• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فاطمۃالزہراؓ کی تہذیب وتمدن اور قربانیاں

حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی، لندن
محرم کا احترام شروع ہوتے ہی خانوادہ رسولؐ کا ذکر رات دن ایک غمگین اور سوگ کی کیفیت میں مبتلا رکھتا ہے۔ ویسے تو دن اسلام کے پیغمبر و پیامبر کسی بھی لمحے محو ہوکر نہیں دیے مگر محرم میں ایک عظیم قربانی ہمیں سوگوار کردیتی ہے۔ ہمیں ہر کردار اپنے خاص اوصاف کے ساتھ واضح نظر آنے لگتا ہے۔ اسی طرح امت کے ذہن پر تاقیامت خانوادہ رسولؐ کی دی گئی قربانیوں کی یاد روز روشن و اول کی طرح رہے گی۔قربانی اپنے نفس کی، اپنے جان و مال کی، اپنی خواہشات کی، اپنی اولاد کی یا پھر معاملات وقت کے تحت بھی قربانیوں سے دریغ ممکن نہیں۔سیدہ کائناتؓ نے دین کی بقا و ترویج میں جہاں بے حد اہم کردار ادا فرمایا وہیں اپنے خطبات اور اشعار کے ذریعے دین اسلام کا تعارف اور تعلیمات کی تبلیغ و نشرواشاعت کا اہتمام بھی کیا اور ان تمام عملی اقدامات کے لیے اپنے آرام و خواہشات کو سلانا پڑتا ہے۔ قربانی دینا پڑتی ہے اور سیدہ کائنات دین کے لیے اولاد تک کی قربانی دینے کو دنیا میں تشریف لائیں، یہ کہا جائے کہ آپ فاطمۃالزہرا ؓنے تربیت اولاد اور عملی اقدامات کی وجہ سے دین اسلام کی بقا میں اپنا خاصہ وافر حق ادا کیا۔آپ جناب سیدہ کو اپنے بچپن ہی سے ناگوار حالات کا سامنا ہوا۔ پانچ سال کی عمر میں سر سے والدہ کا سایہ اٹھ گیا۔ آپؓ والد کے زیر سایہ ہوئیں تو اسلام کے دشمنوں کی طرف سے رسولؐ کو دی جانے والی اذیتیں سامنے تھیں۔ کبھی اپنے بابا کے جسم مبارک کو پتھروں سے لہولہان دیکھتیں تو کبھی سر پر مشرکوں کی طرف سے کوڑا ڈال دیا جاتا، کبھی دشمنوں کی طرف سے بابا کے قتل کا خطرناک منصوبہ تیار ہوتا۔ کمسن عمر میں بھی آپ گھبرائیں نہیں بلکہ اس عمر میں بھی اپنے والد کی مددگار بنی رہیں۔ آپؓ اپنی والدہ حضرت خدیجہ کی اعلیٰ صفات کا نمونہ تھیں، جود و سخا، اعلیٰ فکری اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور اعلیٰ صفات و اخلاق میں اپنے والد محترم کی جانشین تھیں۔ بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار اہم ترین ہوتا ہے۔ آپؓ نے بھی اپنے بچوں کی تربیت حق و سچ کی بنیاد پر کی، جیسی خود ان کی اپنی تربیت تھی۔حضرت فاطمۃالزہرا ؓنے ابتدا ہی سے وحی الٰہی کے سرچشمہ سے علم حاصل کیا۔ جن اسرار و رموز کو پیغمبرؐ حضرت فاطمہؓ کے لیے بیان فرماتے تھے تو حضرت علیؓ انہیں قلم بند فرماتے اور حضرت فاطمہؓ انہیں جمع فرماتیں جو مصحف فاطمہؓ کے نام سے ایک کتاب کی شکل میں جمع ہوگئی۔ دوسروں کو تعلیم دیتیں اور اسلامی تعلیمات کے ذریعے عورتوں کو ان کی ذمہ داری سے روشناس کراتیں۔ آپؓ کی کنیز اور شاگرد فضہ بیس سال تک قرآن کی زبان میں کلام کرتی رہی اور جب بھی وہ بات کرنا یا کہنا چاہتیں تو قرآن کی آیت کے ذریعے اپنی بات کو بیان کرتیں۔ حضرت فاطمہؓ کو حصول علم کا بے حد شوق تھا۔ آپ فاطمہؓ زہرا رات کے ایک حصے میں عبادت میں مشغول رہتی تھیں۔ آپؓ کی نماز شب کافی طویل ہوجاتی اور آپ کے پائے مبارک متورم ہوجاتے تھے۔ فاطمہؓ زہرا جیسا کوئی بھی زہد و عبادت اور تقویٰ میں مقابل نہ تھا۔ آپ کو تلاوت قرآن کا بہت شوق تھا، کھانا پکاتے ہوئے عموماً تلاوت فرماتی تھیں۔آپؓ فاطمہ زہرا کی تہذیب مقدس کا یہ عالم تھا کہ آپ ہمسائیوں کے لیے بے حد دعا فرماتی تھیں۔ خود غربت پر صبر کرتیں، فاقے کرتیں اور پھر بھی رب تعالیٰ کا شکر ادا کرتیں۔ خاتون جنت کی یہ شان بھی تھی کہ جب تک شوہر اور بچوں کو کھانا نہ کھلاتیں تب تک خود کھانا نہیں کھاتی تھیں۔ خاتون جنت کے بارے میں قرآن کریم اور سنت نبوی میں عظیم فضائل و مناقب بیان ہوئے۔ آیت مباہلہ میں آپ کو معرکہ حق و باطل میں صادقین کی فتح میں شمار کیا گیا۔ اسی طرح آیت تطہیر میں آپ کی عصمت و پاک کردار کی گواہی دی گئی۔ آیات مودب میں آپ کی محبت و مودت کو فرض کیا گیا۔سورہ دہر میں آپؓ کے ایثار و اطعام کا قصیدہ بیان ہوا اور سورہ کوثر میں آپ کو خیر کثیر قرار دیا گیا۔ سنت نبویہ میں آپ کو جگر گوشہ رسول بیان کیا گیا اور زنان جنت کی سیدہ و سردار بتایا گیا ہے۔ آپؓ کی عظمت و بلند مرتبے کے لیے سیرت پیغمبر کا یہ عظیم پہلو ہے کہ سید الانبیا آپ کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ کو اپنی مسند پر بٹھاتے۔ میدان حشر میں آپ کی آمد کے سلسلے میں بیان ہوا کہ انہیں کہا جائے گا کہ اپنی آنکھیں جھکالو۔یہ تمام فضائل مقدس آپ کی اس سیرت و کردار کی بدولت تھے جو آپ نے رسولؐ اکرم کے دین کی ترویج و بقا کے سلسلے میں انجام دیے۔جہاں تک بن پڑا بھرپور تبلیغ و ترویج دین کی سرگرمیاں انجام دیں اور اپنے عمل و کردار سے یہ سب ذمہ داریاں پوری کیں۔تبلیغ و ترویج دین کا بلند ترین مرتبہ وہ جو قول و فعل اور کلام کی مطابقت پر مشتمل ہو۔ زمانہ جاہلت میں باطل عقائد و نظریات کے برخلاف وہ خواتین کو باعث ننگ عار سمجھتے تھے اور ان کے معاشرتی اور ثقافتی کردار کو یکسر نظر انداز کرتے تھے تو آپؓ کی وجہ سے عورت کو بھی اسلام کی ترویج و تبلیغ میں برابر کی شریک قرار دیا گیا۔
یورپ سے سے مزید