• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اعظم خان ان پڑھ نہیں، انہیں پتہ ہے دفعہ 164 کا بیان کیا ہوتا ہے، رانا ثناء

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سائفر ڈرامے کے جرم میں عمران خان کے ساتھ شاہ محمود قریشی بھی ملوث ہیں،ایف آئی اے سائفر گم ہونے کی بھی عمران خان سے تحقیقات کرے گی، سائفر کی کاپی عمران خان کے پاس ہے تو اسے پیش کرنے کیلئے کہا جائے گا،میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اعظم خان کے بیان کے اوپر بیانیہ بنارہی ہے لیکن اعظم خان کی گمشدگی، واپسی اور بیان سے متعلق بہت سے سوالات بھی موجود ہیں، اعظم خان سے منسوب بیان پر نہ ان کے دستخط ہیں نہ ہی مجسٹریٹ کا نام، دستخط یا مہر موجود ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا معاملہ چور مچائے شور والا ہے،یہ ایک مجرم کا اپنا جرم چھپانے کیلئے واویلا ہے، اس کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی کون سا تختہ الٹا گیا کون سی سازش ہوئی،اتحادیوں نے اس کے رویے، تکبراور کرپشن کے خلاف اپنے ووٹ کا استعمال کیا، تحریک عدم اعتماد سبوتاژ کرنے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی نے غیرآئینی ہتھکنڈے اپنائے، اس نے ڈپٹی اسپیکر سے غیرآئینی فیصلہ کروایا اور اسمبلی ختم کی جسے سپریم کورٹ نے بحال کیا، چیئرمین پی ٹی آئی کل خود ڈرامہ کرے گا یہ اس طرح کے ڈرامے کرنے کا ماسٹر ہے۔ رانا ثناء اللہ کاکہنا تھا کہ اعظم خان نے اپنے بیان میں واضح کہا ہے کہ جو ہوا اس سے بچا جاسکتا تھا، اعظم خان نے کہا کہ سائفر کو چیئرمین پی ٹی آئی نے ذاتی اور سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے سیکرٹ دستاویز کو پبلک کیا اور بعد میں بہانہ بنایا کہ سائفر مجھ سے گم ہوگیا،اعظم خان کا بیان سائفر سے متعلق پہلے سے موجود شواہد کی تائید کرتا ہے، اعظم خان نے کوئی نئی بات نہیں کی انہی حقائق کی تصدیق کی ہے، سیکرٹری خارجہ کا بھی اس بارے میں بیان موجود ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ اعظم خان نے ایک بیان دفعہ 164کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروایا ہے، اعظم خان نے بیان میں وضاحت کردی ہے کہ وہ کہاں تھے، اعظم خان نے واضح کیا کہ انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا اپنی مرضی سے گیا، اعظم خان اس کے بعد ایف آئی اے آیااور بیان ریکارڈ کروایا، بیان لکھوانے کے بعد پڑھا اور خود دستخط کیے، اعظم خان نے کل دوپہر تین بجے کے قریب ایف آئی اے کو دفعہ 161کا وہی بیان درج کروایا جو دفعہ 164میں کروایا ہے، اعظم خان نے تھانہ کوہسار جاکر بتایا کہ میں خود آیا ہوں مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا، اعظم خان کے مطابق وہ اپنے دوست کے گھر پر تھے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اعظم خان نہ پہلے میڈیا پر آنے کو تیار تھے، نہ کل آنے کو تیار تھے نہ آج آنے کو تیار ہیں، اعظم خان ان پڑھ آدمی نہیں ہیں انہیں پتا ہے دفعہ 164کا بیان کیا ہوتا ہے، اعظم خان نے مجسٹریٹ کے تمام سوالوں کے جوابات دیئے، اعظم خان نے کہا میں بقائمی ہوش و حواس اپنا بیان ریکارڈ کروارہا ہوں، مجھے معلوم ہے یہ بیان میرے خلاف استعمال ہوسکتا ہے اس کے باوجود میں ریکارڈ کروانا چاہتا ہوں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اعظم خان کا اپنے گھر والوں سے رابطہ تھا، سائفر ڈرامے کے جرم میں عمران خان کے ساتھ شاہ محمود قریشی بھی ملوث ہیں، اعظم خان نے پہلے سے معلوم حقائق پر شواہد دیئے ہیں، ایف آئی اے انکوائری کے بعد فیصلہ کرے گی کہ کس جرم کے تحت مقدمہ کرنا چاہئے، ایف آئی اے سائفر گم ہونے کی بھی عمران خان سے تحقیقات کرے گی، سائفر کی کاپی عمران خان کے پاس ہے تو اسے پیش کرنے کیلئے کہا جائے گا، چیئرمین پی ٹی آئی تعاون نہیں کریں گے تو انکوائری کے مرحلہ میں گرفتار کیا جاسکتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جرم ثابت ہوا تو سزا ہوسکتی ہے۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنی حکومت گرنے کو بیرونی سازش قرار دیا تھا، دعویٰ کیا تھا کہ امریکا نے پاکستان میں اپنے ہینڈلرز کے ساتھ مل کر مجھے وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کی سازش کی، مگر انہوں نے پھر امریکی سازش کے اپنے بیانیہ سے یوٹرن لے لیا، ایک کے بعد ایک مبینہ آڈیو لیکس آئیں جن سے ثابت ہوگیا کہ دھمکی آمیز سائفر کا معاملہ اور اس کی بنیاد پر سازش کا بیانیہ صریحاً جھوٹ تھا، انہی میں ایک آڈیو سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی تھی جس میں وہ کہتے سنے جاسکتے ہیں کہ اس اجلاس کے منٹس وہ خود تیار کریں گے جس میں اپنی مرضی کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے، 15جون 2023ء کو اعظم خان کے لاپتہ ہونے کی خبر آئی، ایک ماہ سے زائد لاپتہ رہنے کے بعد اچانک اعظم خان سے منسوب ایک اور خبر سامنے آگئی ہے، اعظم خان نے سائفر سے متعلق دفعہ 164کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کروادیا ہے، اعظم خان نے اپنے بیان میں سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قراردیا ہے۔شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ حکومت اعظم خان کے بیان کے اوپر بیانیہ بنارہی ہے لیکن اعظم خان کی گمشدگی، واپسی اور بیان سے متعلق بہت سے سوالات بھی موجود ہیں، اعظم خان سے منسوب بیان پر نہ ان کے دستخط ہیں نہ ہی مجسٹریٹ کا نام، دستخط یا مہر موجود ہے، قانون کے مطابق دفعہ164کے بیان کو قلمبند کرتے وقت مجسٹریٹ بیان دینے والے سے پہلے کچھ سوالات کرتا ہے پھر بیان قانونی طور پر ریکارڈ کیا جاتا ہے، لیکن اعظم خان کا جو بیان سامنے آیا ہے وہ خود اعظم خان کی زبانی بھی نہیں ہے بلکہ تیسرے نامعلوم شخص کی زبانی ہے جو بیان کررہا ہے کہ اعظم خان کا یہ کہنا ہے، ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ بیان میں کہیں کہیں درمیان غیر رسمی کمنٹس بھی لکھے ہوئے ہیں کہ مزید کون سے شواہد اس بیان کو تقویت دیتے ہیں یا کسی نکتہ کو کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے، چونکہ بیان پر کوئی نام، دستخط، مہر یا تاریخ موجود نہیں ہے اس لیے یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ بیان کب، کہاں اور کس کے سامنے ریکارڈ کروایا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید