• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردو میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے افزا۔ یہ فارسی کے اَفز ُودَن سے ہے۔ افزودن کے لغوی معنی ہیں بڑھانا، اضافہ کرنا ۔ افزا کا مطلب ہے : بڑھانے والا، وہ جو اضافہ کرے۔ یہ اردو میں لاحقے کے طور پر مستعمل ہے۔ جیسے روح افزا، رونق افزا، ہمت افزا، راحت افزا، مسرت افزا۔ اسی سے افزائی بھی ہے اور حوصلہ افزائی اور ہمت افزائی بھی اردو میں استعمال ہوتے ہیں۔

سائنسی اصطلاح کے طور پر اردو میں لفظ ’’افزودگی ‘‘استعمال ہوتا ہے جو enrichment کا ترجمہ ہے اور ’’ یورنیم کی افزودگی‘‘ کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے۔ یہ بھی افزودن سے ہے۔ راقم سے گفتگو میں ایک ایرانی نے اس لفظ افزودگی کے اِس استعمال پر اردو والوں کو بہت داد دی تھی اور کہاکہ ایران میں کچھ اور اصطلاح استعمال ہوتی ہے لیکن اردو کی اصطلاح بہتر ہے۔

اس پر یاد آیا کہ ایک بار محترم ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب (جو ایران میں کئی سال اردو پڑھاتے رہے ہیں) نے راقم کو بتایا کہ بعض اردو الفاظ یا مرکبات کا اردو میں ایسا استعمال ہے کہ ایرانی بھی داد دیتے ہیں۔ کہنے لگے کہ ایک بار ایک ایرانی کتب خانے میں کتاب دار (یعنی لائبریرین) سے اردو میں فارسی الفاظ کے استعمال پر بات ہورہی تھی۔ خاتون اس بات پر نالاں تھیں کہ اردو والے فارسی کے بعض الفاظ کو مختلف معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ 

فراقی صاحب نے جواب دیا کہ بعض تراکیب تو اردو والوں نے فارسی کی ایسی بنائی ہیں کہ فارسی میں بھی نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا مثلاً؟ فراقی صاحب نے کہا کہ آپ لوگ فارسی میں اس شخص کو کیا کہتے ہیں جو بیوی کی فرماں برداری غلامی کی حد تک کرتا ہو۔ جواب ملا: زن ذلیل۔ فراقی صاحب نے کہا دیکھیے ہم اردو والے اس کو زن مرید کہتے ہیں۔ وہ اچھل پڑیں اور کہا کہ واقعی اردو کی اصطلاح فارسی سے بہتر ہے۔

خیر یہ کچھ اور ذکر نکل آیا۔ کہنا یہ تھا کہ کچھ لوگ اردو میں اب ’’افزا ‘‘کے آخر میں غیر ضروری طور پر ہمزہ (ء) لکھنے لگے ہیں یعنی افزاء۔ لیکن اس طرح ہمزہ عموماً عربی الفاظ کے آخر میں آتاہے جبکہ افزا فارسی کا لفظ ہے اور اس کے آخر میں ہمزہ لکھنا بے تکی بات ہے۔ 

بلکہ اب تو بعض عربی الفاظ کے اردو املا کے آخر سے بھی ہمزہ نکالنے کی ہمت افزائی کی جاتی ہے ، مثلاً امراء، وزراء، غرباء، ادبا ء ، شعراء، وغیرہ کے آخر میں اب اردو والے ہمزہ نہیں لکھتے کیونکہ اب ان کاارد و تلفظ عربی تلفظ سے خاصا مختلف ہوچلا ہے اور ان الفاظ کو اب عام طور پر امرا، وزرا، غربا، ادبا، شعرا ،وغیرہ (بغیر ہمزہ کے) لکھا جاتا ہے۔ بلکہ فارسی والے بھی اب ان کے آخر میں ہمزہ نہیں لکھتے۔

یعنی ایک طرف تو عربی الفاظ کے اردو املا کے آخر سے ہمزہ نکالنے کی باتیں ہورہی ہیں اور کچھ لوگ بے خیالی میں فارسی الفاظ کے آخر میں ہمزہ کابلا وجہ اضافہ کررہے ہیں۔ درست املا ہے افزا۔ ہمزہ کے بغیر۔