• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان ہاکی کے معاملات پچھلے پانچ ماہ سے جن گھمبیر حالات سےگذر رہے ہیں، وہ قومی کھیل کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے، اگست میں ہونے والے فیڈریشن کے انتخاب کو پانچ ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے مگر حکومت کی جانب سے اسے نہ تو تسلیم کیا جارہا ہے اور نہ ہی کوئی فیصلہ سامنے لایا جارہا ہے، مالی مدد اور معاونت کے بغیر کسی فیڈریشن کو چلانا کس قدر مشکل ترین کام ہے اس کا اندازہ حکومتی حکام کو نہیں، معاشی طور پر کنگال پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ملک کی ڈیفالٹ ترین فیڈریشن کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ 

کھلاڑیوں کے پاس روزگار نہیں، فیڈریشن کے پاس پیسہ نہیں، ان حالات میں کس طرح ملک میں ہاکی کی سرگرمیاں پروان چڑھ سکتی ہے، فیڈریشن کے حکام قومی چیمپئن شپ کرانے کے لئے مسائل سے دوچار ہیں، جس ملک کی فیڈریشن قومی ایونٹ نہیں کراسکے اس سے اچھے نتائج کی قع کیسے کی جاسکتی ہے، حکومت نے ہاکی میں بہتری کے لئے ایک سرکاری کمیٹی قائم کی جس کی رپورٹ وزیر اعظم ہاؤس کی میز پر کئی ہفتوں سے پڑی ہوئی ہے، اس کمیٹی نے جو تجاویز دی ہیں ا س پر وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کا انتظار ہے مگر یہ انتظار کب ہوگا اس کا پوری قوم کو انتظار ہے، ہاکی کے حلقے بے چین ہیں، سب سے زیادہ مایوسی قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں میں پائی جارہی ہے جن کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ 

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اداروں میں کھیل کے شعبے اور ٹیموں کی بحالی کے حوالے سے کئے اعلان پر پانچ ماہ گذرنے کے باوجود کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آسکی ، جس کی وجہ سے کھیلوں کے حلقوں اور کھلاڑیوں کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے، وزیر اعظم نے رواں سال اگست میں وزیر اعظم شہباز شریف نے دولت مشترکہ اور اسلامی یکجہتی گیمز میں قومی ایتھلیٹس کی نمایاں کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ڈپارٹمنٹل اسپورٹس پر عائد پابندی ختم کر رہے ہیں، عمران خان حکومت نے ملک میں تمام سرکاری محکموں، کارپوریشنز اور خود مختار اداروں کو 30 مختلف کھیلوں کی ٹیموں کو فنڈنگ روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے محکمہ جاتی کھیلوں پر پابندی عائد کردی تھی۔

حکومت کے اس فیصلے کے بعد محکمہ جاتی کھیلوں سے منسلک ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہوگئے تھے۔شہباز شریف نے منصب سنبھالنے کے بعد نوجوانوں میں صحت مندانہ مقابلے کی سرگرمیوں کے لیے محکمہ جاتی ٹیموں کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا مگر تاحال اس بارے میں کسی بھی ادارے کو کھیل کے شعبے کی بحالی کا نوٹیفکیشن نہیں مل سکا ہے جس سے کھلاڑیوں کو مایوسی کا سامنا ہے، ملک کے مختلف کھیلوں کے نامور کھلاڑیوں نے وزیر اعظم سے فوری طور پر ٹیموں کی بحالی کے اعلان پر عمل درآمد کی اپیل کی ہے۔ پاکستان کر کٹ بورڈ نے اپنے پچھلے آئین کو بحال کردیا جس ملک میں اداروں کی ٹیموں کی بحالی کا امکان پیدا ہوگیا ہے، مگر دیگر کھیلوں کی ٹیموں کی بحالی کے بارے میں تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آسکا ہے،، پاکستان ہاکی میں بہتری کے لئے حکومت کو جلد از جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔ 

پاکستان ہاکی ٹیم پہلے ہیاس ماہ بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ ہاکی ٹورنامنٹ سے باہر ہے، اسے اولمپکس گیمز کے لئے کوالیفائی رائونڈ کھیلنا ہے جو ایشین گیمز ہے، اس سال اکتوبر میں چین میں ہونے والے ایشین گیمز میں اگر پاکستان نے پہلی پوزیشن حاصل کی تو وہ پیرس اولمپکس کا ٹکٹ حاصل کرے گا دوسری صورت میں اس کی شرکت کا باب بند ہوجائے گا، ایشین گیمز میں کامیابی کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی ایشین گیمز کے لئے بھر پور تیاری ہوسکے مگر فنڈ کی کمی کے باعث اس کے امکانات کم ہے کہ پاکستان کی ٹیم کی تیاریہوسکے اور وہ کسی ٹیم کے ساتھ سیریز کھیل سکے، حکومت نے فوری توجہ نہیں دی تو پھر اس کھیل کا اللہ ہی حافظ ہے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید