• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ پر پابندی کے بل کیخلاف کنزرویٹو اور لیبر دونوں کے ارکان کی تنقید

لندن (پی اے) کنزرویٹو اور لیبر دونوں کے ارکان پارلیمان نےاسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ پر پابندی کے بل پر تنقید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ کمیونٹیز سیکرٹری مائکل گوو نے کہا ہے کہ یہ بل خارجہ پالیسی کو حکومت کا معاملہ برقرار رکھنے کو یقینی بنائے گا لیکن لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ اس بل سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے بارے میں برطانیہ کی دیرینہ پالیسی کی نفی ہوگی اور اسے نقصان پہنچے گا۔ پارٹی نے متنبہ کیا کہ اس بل سے دنیا بھر میں جبر اور مظالم کے شکار لوگوں کی مدد کے حوالے سے پالیسی کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، اس کےعلاوہ اس سے منتخب کونسلوں پر پابندیاں عائد ہوجائیں گی، آزادی اظہار کو نقصان پہنچے گا اور لوکل اتھارٹی کے فنڈز پرمنفی اثرات رونما ہوں گے۔ اکنامک ایکٹی ویٹی آف پبلک باڈیز (اوورسیز میٹرز) بل کے تحت سرکاری اداروں کو، جن میں کونسلیں شامل ہیں، حکومت کی اپنی خارجہ پالیسی سے منظوری حاصل کئے بغیر کسی غیرملک کی اشیاء کابائیکاٹ کرنے یا پابندی لگانے کی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ گزشتہ مہینے پہلی مرتبہ اسے شائع کیا گیا تھا۔ پیر کو دارالعوام میں کئی گھنٹے کی بحث کے بعد ابتدائی طور پر اسے 70کے مقابلے میں 268ووٹ سے کامیابی حاصل ہوگئی تھی، اس بحث میں زیادہ تر زور اسرائیلی اشیاء کے بائیکاٹ اور مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں اسرائیلی بستیوں کے بارے میں تھا۔ بائیکاٹ کی تحریک میں اسرائیل کی اقتصادی ثقافتی بائیکاٹ اور اسرائیلی بستیوں کے خلاف زور دیا گیا ہے، اس میں اسرائیل کے اسی طرح کے بائیکاٹ پر زور دیا گیا ہے، جس طرح کا بائیکاٹ نسل پرستی کے دور میں جنوبی افریقہ کا کیا گیا تھا۔ فلسطینیوں نے اس طرح کے بائیکاٹ کی حمایت کی تھی کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے اسرائیل کے فوجی قبضے کے خاتمے کیلئے اسرائیل پر دبائو پڑے گا لیکن دوسری جانب BDS تحریک کو نامناسب طورپر صرف اسرائیل کو نشانہ بنانے کا محرک قرار دے کر اسے یہودیت کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ مائیکل گوو نے دارالعوام میں تقریر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ BDS تحریک کی سرگرمیوں کے بعد یہودیت مخالف واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا اگرچہ اسرائیل پر تنقید کا جائز جواز موجود ہے لیکن BDS کونسلوں سے اسرائیل کے ساتھ دیگر ملکوں سے جدا سلوک کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بل میں اسرائیل کی حکومت اور اس کے رہنمائوں کے خلاف پرزور تنقید سے روکنے کی کوئی بات نہیں ہے لیکن لیبر اور کنزرویٹو پارٹی کے متعدد ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اس بل کے برطانیہ کی خارجہ پالیسی پر بہت گہرے اثرات رونما ہوں گے۔ ٹونی بلیئر اور گورڈن برائون کے دور میں کام کرنے والے ڈیم مارگریٹ ہوج نے کہا کہ اس بل میں سقم موجود ہیں، اس کو بہت ہی خراب طریقے سے بنایا گیا ہے اور اس کے ملک میں اور بیرون ملک نقصاندہ اثرات رونما ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس بل سے امن کے قیام، اسرائیل کو بہتر سیکورٹی فراہم کرنے یا بی ڈی ایس سے لاحق خطرات کے خلاف کارروائی کی کوئی چیز نہیں ہے یہ بل حکومت کے سرکاری کھیل میں یہودیوں کو ایک آڑ کے طورپراستعمال کرنے کی کوشش ہے۔ حکومت کی امور خارجہ کمیٹی کی سربراہ کنزرویٹو رکن پارلیمان الیشیا کیرنز کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بل سے اسرائیل اور مقبوضہ فلسطین کے علاقوں کا ذکر نکال دینا چاہئے۔ اس بل کے تحت اسرائیل کو غیر معمولی استثنیٰ دیا گیا ہے، ہمیں کسی ملک کو ایسا استثنیٰ نہیں دینا چاہئے۔حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے خلاف مہم محدود ہوجائے گی۔ اس پابندی کا اطلاق انفرادی طورپر بشمول عوام کے منتخب حکام پر نہیں ہوگا۔ لیبر پارٹی کی جانب سے بل پر پیش کی جانے والی ترمیم کو 212کے مقابلے میں272 ووٹوں سے شکست ہوگئی۔

یورپ سے سے مزید