• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قطر ورلڈکپ، گولڈن بوٹ کے حقدار گول کرنے پر جشن، ابوبکر کو ریڈ کارڈ

دوحا(جنگ نیوز) قطر فیفا ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے تک فرانس کے کائلیان ایمباپے اور انگلینڈ کے مارکس یشنورڈ تین تین گول کے ساتھ گولڈن بوٹ ایوارڈ کے امیدوار ہیں ٹائٹل ہولڈر فرانس اور 1966ء کے ورلڈ چیمپئنز انگلینڈ دونوں ہی ناک آئوٹ پری کوارٹر، فائنل کھیلنے تک کوالیفائی کر چکے ہیں، آئندہ مراحل میں آگے بڑھنے کے امکانات پر ان سے مزید گول کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ پری کوارٹر فائنل میں آنے والے دیگر ٹیموں کے ’’ڈارک ہاوسز‘‘ بھی امیدیں باندھی جا سکتی ہے۔ ہالینڈ کے کوڈی گیکپو اور اسپین کے الوارومورانا بھی تین تین گول کے ساتھ لائن میں ہیں۔ ارجنٹائن کے مسی، برازیل کے پرچالسن، انگلینڈ بکایوساما، فرانس کے اولیور جیرو اور فیرن ٹورپس، پرتگال کے برونوفرنانڈیز، بریل ایمبولو (سوئٹزرلینڈ) اور آندرے کرامارچ (کروبشیا) دو دو گول کے ساتھ ان کے تعاقب میں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹورنامنٹ مکمل ہونے پر یہ اعزاز کسی کے حصہ میں آتا ہے؟ کیمرون کے ابوبکر کو برازیل کے خلاف گول کرنے کا ’’خمیازہ بھگتنا پڑا۔ انہوں نے اپنے تاریخی گول بنانے کے لیے اپنی جرسی اتاری جس پر ریفری نے انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر گرائونڈ سے باہرکردیا۔ جنوبی کوریا کے پرتگالی کوچ پائولوبنٹو کوگھانا کے خلاف گروپ میچ میں شکست پر احتجاج کی سزا جھیلنا پڑیں اور ریفری نے انہیں ریڈ کارڈ دکھا کر سائیڈ لائن سے اسٹینڈ پر بھیج دیا۔ ویلز کے وین ہینسی کیمرون کے ابوبکر پر فائول کیا جس پر ریفری نے ریڈ کارڈ دکھا کر انہیں گول پوسٹ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ یہ دوسرا یلو کارڈ تھا جو ازخود ریڈ کارڈ میں تبدیل ہوا تھا۔ کیمرون کے ہاتھوں غیر متوقع ہار کے باوجود برازیل ورلڈ کپ مقابلوں میں مسلسل 11ویں بار گروپ، چیمپئن رہا۔ 1978ء کے ورلڈ کپ میں وہ آخری بار دوسرے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہا تھا۔ نظم و ضبط کے لحاظ سے بھی 2022ء کا ورلڈ کپ مثالی رہا جس کے پہلے مرحلے میں صرف 6 ریڈ کارڈز دکھائے گئے۔ 2018ء کے گزشتہ ورلڈ کپ میں 18اور 2002ء کے ورلڈ کپ میں 13ریڈ کارڈز دکھائے گئے تھے۔ اس بار ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں یورپ سے 8، ایشیا و آسٹرویشیا سے جاپان، جنوبی کوریا اورآسٹریلیا ریکارڈ تین ٹیمیں، افریقا سے دوگروپ چیمپئن مراکش اور سینیگال، جنوبی امریکا سے برازیل اور ارجنٹائن، شمالی امریکا سے ریاست ہائے متحدہ امریکا ناک آئوٹ مرحلے میں آئے ڈنمارک، جرمنی، بیلجئم اور ویلز کی ٹیمیں جو اسٹار پروفیشنل فٹبالرزہیں۔ وہ توقعات پرپوری نہ اتریں اور ٹورنامنٹ سے باہرہوگئیں۔ ڈنمارک کے کرسچن ایرکسن،بیلجئم کے کیونی ڈی برائن، جرمنی کے تھامس ملر اور ویلز کے گارتھ بیل کو اولین پروازوں سے ہی گھرلوٹنا جانا پڑا۔ 32ٹیموں کا ورلڈ کپ 1998ء میں پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا جو 2022ء میں آخری رہا۔ 2026ء کاورلڈ کپ میکسیکو ، امریکا اور کینیڈا مشترکہ طور پر 48ٹیموں کے ساتھ منعقد کریں گے۔