• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیئرمین PTI کو سائفر پر 14 سال قید ہوسکتی ہے، وزیر قانون، لمبی چوڑی تفتیش کی ضرورت نہیں، معاون خصوصی احتساب

اسلام آباد (نیوز ایجنسیز / مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا، سائفر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر 14سال قید ہوسکتی ہے، تفتیش میرٹ پر کرانے کیلئے پرعزم ہیں ، سابق وزیر اعظم نے جو کھیل کھیلا وہ کامیاب نہ ہوسکا لیکن اس سے ملک کی معیشت، اداروں اور خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچاجبکہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب عرفان قادر نے کہا ہے کہ سائفر کیس میں لمبی چوڑی تفتیش کی ضرورت نہیں ، سیکرٹ ایکٹ تو بہت چھوٹی بات ، اصل بات سائفرکی من گھڑت کہانی سے عدم اعتماد کو روکنا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے آئین کے ساتھ فراڈ کیا، پیش نہیں ہونگے تو گرفتاری ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نے جو کھیل کھیلا وہ کامیاب نہ ہوسکا لیکن اس سے ملک کی معیشت، اداروں اور خارجہ تعلقات کو نقصان پہنچا، 2015ء میں 17ججوں نے سویلین کےفوجی عدالتوں میں ٹرائل کے حق میں فیصلہ دیا تھا،آرمی ایکٹ میں اپیل کا حق موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ مخصوص دستاویز کو پبلک نہیں کیا جاسکتا جبکہ سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کو اپنی تحویل میں لے لیا اس سب کے بعد اب ہم نے یہ معاملہ ایف آئی اے کو بھیج دیا ہے، بیان اور چیئرمین پی ٹی آئی کے بیان کو سامنے رکھتے ہوئے ایف آئی اے فیصلہ کرے گی کہ انکوائری کو کریمنل پروسیڈنگز میں منتقل کرنا ہے یا نہیں۔ ایف آئی اے نے سائفر کے معاملے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو 25 جولائی کو طلب کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون کا کہنا تھا اعظم خان کا بیان آفیشل سیکرٹ نہیں اور نا ہی اس کی کاپی لیک ہونے کا میں ذمہ دار ہوں۔انہوں نے بتایا کہ ذاتی مقاصد کے لیے سفارتی دستاویز کو گم کیا جائے تو اس پر عمر قید اور اس سے زائد سزائیں بھی ہیں، سائفر کو اگر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو 14 سال تک سزا ہو سکتی ہے لیکن غلطی سے اگر کوئی سائفر جیسا ایشو ہو تو 2 سال تک سزا ہو سکتی ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا مشرف حملہ کیس میں طے ہوا تھا کہ مخصوص حالات میں سویلینز کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہو سکتا ہے۔ ادھر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب عرفان قادر نے کہا ہے کہ سائفر کیس میں لمبی چوڑی تفتیش کی ضرورت نہیں ہو گی، اگر چیئرمین پی ٹی آئی پیش نہیں ہوں گے تو بالکل گرفتاری ہو سکتی ہے، وعدہ معاف گواہ دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک شریک جرم، دوسراوعدہ معاف گواہ برابر کا شریک ہوتا ہے، اعظم خان چیئرمین پی ٹی آئی کے پرنسپل سیکرٹری تھے، اعظم خان کے بیان کو دوسرے شواہد سے بہت سپورٹ مل رہی ہے، یہ بڑا سیریس کیس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی موجودگی میں اعظم خان پرجرح ہوگی، اس کیس میں سیکرٹ ایکٹ تو بہت چھوٹی بات ہے، اصل بات سائفرکی من گھڑت کہانی عدم اعتماد کو روکنا تھا، یہ تو آئین کے ساتھ فراڈ ہوا ہے، سابق وزیر اعظم نے کہا امریکا کی ملی بھگت سے حکومت کو تبدیل کیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے آئین کو پس پشت ڈالا۔

اہم خبریں سے مزید