• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آکسفورڈ اور کیمبرج بہترین جامعات، داغدار تاریخ کی بھی حامل

آکسفورڈ(اے ایف پی) برطانوی یونیورسٹیوں آکسفورڈ اور کیمبرج کو طویل عرصے سے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شمار کیا جاتارہا ہے اور ان کی تعلیمی فضیلت کا اعتراف کیاجاتا ہے۔تاہم،سیاحوں کو ان کی داغدار تاریخ سے آگاہ کیا جا رہا ہے، جیساکہ برطانیہ تیزی سے اپنے نوآبادیاتی ماضی میں جکڑ رہا ہے۔

یونیورسٹیوں میں آج بھی غلامی کی حمایت کرنے والی نوآبادیاتی دور کی شخصیات کے مجسمے نصب ہیں،آکسفورڈ میں سیسل رہوڈز کا مجسمہ نصب جو کیپ ٹاؤن سے قاہرہ تک برطانیہ کا راج چاہتا اور افریقیوں کو حقیر سمجھتا تھا،لائبریری کرسٹوفر کوڈرنگٹن سے منسوب ،جس کے باغات میں فریقی نسل کے غلام کام کرتے تھے،اپنے گروپ کو آکسفورڈ کی سڑکوں پر لے جانے سے پہلےگائیڈ اور طالبہ کلیئر میک کین نے خبردار کیاکہ یہ پیدل سفرآسان نہیں ہے،.

 خیال رہے کہ یہاں سالانہ تقریباً 70لاکھ سیاح آتے ہیں۔اس کی شاندار عمارتوں میں سے متعدد قرون وسطیٰ سے تعلق رکھتی ہیں،جولندن کے شمال مغرب میں تقریباً 50 میل کے فاصلے پر واقع یونیورسٹی سٹی کی بھرپور تاریخ کی گواہی دیتی ہیں۔ 

برطانیہ کے موجودہ رہنما رشی سونک اور لیبر پارٹی کے مرکزی اپوزیشن لیڈر کیئر اسٹارمر سمیت بیشتر برطانوی وزرائے اعظم نے آکسفورڈ کے مختلف کالجوں میں تعلیم حاصل کی ہے۔تاہم ،کلیئر میک کین کے دورے کا موضوع سیاستدانوں کا تعلیمی دور نہیں بلکہ پریشان کن میراثوں پر مرکوز ہوتا ہے جو کہ نسل پرستی کے خلاف بلیک لائیوز میٹر مظاہروں کے بعد سے برطانیہ میں ایک سلگتا ہوا مسئلہ ابھر کرسامنے آیا ہے۔

ٹور کا پہلا پڑاؤ اوریل کالج تھا، جس کے باہریونیورسٹی کے سابق طالب علم سیسل رہوڈز (1853-1902) کا ایک مجسمہ نصب ہے، جو ایک نوآبادیات کار تھا، جس نے کیپ ٹاؤن سے قاہرہ تک برطانیہ کے تحت افریقہ کا خواب دیکھا تھا۔

جنوبی افریقی نژادگائیڈمیک کین نے سیسل رہوڈز کے بارے میں ایک اقتباس پڑھا ،جس میں سیسل نے افریقیوں کوانسانوں کا سب سے حقیر نمونہ قرار دیا۔ 

انہوں نے دوسری بوئر جنگ (18991902) میں سیسل کے کردار پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ سیسل رہوڈز نے کس طرح ڈی بیئرز کی بنیاد رکھی، جو اب بھی دنیا کی نمبر ایک ہیروں کی کمپنی ہے۔دورے کے ایک حصے کے طور پر میک کین نےہیروں کی کانوں میں ہونے والےاستحصال کے بارے میں بتایا، جس نےسیسل رہوڈز کو دولتمند بنایا اور اسے دنیا کے سب سے باوقار تعلیمی ایوارڈز میں سے ایک قائم کرنے کا موقع دیا۔سیلسل رہوڈز کے قابل ذکر اسکالرز میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن بھی شامل ہیں۔ 

میک کین نے سیاحوں سے سوال کیا کیہ اس مجسمے کے ساتھ کیا ہونا چاہیے؟۔غلامی کی علامت رہوڈز کو گرانا چاہئے مہم کا آغاز کرنے والےطلباء نے مجسمے کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔ لیکن آکسفورڈ نے 2021 میں فیصلہ کیا کہ مجسمہ اپنی جگہ پر نصب رہے گا۔ہائی اسٹریٹ کے اس پار تھوڑے فاصلے پر آل سولز کالج ہے، جسے میک کین نے آکسفورڈ کا سب سے خصوصی کالج قرار دیا ۔

 1430کی دہائی سے تعلق رکھنے والایہ سب سے امیر میں سے ایک ہے اور ہر سال صرف دو یا تین نئے تحقیقی طلباء کو قبول کرتا ہے۔میک کین نے کہاکہ آل سولز ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح باوقار نیٹ ورکس کو تاریخی طور پر معاشی استحصال اور غلامی کی حمایت حاصل رہی ہے۔

 2020 کے بلیک لائیوز میٹر مظاہروں کے بعد آل سولز نے اعلان کیا کہ وہ اپنےسابق طالب علم کرسٹوفر کوڈرنگٹن سے منسوب اپنی لائبریری کا نام بدل دےگا۔

1710میں جب کرسٹوفر کوڈرنگٹن کا انتقال ہوا، تو اس نے اپنی دولت کا کچھ حصہ یونیورسٹی کو عطیہ کردیاتھا، جو آل سولز کی ویب سائٹ کے مطابق جس کی دولت کا بیشترحصہ ویسٹ انڈیز میں ان کے خاندان کے باغات سے آیا ،جہاںافریقی نسل کے غلام کام کرتے تھے۔2018میں شروع ہونے والےاس پریشان کن ٹور میں 20 ہزار افرادنے حصہ لیا ہے۔

 یہ ٹورز کیمبرج میں بھی ہوتے ہیں اوراس کے بانیوں کو امید ہے کہ وہ انہیں لندن اور پیرس تک فروغ دیں گے۔کیمبرج یونیورسٹی کے شاندار کنگز کالج چیپل کے سامنےپرسکون دریائے کیم کے کنارے کے ساتھ چلتے ہوئے گائیڈ ایشلے لانس نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ آکسفورڈ اور کیمبرج کے پاس مشترکہ طور پر چرچ آف انگلینڈ سے زیادہ زمین ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ 2018میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کیمبرج برطانیہ کا سب سے غیر مساوی شہر ہے۔

اہم خبریں سے مزید