• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

دنیائے فٹبال کے سب سے بڑے میلے کے آغاز میں چند دن

کھیلوں کی دنیا کا سب سے بڑا میلہ فیفا ورلڈ کپ فٹ بال قطر میں شروع ہونے میں چند دن ہیں، دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اس کھیل کے دیوانے متوالے اپنے اپنے انداز میں اس کے آغاز سے قبل گلیوں ، محلوں اور گراؤنڈز کو اپنی پسندیدہ ٹیموں کے پرچموں اور کھلاڑیوں کی تصاویر سے سجانے میں مصروف ہیں۔ ڈسٹرکٹ سائوتھ،کیماڑی، ملیر، سینٹرل اور دیگر علاقوں میں فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلئے بڑی بڑی ٹی وی اسکرین لگانے کی بھی تیاریاں ہورہی ہیں۔ 

سٹے باز بھی فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل اپنی سرگرمیوں اورکاروبار کے وسعت میں مصروف نظر آرہے ہیں، ابھی سے برازیل، انگلینڈ اور فرانس کو ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے فیورٹ قرار دے رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا کوئی ملک اس عالمی مقابلے کی میزبانی کر رہا ہے اور ایسا بھی پہلی بار ہو رہا ہے کہ ورلڈ کپ فٹ بال مقابلے موسمِ سرما میں منعقد ہو رہے ہیں لیکن یہ مشرق وسطی کا ایسا ملک ہے جہاں دیگر ممالک کی نسبت سردی کم ہوتی ہے، موسم خواشگوار رہتا ہے۔ ٹورنامنٹ 20 نومبر سے 18دسمبر تک کھیلا جائے گا۔

ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے میں22دنوں کے دوران دنیابھرکے ٹاپ 32 ممالک کی ٹیمیں نبر آزما نظرائیں گی، عالمی فٹ بال میں اپنی حکمرانی کو ممکن بنانے کی کوشش کریں گی۔ رقبے کے لحاظ چھوٹے ترین ملک قطر میں ہونے والے ایونٹ کے میچوں کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں کی تعداد میں شائقین قطرآئیں گے۔ فیفا ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں کو آٹھ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ایک ہی برِاعظم کی ٹیموں کو الگ الگ گروپ میں رکھا گیا، ایک گروپ میں زیادہ سے زیادہ دو یورپی ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ گروپ اے میں میزبان قطر کو رکھا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر ٹیموں میں ایکواڈور، سینی گال اور ہالینڈ شامل ہیں جبکہ گروپ بی میں انگلینڈ، ایران، امریکا اور ویلز، گروپ سی میں ارجنٹائن، سعودی عرب، میکسیکو اور پولینڈ، گروپ ڈی میں فرانس، آسٹریلیا، ڈنمارک اور تیونس، گروپ ای میں اسپین، کوسٹاریکا، جرمنی اور جاپان، گروپ ایف میں بلجیم ، کینیڈا، مراکش اور کروشیا، گروپ جی میں برازیل، سربیا، سوئٹزرلینڈ، کیمرون اور سب سے آخری گروپ ایچ میں پرتگال، گھانا، یوراگوئے اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ 

گروپ مرحلے میں روزانہ چار میچ کھیلے جائیں گے اور ہر گروپ سے دو ٹیمیں اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے سابق صدر سیپ بلاٹر نے قطر کو ورلڈکپ 2022 ءکی میزبانی دینے کے اپنے فیصلےکو غلط فیصلہ قرار دیا تھا۔ طویل عرصے تک فیفا کی صدارت پر براجمان رہنے والے سیپ بلاٹر 2010 میں فٹ بال کی عالمی گورننگ باڈی کے صدر تھے جب قطر کو 2022 کے فٹبال ورلڈکپ کی میزبانی سونپی گئی تھی۔

دنیا کے مشہور و معروف جریدےکو دیئے گئے انٹرویو میں فیفا کے سابق صدر کا کہنا تھا کہ میں اس وقت صحیح تھا کہ قطر کو 2022 کے ورلڈکپ کی میزبانی نہیں دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھاکہ قطر ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے ایک بہت چھوٹا ملک ہےاور فٹبال ورلڈ کپ اس کے لیے بہت بڑا ہے۔ دنیا کے اس بڑے ایونٹ کو اس کے شایان شان رقبے کے لحاظ سے کسی بڑے ملک میں منعقد کروانا چاہئے تھا ۔ فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 12 سال قبل امریکا کے بجائے قطر کو 14 میں سے 8 ووٹ دے کر ایونٹ کی میزبانی کیلئے منتخب کیا تھا۔ فیفا کے سابق صدر کا کہنا تھا کہ میں اس میں وقت صدر کی حیثیت سے اس کا ذمہ دار تھا۔ 

یوئیفا کے سابق صدر مائیکل پلاٹینی اور ان کی ٹیم کے چار ووٹوں کی بدولت ورلڈ کپ کی میزبانی امریکا کے بجائے قطر کو مل گئی۔ بلاٹر نے17 سال فیفا کے صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں لیکن پھر 2015 میں غیر قانونی طور پر یوئیفا کے سابق صدر مائیکل پلاٹینی کو 20 لاکھ ڈالرز سے زائد رقم منتقل کرنے کے الزام میں انہیں عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ قطر کو دنیا کا چوتھا امیر ترین ملک قرار دیاجاتا ہے۔ قطر مغربی ایشیا کا ایک ایسا ملک ہے جو جزیرہ نما عرب میں واقع ہے۔ 

اس کی زمینی سرحد خلیج فارس اور خلیج بحرین سے ملتی ہیں۔ خلیج فارس قطر کو بحرین سے الگ کرتا ہے۔ قطر کی موجودہ آبادی 2,995,469 ہے۔ یہ دنیاکا واحد ملک ہوگا جس کے اپنے لوگوں کی آبادی انتہائی کم ہے۔ ملک کی کل آبادی کا صرف 10فیصد قطری ہیں، اس ملک میں آباد دیگر ممالک کے لوگوں میں 13فیصد عرب، 21.8فیصد ہندوستانی، 7.35فیصد فلپائنی،12.5 فیصد نیپالی، 2.5 فیصد بنگلہ دیشی، 9.35 فیصد مصری اور 4.35فیصد سری لنکن ہیں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید