• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گذشتہ دنوں ترکی (ترکیہ) کے جنوب اور شام کے شمال مغربی سرحدی علاقوں میں اس صدی کے قیامت خیز زلزلے نے تباہی مچادی، جس کی ریکٹر اسکیل پر شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی۔ ہزاروں افراد لقمہ اجل اور لاکھوں زخمی ہوئے۔ زلزلے کا مرکز جنوبی ترکی سے 23 کلومیٹر دور اور گہرائی 17.9 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ 1939ء کے بعد یہ سب سے بڑی قدرتی آفت ہے، جس کا ترکی کو سامنا کرنا پڑا کئی علاقے صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں زلزلے کی فالٹ لائن نسبتاًخاموش ہے ،جس کی وجہ سے یہاں عمارتوں کے ڈھانچوں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ بیشتر عمارتیں کمزور ہیں۔ زلزلے سے بڑی تباہی کا ایک سبب یہ بھی ہے۔ 

زلزلے ایسی قدرتی آفت ہیں جن کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ۔اس لئے ان کے سد باب کا بھی کوئی طریقہ دریافت نہیں ہوا، مگر بتایا گیا ہے کہ نیدر لینڈ کے ایک ماہر طبقات الارض نے تین روز پہلے سوشل میڈیا پر پیش گوئی کی تھی کہ اس علاقے میں جلد یا بدیر 7.5شدت کا زلزلہ آئے گا جو حیرت انگیز طور پر صحیح ثابت ہوئی لیکن یہ پیش گوئی کن ٹھوس سائنسی بنیادوں پر کی گئی اس کا اطمینان بخش جواب دینے سے خود مذکورہ ماہر ارضیات بھی قاصر ہیں۔ ترکی کی طرح شام کو بھی حالیہ زلزے کے نتیجے میں بڑی تباہی کا سامنا ہے۔ 

پاکستان کے کئی علاقے زلزلے کی فالٹ لائن پر واقع ہیں اور وقتاً فوقتاً زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ان میں 2005میں آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں آنے والا زلزلہ سب سے ہولناک تھا، جس دن سائنسی تحقیق کے ذریعے زلزلوں کی پیش گوئی ممکن بناکر پہلے سے خبردار کیا جانے لگے گا۔ اس دن انسان زلزلوں کے نقصانات سے خود کو محفوظ رکھنے کے قابل بھی ہوجائے گا،مگر تاحال یہ ممکن نہیں کیونکہ سائنسداں زلزلوں کی کسی مستند پیش گوئی سے قاصر ہیں۔ دُنیا میں ابھی تک کوئی ایسا نظام ایجاد نہیں ہوا ، جس سے زلزلے کا پیشگی پتہ چل سکے۔ قوموں کی تاریخ میں قدرتی آفات اور حادثات رونما ہونا ایک مسلمہ حقیقت ہے اور ہر قوم اپنے وسائل اور منصوبہ بندی کے مطابق ان آفات اور حادثات سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ حادثات سے ہونے والے نقصانات کی روک تھام کی جاسکے اور نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔

ہمیں ان قدرتی آفات میں پوشیدہ قدرت کے اس پیغام کو سمجھنا چاہیے کہ زلزلے اور سیلاب سے مکمل چھٹکارہ حاصل کرنا کسی ملک کے بس کی بات نہیں لیکن انسانی تاریخ میں سرخرو وہی ممالک قرار پاتے ہیں جو حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے درپیش مشکلات سے سبق حاصل کرتے ہیں اور مستقبل میں اپنے عوام کے بچاؤ کے لیے لائحہ عمل ٹھوس بنیادوں پر استوار کرتے ہیں۔ ان خطرات کے پیش نظر سائنس دانوں کی ایک کمیٹی اس بات پر متفق ہو گئی ہے کہ ہمیں اس بنیادی ضرورت کی حفاظت اور بقا کے لیے ’’کرۂ ارض پر بدترین صورتِ حال‘‘ کو ذہن میں رکھتے ہوئے، جس میں کوئی بہت بڑی قدرتی آفت کی وجہ سے یا ایٹمی جنگ کی وجہ سے کسی ملک یا خطے کی زمینی پیداواری صلاحیت کا یکسر ختم ہوجانا ، کوئی خاص بیج کی نسل کا دُنیا سے یکسر ختم ہوجانا ، جیسے خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی انتہائی جدید اور محفوظ انتظام کرنا ہوگا ،جس پر عالمی سطح پر موثر فیصلے ضروری ہیں ،تا کہ بیک وقت عالم انسانیت کی مجموعی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ 

دنیا کے بیشتر خطے زلزلوں کی زد میں ہیں۔ آئے دن میڈیا کے ذریعے معلوم چل رہا ہے کہ کبھی کسی ملک تو کبھی کسی ملک میں زلزلے اور قدرتی آفات آرہی ہیں ہمارا ملک بھی آج کل موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کی زد میں ہے اور ماضی میں بھی یہاں زلزلے اور قدرتی آفات آتی رہی ہیں جب کہ ہمارے ملک میں اس سے نبرد آزما ہونے کی تمام تر سہولیات تاحال ہنوز ندارد حالانکہ ماہرین متعدد بار زلزلوں اور قدرتی آفات کے حوالے سے اپنے مختلف خدشات و تجزیات سے خبردار کرچکے ہیں۔ زلزلے کے اسباب، محرکات اور وجوہات کے بارے میں ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ ہمارا کرۂ ارض ہمہ وقت زلزلوں کی زد میں رہتا ہے لیکن زمین چونکہ بہت بڑی ہے، اس کا ایک بڑا حصہ غیر آباد اور سمندروں، میدانوں، ریگستانوں، چٹانوں اور جنگلات پر مشتمل ہے۔لہٰذا ہم ان آئے روز کے زلزلوں سے لاعلم رہتے ہیں ،تاہم جب یہی زلزلے شہری آبادیوں کو نشانہ بناتے ہیں تو تاریخ رقم کردیتے ہیں۔ 

خشکی پر آنے والے زلزلے عموماً دو طرح کے ہوتے ہیں، پہلی وجہ آتش فشاں پہاڑ ہیں جن کے پھٹنے سے آنے والے زلزلے کی شدت زیادہ نہیں ہوتی۔ زیادہ تر تباہی دوسری قسم کے زلزلے سے آتی ہے اور اپنی تمام تر ترقی کے باوجود انسان اس ناگہانی آفت کی بروقت پیش گوئی کرنے والا نظام دریافت نہیں کرسکا اور تاحال قدرت کے اس اقدام کے آگے اکیسویں صدی میں بھی بے بس ہے۔ دراصل ہم جس زمین پر آباد ہیں اس کی اندرونی ساخت میں بہت سی پرتیں ہیں۔ جن میں نرم اور سخت پتھریلی پرتیں بھی موجود ہیں۔ زیر زمین پتھریلی چٹانوں کی معمولی حرکت سے بھی زمین کی اوپری سطح تہہ و بالا ہوجاتی ہے۔ 

اکثر جو زلزلے آتے ہیں اس کی وجہ زیر زمین چٹانوں کا کھسکنا ہوتا ہے، جس سے زمین کی اوپری سطح پر موجود عمارتیں اور مکانات لرز اٹھتے ہیں۔اگر ہم زلزلے کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو معلوم چلتا ہے کہ ماہرین کے مطابق زلزلے کی دو اقسام ہیں اور جہاں تک زلزلے کی لہروں کا تعلق ہے۔ اس کی اچانک حرکت سے سائسمک لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ جب یہ لہریں زمینی چٹانوں سے گزرتی ہیں تو ان پر دباؤ بڑھاتی ہیں، جس سے سٹرین پیدا ہوتا ہے جب یہ لہر گزر جاتی ہے یعنی دباؤ ختم ہوجاتا ہے تو پھر سٹرین بھی غائب ہوجاتا ہے اور چٹانی سلسلہ اپنے حجم اور شکل میں واپس آجاتا ہے۔

لہروں کو تین اقسام پرائمری، سیکنڈری اور سطحی میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پرائمری لہریں اولین ہونے کے ناتے دیگر زلزلیاتی لہروں سے تیز ہوتی ہیں۔ جیسے ہی پرائمری لہریں کسی میڈیم سے گزرتی ہیں تو اس میڈیم کے اجزا لہر کے راستے کے ساتھ ساتھ آگے پیچھے تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ اس لہرکی رفتار پانی میں ڈیڑھ کلومیٹر فی سیکنڈ اور زمین میں تیرہ کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔دوسری قسم سیکنڈری لہروں کی ہے، جس کی شدت پرائمری لہروں سے کم ہوتی ہے۔ تیسری سطحی لہریں ہیں یہ زمین کی اوپری سطح میں ہوتی ہیں اور گہرائی میں جاتے جاتے ختم ہوجاتی ہیں۔

سطحی لہروں کی مزید دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم میں تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے اور یہ سطح زمین کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہیں۔ دوسری قسم میں لہریں سمندرکی لہروں کی طرح دائروں کی صورت میں چلتی ہیں۔اس وقت برصغیر کی زمینی پلیٹ شمال کی جانب تین سے چار سینٹی میٹر سالانہ ایشین پلیٹ کی طرف جا رہی ہیں۔ یہ عمل لمبے عرصے سے جاری ہے کبھی پاکستان کا زلزلوں کے مرکز سے فاصلہ 380 کلومیٹر تھا جو اب ستر سے نوے کلو میٹر رہ گیا ہے۔ان کے درمیان جو علاقہ ہے وہ پہاڑوں میں تبدیل ہوگیا ہے۔ 

کوہ ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم اسی سلسلے کی وجہ ہیں۔ زمین کے اندر جب اس طرح کے دباؤ بڑھیں گے تو انرجی اسٹور ہوتی رہے گی جو بعد میں خارج بھی ہوتی رہے گی۔ اس ضمن میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ جہاں سے فالٹ گزر رہی ہے۔ یعنی پٹی زلزلے کی زد میں آتی ہے وہاں عمارتیں تعمیر کرنے کی بجائے چراگاہیں اور پارک بنائے جائیں، تاکہ زلزلہ آنے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کم سے کم ہو، واضح رہے کہ کراچی کے قریب بھی رن آف کچھ کا مشہور فالٹ واقع ہے اور زیر زمین چٹانیں اپنی پوزیشن تبدیل کر رہی ہیں۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید