڑتال خشک سالی کے دوران اور بعض علاقوں میں موسم گرما کے ہیٹ ویو کے دوران ہوس پائپ کے استعمال پر پابندی کے دوران کی۔ ڈیوڈ بلیک نے اگست میں کہا تھا کہ بعض علاقوں میں پانی کے رساؤ کی وجہ سے مقررہ ہدف پورا کرنا مشکل ضرور ہے لیکن یہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بعض کمپنیوں کی کارکردگی پر انھیں تشویش ہے۔