• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹریڈ آفیسر طاہر چیمہ مدت مکمل ہونے کے باوجود جاپان میں تعینات

ٹوکیو (عرفان صدیقی) جاپان میں کئی پاکستانی کاروباری شخصیات، سینئر پاکستانی اور پاکستانی صحافی پر جعلی اور جھوٹے کیس بنوا کر کمیونٹی اور پاکستان کو جاپان میں بدنام کرنے والا با اثر کمرشل اینڈ ٹریڈ آفیسر طاہر حبیب چیمہ ، نیب اور وزارت تجارت میں جاری انکوائریوں اور جاپان میں مدت ملازمت مکمل ہونے کے باوجود عہدے پر تعینات ہیں اور معاملہ سینیٹ میں پہنچ گیا۔ سینیٹر افنان اللہ خان نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو جاپان میں پاکستانی سفارتخانے میں تعینات کرپٹ کمرشل اینڈ ٹریڈ آفیسر طاہر حبیب چیمہ کے حوالے سے خط تحریر کردیا۔ تفصیلات کے مطابق جاپان میں اس وقت کے سفیر پاکستان امتیاز احمد کی جانب سے اجازت نہ دینے اور سخت ہدایات کے باوجود جاپان میں پاکستانی کاروباری شخصیت اور اہم کاروباری تنظیم پاک جاپان بزنس کونسل کے صدر رانا عابد حسین کے خلاف ان کے کاروباری پارٹنر کو سفارتی عہدے کا ناجائز استعمال کرتےہوئے خفیہ خطوط لکھے پاک جاپان بزنس کونسل کو بغیر ثبوت جعلی قرار دیا اور کاروباری تعلق ختم کرنے کے لیے سفارتی دباؤ ڈالا جس میں ناکام ہوئے تو بعد میں سفیر پاکستان بن کر رانا عابد حسین کی پارٹنر جاپانی کمپنی کے مالک کو فون کرکے رانا عابد حسین کے ساتھ کاروبار ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ، جاپانی کمپنی نے تصدیق کی ، اس وقت کے سفیر پاکستان امتیازاحمد نے سختی سے تردید کردی کہ انھوں نے کبھی رانا عابد حسین کے خلاف مذکورہ کمپنی کو فون نہیں کیا اور نہ ہی طاہر حبیب چیمہ کو ایسی کوئی ہدایات کی ، طاہر چیمہ ان کے منع کرنے کے باوجود اپنے طور پر اقدامات کرتا رہا ، جاپان میں مقیم پاکستانی خاتون کیخلاف پاکستان میں کسٹم میں جھوٹی ایف آئی آر کٹوائی ، عدالت نے پہلی پیشی پر ہی کیس یہ کہہ کر ختم کردیا کہ کیس میں نہ کوئی جی ڈی فائل ہوئی ، نہ کوئی گاڑی کلیئر ہوئی اور نہ ہی سرکاری خزانے کو کسی طرح کا نقصان پہنچا ،لہٰذا کیس ختم کیا جاتا ہے، پاکستانی سفیر کی سخت ہدایت اور منع کرنے کے باوجود سینئر صحافی کیخلاف جاپانی پولیس میں جھوٹا کیس درج کرایا ، صحافی اس کی کرپشن میڈیا پر لانے کی تیاری کررہا تھا ۔ پولیس نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ جو کاغذ طاہر حبیب چیمہ نے پولیس کو کیس درج کرانے کے لیے دیا ہے وہی جعلی ہے ، پولیس کو شک ہے کہ مبینہ طور پر سفارتخانے میں طاہر حبیب چیمہ نے ہی تیار کیا ہے ، پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دو دفعہ پولیس نے طاہر حبیب چیمہ کے موبائل فون اور کمپیوٹر چیک کرنے کے لیے سفارتی حکام سے رابطہ کیا لیکن دونوں دفعہ سفارتی حکام نے سفارتی استثنیٰ کا کہہ کر کر اجازت دینے سے انکار کیا ، صرف یہی نہیں طاہر حبیب چیمہ نے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے رانا عابد حسین کے خلاف اپنی آفیشل ویب سائٹ اور فیس بک پیج پر منفی خبریں بھی شائع کیں جس میں کہا گیا تھا کہ رانا عابد حسین اور جعلی بی ایل کے خلاف جاپانی پولیس کی انکوائری جاری ہے جیسے ہی تحقیقات مکمل ہونگی اس کی خبریں ویب سائٹ اور میڈیا پر جاری کی جائیں گی لیکن جب طاہر چیمہ جاپان میں کیس ہارنے کے بعد خود مجرم ثابت ہوا تو آج تک سفارتخانے نے طاہر چیمہ کے خلاف کوئی خبر جاری نہیں کی ، پانچ جاپانی کمپنیوں نے بھی رشوت اور تحائف کے لیے دباؤ ڈالنے پر طاہر چیمہ کے خلاف تحریری شکایات درج کرائیں تھیں وہ خبر رکوانے کے لیے بھی طاہر چیمہ نے کئی دفعہ سینئر صحافی پر دباؤ ڈالا تھا جب اس میں ناکام رہا تو ان پر جعلی مقدمہ درج کرایا گیا جو بعد میں مقدمہ جعلی ثابت ہوا اور طاہر چیمہ کو سفارتی استثنیٰ لینا پڑا ، صرف یہی نہیں طاہر چیمہ کا قریبی عزیز اور مبینہ کاروباری پارٹنر عتیق چیمہ دو سال سے جاپان کی جیل میں قید ہے ، جبکہ طاہر چیمہ کی جاپان میں کئی اہل خانہ اور رشتہ داروں کے نام پر پراپرٹیز بنانے کا بھی الزام ہے ، پاکستان میں نیب اور وزارت تجارت میں جاری سنگین انکوائری کے بعد معلوم ہوا ہے کہ طاہر چیمہ نے کئی جاپانی کمپنیوں میں ملازمت کے لیے درخواستیں بھی دیں ہیں جس میں سے ایک کمپنی نے اس بات کی تصدیق بھی کی ہے اور طاہر چیمہ کی جانب سے فراہم سی وی بھی پیش کیا ہے ،دوسری جانب حال ہی میں جاپان کا دورہ کرنے والے وفاقی وزیر سے طاہر چیمہ نے جاپان میں اپنی مدت ملازمت میں توسیع کی بھی سفارش کی ہے، اس حوالےسے جاپان سے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے پاکستانی سفیر امتیاز احمد نے تصدیق کی ہے کہ طاہر چیمہ نے ان کی اجازت کے بغیر پاک جاپان بزنس کونسل کے صدر رانا عابد حسین کے خلاف کارروائی شروع کی جبکہ انھیں بھی پتہ چلا تھا کہ طاہر چیمہ نے رانا عابد حسین کے بزنس پارٹنر کو سفیر بن کر فون کیا ہے انھیں اس بات کا بالکل معلوم نہیں تھا اور یہ بات انھوں نے رانا عابد حسین کو بتا بھی دی تھی جبکہ پاکستانی صحافی کے خلاف بھی ان کے سختی سے منع کرنے کے باوجود طاہر حبیب چیمہ نے پولیس میں رپورٹ درج کرائی جس کے حق میں وہ بالکل نہیں تھے اور وہ آخر تک وہ کوشش کرتے رہے کہ معاملہ بات چیت سے حل کرلیا جائے لیکن طاہر چیمہ نے میری بات ماننے سے انکار کردیا اور انھیں خوشی ہے کہ پولیس نے سینئر پاکستانی صحافی کو ان جھوٹے الزامات سے بری کردیا ، ان الزامات کے حوالے سے طاہر حبیب چیمہ سے بار بار پہلے واٹس اپ پر رابطہ کیا گیا جس میں طاہر حبیب چیمہ نے تمام سوالات آفیشل ای میل پر بھیجنے کے لیے کہا جبکہ بار بار سوالات بھیجنے اور یاددہانی کے باوجود آخر تک ان سوالات کا جواب نہیں دیا۔
اہم خبریں سے مزید