اسلام آباد‘کراچی(ایجنسیاں/جنگ نیوز) حکومت کی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد ملک بھر میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف گرینڈ آپریشن شروع ‘کراچی ‘حیدرآباد ‘پنجاب اورخیبر پختونخواسمیت ملک بھر میں کریک ڈاؤن‘ سیکڑوں گرفتار‘ ہولڈنگ سینٹرز منتقل ‘ کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ ‘ الآصف اسکوائر اور صدر میں کارروائیاں ‘ 20 سے زائد غیر قانونی افراد زیر حراست ‘اسلام آباد میں افغان بستیاں مسمار‘پنجاب بھر میںغیرقانونی مقیم غیرملکی افراد کی فہرستیں تیار‘ضلعی انتظامیہ، پولیس، حساس اداروں سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے مشترکہ ٹیمیں تشکیل ‘ چمن بارڈرسے پیدل آمدورفت کیلئے لوکل دستاویزی سسٹم منسوخ ‘ پاسپورٹ کے بغیر پیدل آمدورفت معطل‘ بارڈر کراسنگ ویزا پاسپورٹ پاکستانیوں کیلئے بھی لاگو کردیاگیا۔نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کا وقت آگیا ہے‘ کسی نے انہیں ناجائز مدد یا تعاون فراہم کرنے کی کوشش کی تو سہولت کاروں کے خلاف بھی کاروائی ہوگی جبکہ وفاقی وزیرداخلہ سرفرازبگٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ہر حال میں واپس جانا ہوگا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہاگیا ہےکہ پاکستان سے غیرقانونی مقیم ایک لاکھ40 ہزار 322 افراد اپنے ممالک واپس جاچکے ہیں اور یہ تمام افراد رضا کارانہ طور پر اپنے ملک واپس گئے ۔ ادھرملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بے دخلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184/3 کی درخواست فرحت اللہ بابر، سینیٹر مشتاق اور محسن داوڑ نے دائر کی۔درخواست میں وفاق، صوبوں، نادرا، وزارت خارجہ وداخلہ کو فریق بنایا گیا۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نگران حکومت کا بڑی تعداد میں لوگوں کی بے دخلی کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیا جائے،جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی شہریت ان کا حق ہے۔