• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پوزیشن ہولڈر خاتون کے انتخاب میں وزیر مذہبی امور رکاوٹ


وفاقی وزیر مذہبی امور عبدالشکور پوزیشن ہولڈر خاتون کو عہدہ دینے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔

وزیر مذہبی امور نے ڈی جی جج کے عہدے پر 2 بار امتحان میں پہلی پوزیشن لینے والی خاتون کو انٹرویو میں فیل کردیا۔

امیدوار صائمہ صالح کو صفر دے کر فیل کرنے کے انٹرویو کی مبینہ آڈیو نے وفاقی وزیر مذہبی امور کا سارا بھانڈا پھوڑ دیا۔

انٹرویو میں عبدالشکور نے خاتون امیدوار سے پوچھا کہ ’دوپٹے کی اہمیت ہے یا نہیں؟ خاتون امیدوار نے کہا بالکل ہے‘۔

اس پر وفاقی وزیر مذہبی نے دوسرا سوال داغ دیا اور استفسار کیا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی خاتون کو اس عہدے کےلیے چنا گیا تھا یا نہیں؟

ذرائع کے مطابق وزیر مذہبی امور نے خاتون افسر کو فیل کرنے کے لیے انٹرویو پینل کو مبینہ طور پر اپنے ساتھ ملالیا۔

آڈیو سامنے آنے پر وفاقی وزیر مذہبی امور نے موقف اختیار کیا کہ خاتون افسر نے انٹرویو کی ریکارڈنگ کر کے غیر قانونی عمل کیا، جس کی انکوائری کی جائے گی۔

وفاقی وزارت مذہبی امور میں ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر جنرل حج کی آسامی پر تعیناتی معمہ بن گئی۔

دونوں بار ڈی جی حج کے تحریری امتحان میں آڈٹ اینڈ اکاؤنٹ گروپ کی خاتون امیدوار نہ صرف کامیاب ہوئی بلکہ پہلی پوزیشن اپنے نام کی۔

اسلام آباد کی وزارت مذہبی امور میں ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر حج کی خالی آسامیوں پر تعیناتی کا عمل تقریبا 2 ماہ گزر جانے کے بعد بھی مکمل نہ ہوسکا۔

تیس نومبر کو خالی ہونے والی آسامیوں کےلیے ستمبر میں ٹیسٹ اور انٹرویو شروع ہوئے، ڈی جی حج کی آسامی کے لیے گریڈ 20 کے 20 افسروں نے تحریری امتحان دیا۔

آڈٹ اکاؤنٹ گروپ کی آفیسر صائمہ 71 مارکس اور آفیسر مینجمنٹ گروپ کے امجد خان 61 نمبروں کے ساتھ کامیاب قرار پائے۔ یہیں سے وزیر مذہبی امور کی مبینہ پریشانی کا آغاز ہوا۔

جیو نیوز کو موصول دستاویزات کے مطابق وزیراعظم آفس کو امتحانات میں کامیاب امیدواروں کے بارے میں صنفی بنیاد پر بتایا گیا کہ ایک مرد اور ایک خاتون کامیاب ہوئے ہیں، دوبارہ امتحان لینے کی اجازت دی جائے، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مطالبہ مسترد کردیا۔

مبینہ طور پر وزیر موصوف نے اس مسئلے کا حل بھی نکال لیا اور 26 اکتوبر کو ہونے والے انٹرویز میں وزارت مذہبی امور کے ذرائع کے مطابق انٹرویو پینل کو اپنے ساتھ ملا کر دونوں ہی امیدواروں کو فیل کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا اور 48 منٹ کے انٹرویو کے دوران خاتون افسر کو الجھائے رکھا۔

دوران انٹرویو یہ بھی کہا کہ وہ دوپٹہ نہیں کرتیں، اس سے عالمی ممالک میں کیا پیغام جائے گا۔ ریکارڈ نمبر حاصل کرنے والی امیدوار صائمہ کو صفر نمبر دے کر فیل کردیا گیا۔

وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور کہتے ہیں خاتون افسر نے دوران انٹرویو ریکارڈنگ کر کے غیر قانونی عمل کیا، اس کی انکوائری ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ آڈیو کو مسخ کر کے پیش کیا گیا، اسلام خواتین کو عزت بخشنے والا مذہب ہے تو وہ یا کوئی دوسرا شخص کسی خاتون سے متعلق کوئی تعصب کیسے رکھ سکتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید