• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

توہین عدالت کی درخواستیں، سپریم کورٹ کا نیا بینچ بنانے کی ہدایت

اسلام آباد(رپورٹ:،رانامسعود حسین) سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر نے جنگ ،جیو میڈیا گروپ کے سربراہ ،میر شکیل الرحمان ،ان کے صاحبزادے میر ابراہیم اورجیوکے اینکر پرسن شاہزیب خانزادہ اور ادارہ انڈیپنڈنٹ میڈیا کارپوریشن وغیرہ کی جانب سے پی ٹی آئی دور کے وفاقی وزیرِ مملکت ،عامر لیاقت حسین( مرحوم )اور بول میڈیا گروپ انتظامیہ کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستوں کی سماعت سے معذرت کر لی ،جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس شاہد وحید، جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے سوموار کے روز توہین عدالت کیس کی سماعت کی تو جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ماضی میں بطور وکیل جنگ جیو سے منسلک رہا ہوں،اس لئے خود کو اس مقدمہ سے علیحدہ کرررہاہوں ، جس پر عدالت نے معاملہ کسی ایسے بینچ کے سامنے مقرر کرنے کے لئے متعلقہ آفس کو واپس بھیج دیا اور نیا بینچ بنانے کی ہدایت جاری کردی،دورانِ سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ عامر لیاقت حسین پہلے ہی معافی مانگ چکے ہیں ،عدالت نے ان کی معافی قبول کر لی تھی۔ انہوں نے کہاکہ اگر مرکزی ملزم کا انتقال ہو چکا ہو تو دیگر ملزمان کے خلاف کیس خود بخود ختم ہو جاتا ہے، تاہم اگر درخواست گزار مقدمہ کوچلانا چاہتے ہیں تو وہ اس کی سماعت نہیں کریں گے، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سید رفاقت حسین شاہ نے کہاکہ پٹیشنرز باقی ملزمان کیخلاف کیس چلانا چاہتے ہیں،سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی جائے،انھوں نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کے وکیل فیصل صدیقی علیل ہیں اس لئے حاضر نہیں ہوسکے انہوںنے وکیل کی علالت کے باعث مزید سماعت اگلے ہفتہ تک ملتوی کرنے کی استدعا کی،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور مرتکب توہین کے درمیان ہوتا ہے، درخواست گزار کا کردار صرف ایک اطلاع دینے والے شخص کا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ اس کا کوئی کردار نہیں ہوتا،بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے نئے بینچ کی تشکیل  کے لئے ہدایات جاری کردیں ،یاد رہے کہ  13 دسمبر 2018 کو اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے جنگ اور جیو گروپ کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے کے خلاف دائر توہین عدالت کا مقدمہ اس وقت کے پی ٹی آئی کے ایم این اے  و اینکر پرسن عامر لیاقت حسین کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگنے پر نمٹا دیا تھا،ملزم عامر لیاقت نے عدالت اور جنگ و جیو گروپ کے چیف ایگزیکٹو میر شکیل الرحمن، میر ابراہیم اور دیگر سے غیر مشروط معافی مانگی تھی،اس سے قبل 7 نومبر 2018 کو عدالت نے ملزم عامر لیاقت حسین کی معافی مسترد کرتے ہوئے اس پر فردِ جرم عائد کی تھی، جس پر اس نے صحتِ جرم سے انکار کیا تھا،درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ ملزم عامر لیاقت نے عدالت میں یہ حلف نامہ دینے کے باوجود کہ وہ اپنے پروگرام میں درخواست گزاروں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس نہ دینے کا بیان دینے کے باوجود ، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بار پھر جنگ ، جیو میڈیا گروپ کے سربراہ ، میر شکیل الرحمن،میر ابراہیم اور شاہزیب خانزادہ پر غداری کے فتوے لگاتے ہوئے ،انہیں "انڈین ایجنٹ" قرار دیا ہے، نیز مذہبی بنیادوں پر بھی ان کے خلاف نفرت انگیز تقریرکی ہے ،عدالت کی جانب سے جاری فردِ جرم کے مطابق ملزم عامر لیاقت حسین نے 9 مارچ 2017 کے پروگرام میں عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے ،جو آئین کے آرٹیکل 204 اور توہینِ عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت جرم کے زمرہ میں آتے تھے،  فرد جرم  کے مطابق  ملزم عامر لیاقت نے، بول ٹی وی چینل پر 9 مارچ 2017 کو نشر ہونے والے پروگرام ایسا نہیں چلے گا میں سپریم کورٹ کی جانب سے سی پی ایل اے نمبر 2017/541 میں پاس کردہ 6 مارچ 2017 کے حکمنامہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیلے پیلے کے میر شکیل الرحمن کو بھی، فادر آف بھارت کو بھی، سن آف بھارت کو بھی، ان کے تمام اینکرز کو بھی سب جو جلنے والے ہیں، حسد کرنے والے ہیں، سب کو یہ گانا ڈیڈیکیٹ کر رہا ہوں ،پیار سے، گانا ہمیشہ پیار سے ڈیڈیکیٹ کیا جاتا ہے، آپ مجھ سے جلتے رہیں،فردِ جرم میں مزید لکھا گیا کہ، 7 مارچ 2017 کو آپ نے مذکورہ پروگرام میں یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان ایک عظیم قوم ہے اور اس کے لوگ اس سے بھی زیادہ عظیم ہیں، نجم سیٹھی ایک غدارشخص ہے جسے شرم سے مر جانا چاہیے،تاہم تمام تر قانونی کارروائیوں اور فردِ جرم کے باوجود ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم بنچ نے ، دسمبر 2018 میں ملزم عامر لیاقت کی جانب سے غیر مشروط معافی نامہ جمع کروانے کے بعد یہ معاملہ ختم کر دیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید