اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے ایف آئی اے ٹیم کے سامنے ایک بار پھر سائفر کی گمشدگی کا اعتراف کرلیا،عمران خان سےسائفر گمشدگی کیس میں تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم اٹک جیل پہنچی ، پی ٹی آئی چیئرمین سے ایک گھنٹے تک تفتیش کی گئی ،تفتیشی ٹیم نے شاہ محمود کے انکشافات سے متعلق بھی سوالات کئے ، ٹیم بیان ریکارڈ کرکے واپس اسلام آباد چلی گئی ۔ دوسری جانب ملکی سلامتی کے اداروں اور سرکاری عہدیداروں کے خلاف ہرزہ سرائی پر پی ٹی آئی کے موجودہ اور سابق رہنمائوں کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کرلیا گیا، ایف آئی آر میں حماد اظہر ، مسرت جمشید چیمہ ، قاسم سوری ، عمر سرفراز چیمہ کو نامزد ملزم قرار دیا گیا ہے۔ علی زیدی ، فواد چوہدری ، اعظم سواتی کا نام بھی ملزمان کی فہرست میں شامل ہے، مقدمے کے متن کے مطابق پی ٹی آئی کے موجودہ اور سابق رہنما طلبی کے باوجود پیش ہوئے اور نہ جواب جمع کروائے، گرفتاریوں کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق سائفر کنٹینٹ ،آڈیو لیک و گمشدگی پر ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو باقاعدہ طور پر شامل تفتیش کرلیاگیا،ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ کی ٹیم نے اٹک جیل میں ایک گھنٹے سے زائد تک چیرمین پی ٹی آئی سے تفتیش کی اور شاہ محمود قریشی کے انکشافات سے متعلق سوالات کئے۔ تفتیشی ٹیم نے چیئرمین پی ٹی آئی سے گمشدہ سائفر کی کاپی سے متعلق بھی دریافت کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ عمران خان نے 3 رکنی ٹیم کے سامنے خفیہ سائفر مراسلہ گم کرنے کا ایک بار پھر اعتراف کرلیا۔ایف آئی اے ٹیم کی قیادت ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کر رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم دوپہر سوا دو بجے اٹک جیل میں آئی اور ساڑھے تین بجے تک چیئرمین پی ٹی آئی سے تحقیقات کیں۔