غزہ، کراچی (اے ایف پی، جنگ نیوز) غزہ پر اسرائیلی لڑاکا طیاروں، بحریہ، توپخانے اور فوجی ٹینکوں سے بمباری و گولہ باری کا سلسلہ نہ رک سکا.
یورپی یونین، عرب ممالک اور عالمی برادری کی مذمت کے باوجود اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے جبالیہ مہاجر کیمپ پر دوبارہ بم برسادیئے، کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر ہوگئیں، مزید درجنوں افراد شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے.
اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی ایک بیکری پر بھی بمباری کردی جہاں سیکڑوں افراد قطار لگائے روٹی لینے کیلئے کھڑے تھے، حملے میں متعدد افراد کے شہید اور زخمی ہونے کی اطلاع ہے.
صہیونی افواج نے النصیرت کے مہاجر کیمپ پر بھی حملے کئے جس میں 8افراد کے شہید اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ، اردن، بولیویا، کولمبیا اور چلی نے اسرائیل سے اپنے سفیر واپس بلالئے، 7اکتوبر کے بعد پہلی بار رفاہ کی راہداری کھل گئی.
مصر اور قطر کی ثالثی کے بعد سیکڑوں غیر ملکیوں اور زخمیوں کی مصر آمد ، امریکی صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ غزہ سے امریکی شہریوں کی انخلا کا سلسلہ بھی جاری رہے گا، حماس کے ترجمان اسامہ حمدان کا کہنا ہے کہ صہیونی ریاست کو اپنے قید شہریوں کی بھی فکر نہیں، جبالیہ کیمپ پر بمباری میں 7 اسرائیلی قیدی بھی مارے گئے جس کے بعد صہیونی افواج کی بمباری کے دوران مرنے والے یہودی قیدیوں کی تعداد 50 ہوگئی ہے.
اسرائیلی بمباری کے دوران متعدد فلسطینی خاندان اجتماعی طور پر شہید ہوگئے جن الجزیرہ کے براڈ کاسٹ انجینئر محمد ابو القمصان کے والد اور دو بہنوں سمیت خاندان کے 19 افراد بھی شامل ہیں، غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 8 ہزار 800 کے قریب ہوگئی ہے.
شہداء میں 3 ہزار 648 بچے اور 2 ہزار 290 سے زائد خواتین شامل ہیں جبکہ 22 ہزار 219افراد زخمی ہوئے ہیں،2ہزار 30 افراد لاپتہ ہیں جن میں 1 ہزار 20بچے بھی شامل ہیں جو ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، طبی عملے کے 130 افراد شہید ہوچکے ہیں، 28ایمبولنسز تباہ ہوچکی ہیں جبکہ غزہ میں شعبہ صحت کے اداروں پر 270حملے کئے گئے ہیں۔