• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قوم کو نیا سال مبارک ہو۔ دعا ہےکہ یہ سال پاکستان اور ہم سب کیلئے آسانیوں کا سال ہو۔آج اس نئے سال کو علم الاعداد کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ پاکستان اور دنیا کیلئے یہ سال ممکنہ طور پر کیسا رہے گا لیکن پہلے ایک وضاحت ضروری ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ علم الاعداد ممکنات اور اشاروں پر مبنی ہے۔ جس کے ذریعے آنیوالے وقت میں اچھے برے حالات سے امکانی طور پر آگاہی حاصل ہوسکتی ہے۔ کسی کام کا ہونا یا نہ ہونا یا کب ہونا یہ صرف اللہ پاک ہی جانتا ہے اور ہر کام وہر چیز اللہ رحیم وکریم کے حکم کے تابع ہے۔ جیسے کہ محکمہ موسمیات والے، موسم کے بارے میں صرف امکان ظاہر کرتے ہیں۔ قطعی طورپر کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ ایسا ہی ہوگا۔ کوئی کسی کو کہے کہ میٹھا کم استعمال کریں اس سے شوگر ہوسکتی ہے۔ اسی طرح علم الاعداد بھی ممکنات کی بنیاد پرصرف آگاہ یا خبردار کرسکتا ہے۔علم الاعداد کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے اس نئے سال کے بارے میں جو امکانات نظر آتے ہیں وہ پیش خدمت ہیں۔ سال2023کا نمبر ایک روحانی اور مدوجزر کا نمبر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سال روحانیت سےتعلق رکھنے والوں کو بعض منزلیں طے کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ علاوہ ازیں لوگ مذہب اور روحانیت کی طرف زیادہ رجوع کرسکتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دین اسلام کی ترقی کیلئے ایک اچھا سال ہوگا ۔ مدوجزر کے حوالے سے یہ سال پوری دنیا میں معاشی طور پر عدم استحکام کا سال نظر آتا ہے۔ مختلف ممالک میں سیاسی استحکام اور امن وامان کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں لیکن پہلے وطن عزیز پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ ممکنات ہیں، کوئی بات قطعی نہیں ہے۔پاکستان کیلئے اس سال مشکلات نظر آتی ہیں۔ معاشی وسیاسی عدم استحکام میں کمی نظر نہیں آتی۔ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومت کوان کے تدارک کیلئے باخبر اور مستعد رہنا چاہئے ۔ سیاسی حوالے سے بات کی جائے تو اس سال الیکشن نظر نہیں آتے۔ اگر الیکشن کرائے بھی جائیں تو ملک کے معاشی وسیاسی حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ البتہ ملک میں حالات کے پیش نظر ہنگامی اقدامات ممکن ہیں اور ایک غیر سیاسی حکومت کا قیام نظر آتا ہے جو مختصر مدت کیلئے نہیں ہوگی ۔ شہباز شریف اس سال موجودہ عہدے سے فارغ ہوسکتے ہیں۔ نواز شریف کی وطن واپسی فی الحال نظر نہیں آتی۔ ممکن ہے وہ اس سال بھی واپس نہ آئیں۔ عمران خان نااہل اور جیل جاسکتے ہیں، ان کی جماعت تتر بتر ہوتی نظر آتی ہے۔ ان کے بہت قریبی لوگ ان سے علیحدگی اختیار کرسکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) سیاسی طور پر بہت کمزور پوزیشن میں نظر آتی ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی کا مستقبل میں کوئی سیاسی کردار نظر نہیں آتا۔ پیپلز پارٹی کی پنجاب اور بلوچستان میں پوزیشن بہتر ہوسکتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت صوبہ کے پی میں مضبوط نظر آتی ہے۔ ایم کیوایم پاکستان کے دھڑے متحدہوتے نظر آتے ہیں اور کراچی وحیدرآباد پر ان کی گرفت مضبوط ہوسکتی ہے۔ ملک میں ایک نئی سیاسی جماعت کا قیام ہوسکتا ہے۔ معاشی مشکلات ،مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ نظر آتا ہے۔ ملک کو خدانخواستہ کسی بڑی قدرتی آفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اشیائے خورونوش کی قلت ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے، واللہ اعلم۔ بھارت سیاسی ومعاشی عدم استحکام کا شکار ہوسکتا ہے ۔ وہاں مسلمانوں کے خلاف قتل وغارت اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے۔ خالصتان تحریک میں جان پڑسکتی ہے اور زرعی حوالے سے مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، مسلمانوں کی نسل کشی اور غیر کشمیریوںکی آبادکاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بھارت کو کسی بڑی قدرتی آفت اور وبا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر اموات ہوسکتی ہیں، بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں مضبوطی اور دفاعی تعاون میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بھارت اور اسرائیل گٹھ جوڑ کی وجہ سےاس خطے میں امن وامان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔ بھارت میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور بے روزگاری کی شرح بڑھ سکتی ہے۔چین اور روس کے مابین بعض اہم معاہدے ہوسکتے ہیں۔ امریکہ اور چین کے درمیان تلخی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ روس یوکرین جنگ کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ یورپ میں بھی مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ نظر آتا ہے۔ کسی چھوٹے واقعہ کی وجہ سے دنیا میں بڑی جنگ ہوتی نظر آتی ہے جس کی وجہ سے دنیا کے حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔ جنگ کی وجہ سے عالمی معاشی صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ ہے جس سے پوری دنیا متاثر ہوگی۔ تیل کی پیداوار میں کمی اور نرخوں میں اضافہ ہوسکتاہے۔ پاکستان اوربھارت سمیت دنیا میں بعض اہم شخصیات کا انتقال ہوسکتا ہے۔ غرض یہ کہ اس سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں معاشی وسیاسی عدم استحکام، اشیائے خورونوش کی قلت، زرعی پیداوار میں کمی، قدرتی آفات، وبا اور دہشت گردی سمیت امن وامان کی صورتحال کی خرابی کا امکان ہے۔ افغانستان میں بھی طالبان حکومت کیلئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ عرب ممالک کا اسرائیل کی طرف جھکائو جاری رہے گا لیکن اس کا فائدہ اسرائیل کو ہوتا نظر آتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری فی الحال نظر نہیں آتی۔ ایران کی موجودہ حکومت کی اندرونی پریشانیاں بڑھ سکتی ہیں۔ فلسطینیوں پر اس سال اسرائیلی مظالم اور ناجائز قبضے میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ کریم پاکستان، ہم سب اور تمام مسلمانوں کی مدد فرمائے۔ (آمین)

تازہ ترین