• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹکٹ آفسز کی بندش سے معذور اور معمر مسافر متاثر ہوں گے، ریلوے ورکرز

لندن (پی اے) ریلوے ورکرز نے متنبہ کیا ہے کہ ٹکٹ دفاتر کو بند کرنے کے منصوبے کا معذور اور معمر مسافروں پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔ یہ بات ٹکٹ آفسز میں کام کرنے والے ریل، میری ٹائم اور ٹرانسپورٹ یونین (آر ایم ٹی) کے 1000 سے زائد ارکان سے ارکان کے سروے میں سامنے آئی ہے۔ تمام جواب دہندگان کا خیال ہے کہ ان ٹکٹ آفسز کی بندش کا مطلب یہ ہے، بوڑھوں اور معذور افراد کیلئے نیٹ ورک تک رسائی مشکل ہو جائے گی۔ بیشتر جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ ٹکٹ آفسز کو بند کرنے اور مسافروں کو مشینوں سے ٹکٹ یا آن لائن بکنگ کروانے کا کہنے سے معذور اور معمر افراد کی ریلوے تک رسائی خراب ہو جائے گی۔ اس سروے میں پانچ میں سے چار جواب دہندگان یعنی 80 فیصد کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اپنے سٹیشن پر سٹافنگ کی کمی کی وجہ سے انہیں پہلے ہی ایسا تجزبہ ہو چکا ہے۔ بہت سے معذور افراد آن لائن ٹکٹنگ یا ٹکٹ وینڈنگ مشینز کا استعمال نہیں کر سکتے اور وہ اپنی ٹکٹس کی بکنگ اور سفر کے بارے میں مشورے کیلئے ان ٹکٹ آفسز پر انحصار کرتے ہیں۔ آر ایم ٹی یونین کے جنرل سیکرٹری مک لنچ نے کہا کہ ٹکٹ اینڈ بکنگ آفسز کی بندش کا منصوبہ ان معذوروں اور معمر افراد کیلئے مسائل پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ سفری مشکلات کو بڑھا دے گا جو ریل نیٹ ورکس کے ذریعے سفر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ پلان ان کیلئے دھوکہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ورکرز مسافروں کی ضروریات جاننے کے حوالے سے مہارت رکھتے ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ ان ٹکٹ آفسز کو بند کرنے کا پروگرام ریل مسافروں کیلئے تباہ کن ہوگا۔ اس پلان کی پورے سیاسی اپوزیشن سپیکٹرم کی جانب سے مخالفت کا اظہار کیا گیا ہے اور حکومت کو اس صورت حال اور پلان سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو سمجھنا چاہئے اور ٹکٹ آفسز بند کرنے کی نقصان دہ تجاویز کو ختم کرنا چاہئے۔ ان ٹکٹ آفسز کی بندش بھی ریل ورکرز کے تنخواہ، جابس اور شرائط کار کے جاری تنازع میں شامل ایشوز میں سے ایک ہے۔
یورپ سے سے مزید