کراچی (نیوز ڈیسک) ایپسٹین فائلز، امریکی حکام کی ناکامی نمایاں، شکایات پر کارروائی نہ ہونیکا انکشاف،2011میں ایک خاتون نے ایف بی آئی کو تفصیلی بیان دیا تھا، متاثرین کی شکایات نظرانداز ہوتی رہیں۔ بروقت کارروائی پر زیادتیاں روکی جا سکتی تھیں،سوال برقرار ہے کہ اداروں کی اس ناکامی کا احتساب کون کرےگا۔برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جیفری ایپسٹین سے متعلق لاکھوں فائلیں جاری ہونے کے بعد یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ امریکی حکام برسوں تک اس کے جرائم روکنے میں ناکام رہے، دستاویزات کے مطابق 2011میں ایک متاثرہ خاتون نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو ایپسٹین اور اس کی ساتھی گھس لین میکسویل کی جانب سے ہونے والے جنسی استحصال کی مکمل تفصیل فراہم کی تھی، جس میں کم عمری میں لڑکیوں کی اسمگلنگ اور بااثر شخصیات کے ملوث ہونے کے الزامات شامل تھے، ان فائلوں سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان کے سابق رکن اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کا نام بھی تقریباً پندرہ برس قبل امریکی حکام کی نظر میں آ چکا تھا، تاہم اس کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہ ہو سکی۔ ورجینیا جیفرے جنہوں نے ایپسٹین اور میکسویل پر سنگین الزامات عائد کیے تھے، گزشتہ برس خودکشی کر گئیں، جبکہ میکسویل کو کم عمر لڑکیوں کو ایپسٹین کے لیے ورغلانے کے جرم میں سزا ہو چکی ہے اور ایپسٹین 2019 میں جیل میں مقدمے سے قبل ہلاک ہو گیا۔