• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر ایلفی ہاتھ پر چپکنے کے بعد نہ نکلتی ہو تو وضو کے بارے میں کیا حکم ہے؟

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ چین سے پھٹے پرانے جوتے آتے ہیں، ہم انہیں دھوتے اور سیتے ہیں، سیتے وقت ایلفی بھی ڈالتے ہیں، وہ ایلفی ہاتھوں پرلگتی اور ناخن میں چلی جاتی ہے، وضو کرتے وقت وہ نہیں اترتی، اگر مزید دھوئیں یا کھرچیں تو خون نکلنا شروع ہو جاتا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ ہم یہ ایلفی ہاتھوں اور ناخنوں کے درمیان دھوئیں یا نہیں؟ اگر دھوئیں تو کتنا دھونا کافی ہے؟

جواب:۔ وضو صحیح ہونے کے لیے اعضائے مغسولہ کو اس طور پر دھونا ضروری ہوتا ہے کہ کوئی جگہ / حصہ خشک نہ رہے، پس ایلفی جسم کے جس حصے پر لگتی ہے، اس حصے تک پانی پہنچنے سے مانع ہوتی ہے، جس کے سبب وضو نہیں ہوتا، لہٰذا اگر ہاتھوں پر ایلفی لگ جائے تو اسے ہٹانے کے بعد وضو کرنا ضروری ہوگا، ہٹائے بغیر وضو کرنے کی صورت میں وضو نہیں ہوگا، البتہ اگر حتیٰ المقدور کوشش کے باجود ایلفی نہ نکلے، اور مزید صاف کرنے کی صورت میں جسم کے زخمی ہونے کا خطرہ ہو تو اس صورت میں جسم زخمی کرنے کی ضرورت نہ ہوگی، کوشش کے بعد وضو کرنے سے وضو ہوجائے گا۔

باقی آپ لوگوں کا کام چوں کہ ایلفی لگانے کا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ ایلفی لگانے سے پہلے ہاتھوں میں دستانے پہن لیے جائیں ،تا کہ ہاتھوں پر ایلفی نہ لگے اور وضو و غسل کے لیے دشواری نہ ہو۔ (الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الطھارۃ، الباب الاول، الفصل الاول، جلد:1، صفحہ: 4، طبع: دار الفکر)

اقراء سے مزید