• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈالر کا اخراج آمد سے زیادہ، دسمبر میں پاکستان کی بیرونی پریشانیوں میں کئی گنا اضافہ ہوجائے گا

اسلام آباد (مہتاب حیدر) پاکستان کی بیرونی پریشانیوں میں کئی گنا اضافہ ہونے جا رہا ہے کیونکہ ڈالر کا اخراج دسمبر 2023کے آخر تک ڈالر کی آمد سے زیادہ ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ 3 ارب ڈالرز کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) پروگرام پر دستخط کرنے کے باوجود پاکستان کے بیرونی خطرات برقرار رہیں گے جس کی بنیادی وجہ سود سمیت قرض ادائیگی میں اضافہ کے درمیان قرضوں کی شکل میں اور درآمد کی ضروریات کے ساتھ ڈالر کی آمد میں کمی ہے اگر لیٹر آف کریڈٹ (ایل/سیز) بغیر کسی رکاوٹ کے کھولے جاتے ہیں۔ لہٰذا اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنے کا دباؤ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں بڑھنے والا ہے۔ اگر ڈالر کی مزید آمد کو عملی شکل نہ دی جا سکی تو اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہو گی۔ایک اور تشویشناک پیش رفت ہے کہ جاری کھاتوں کا خسارہ دوبارہ آگیا ہے اور جولائی 2023 میں 1 بلین ڈالر رہا۔ اگر یہ خسارے کے موڈ میں واپس آتا ہے اور اوسطاً 500 ملین ڈالر رہتا ہے پھر آنے والے مہینوں میں ڈالر کی مجموعی ضرورت بڑھ جائے گی۔ اقتصادی وزارتوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ہونے والے سرکاری اعداد و شمار اور پس منظر کی بات چیت سے یہ بات سامنے آئی کہ ستمبر 2023 میں کل بقایا بیرونی قرضوں کی ادائیگی 952 ملین ڈالرز ہو گی جس میں اصل زر اور سود کی رقم شامل ہے۔ دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر) کی مدت میں اس قرض کی خدمت میں 5.6 ارب ڈالرز خرچ ہونے کا امکان ہے جس میں سے سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر کے ذخائر بھی واجب الادا ہوں گے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اسے رول اوور کردیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ستمبر سے دسمبر 2023 تک کل 6.6 ارب ڈالرز میں سے باقی 3.6 ارب ڈالرز واپس کرنے ہوں گے۔ دوسری جانب پروگرام قرضوں، متوقع قرضوں اور تجارتی قرضوں کی شکل میں متوقع ڈالر کی آمد نچلی جانب ہے اس حقیقت کے باوجود کہ ہر چیز مطلوبہ مقررہ مدت کے اندر پوری کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے ورلڈ بینک کی جانب سے رائز ٹو کے تحت 700 ملین ڈالر قرض فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایشیائی انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے 250 ملین ڈالر کی شریک مالی اعانت فراہم کرنے کا امکان ہے۔ تاہم ذرائع نے بتایا کہ حقیقت میں ورلڈ بینک رائز ٹو پروگرام کے قرض کے تحت 350 ملین ڈالر کی منظوری دے گا اور خرچ کرے گا اگر اسلام آباد رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں تمام شرائط پوری کرتا ہے۔ پاکستان سعودی عرب سے تیل کی سہولت کی شکل میں 100 ملین ڈالر بھی حاصل کر رہا ہے اور یہ ایس او ایف شاید آنے والے نومبر 2023 میں ختم ہونے والا ہے۔ لہٰذا سعودی فنڈ برائے ترقی کے ذریعے نومبر 2023 کے آخر تک 400 ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ توقع ہے کہ نومبر 2023 تک اسے منظور اور خرچ کر لیا جائے گا۔ اسلامک ڈویلپمنٹ بینک (آئی ایس ڈی بی) کی جانب سے 100 ملین ڈالر فراہم کرنے کا امکان ہے جس میں سے 97 ملین ڈالرز پہلے ہی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ او ایف آئی ڈی کی جانب سے مہمند ڈیم کے لیے 27 ملین ڈالر دینے کا امکان ہے۔ زیر عمل اور خواہش کی فہرست میں ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی مالی اعانت سے ڈومیسٹک ریسورس موبلائزیشن (ڈی آر ایم) سے 300 ملین ڈالر کا ایک اور قرضہ پروگرام ہے اور اسے نومبر 2023 کے آخر تک منظور اور خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید