• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:پرویز فتح…لیڈز
ہماری دھرتی کے ایک انتہائی قابلِ قدر شاعر، محقق، مفکر، آرکائیوسٹ، ترقی پسند ادیب، مارکسی دانشور اور انسانی حقوق کے علم بردار ہمارے پیارے ساتھی، کامریڈ احمد سلیم 10 دسمبر کو سماجی استحصال سے پاک معاشرے کے سپنے بُنتے اور ایک نئے سویرے کی امید جگاتے، اپنے جگر کے عارضے سے ہار کر ہم سے جدا ہو گئے۔ اُنہوں نے اپنی ساری زندگی ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات، کسانوں، مزدوروں عورتوں، مذہبی اقلیتوں اور غیر منصفانہ سماج کے ہاتھوں پستی ہوئی وفاقی اکائیوں کے حقوق و تحفظ کے لیے اپنے قلم کو ہتھیار بنائے رکھا۔ اُن کا اصلی نام محمد سلیم خواجہ تھا اور وہ 26جنوری 1945کو منڈی بہاؤالدین کے ایک چھوٹے سے قصبے میانہ گوندل کے ایک چھوٹے متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ احمد سلیم جی اپنے عہدِ جوانی میں ہی ایک جفاکش، سچے اور بےباک انقلابی کارکن کے طور پر نمودار ہوئے۔ وہ ایک منجھے ہوئے ترقی پسند ادیب، محقق اور صحافی تھے اور ترقی پسند ادبی تحریک کے انتہائی فعال اور مخلص کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ترقی پسند ادب پرانی وضع، پرانے انداز، دقیانوسی خیالات، رویوں اور طریقوں کو رد کر کے نئے اصول، قاعدے، اسلوب، طرز اور رجحانات کو ترتیب دیتا، اختیار کرتا اور قبول کرتا ہے۔ یہ ادب تہذیب و ثقافت کے نظریہ ارتقاء، فہم و ادراک اور معاشرے کے اثرات سے نشوونما پاتا ہے۔ ترقی پسند شاعری تصوراتی، فرضی اور غیر حقیقی نہیں ہوتی بلکہ یہ ادب کے ذریعے عوامی خدمت کرتی اور حقائق بیان کرتی ہے، لوگوں کا حوصلہ بلند کرتی ہے اور زندگی کا مقصد قابل بیان تصورات اور تذکروں سے کرتی ہے۔ اس لیے یہی ترقی پسندی احمد سلیم جی کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنی اور آنے والی نسلوں کے لیے علم و ادب کا وسیع ذخیرہ مرتب ہونے کا سبب بن گئی، میری احمد سلیم جی سے میری پہلی ملاقات1987میں لاہور میں ہوئی جب وہ قومی انقلابی پارٹی بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ پاکستان میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر کے ایک ایسی مضبوط اور متحریک جماعت بنانے کے قائل تھے جو ملکی سیاسی منظرنامے میں نمایاں کردار ادا کر سکے اور معاشی ڈھانچے کو توڑ کر وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد پر تشکیل نو کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ایک ایسی جماعت جو ملک پر مسلط قبائیلی، جاگیردارنہ، سرمایہ دارانہ، اشرافیہ اور بیوروکریسی کی لوٹ گھسوٹ پر مبنی فرسودہ نظام کو توڑ کر ایک سوشلسٹ معاشرے کے قیام کیلئے قائدانہ کردار ادا کر سکے۔ احمد سلیم جی کی ملک کی سیاسی تاریخ پر گہری نظر تھی۔ انہوں نے درجنوں کتابیں لکھیں اور پاکستانی اخبارات سے ملکی تاریخ کے اہم واقعات کو چار جلدوں میں اکٹھا کیا۔ وہ اک بیباک، بہادر، ثابت قدم اور جہدِ مسلسل کرنے والے انقلابی راہنما کے ساتھ ساتھ پنجابی اور اردو زبان کے شاعر، نثر نگار، کالم نویس اور محقق بھی تھے۔ ان کی زندگی کے ہماجہت پہلو تھے جن کی وجہ سے اُنہوں نے تحقیقی مضامین اور کتب کی تصانیف و ترتیب میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ وہ پنجابی اور اردو کی 175 سے زائد کتابوں اور تحقیقی مقالوں کے مصنف ہیں۔ اُن کے شاعری مجموعوں میں نور منارے، کونجاں موئیاں، گھڑی دی ٹک ٹک، جب دوست نہیں ہوتا اور اک ادھوری کتاب دے بے ترتیب ورق شامل ہیں۔ وہ ملک میں بولی جانے والی دوسری زبانوں کے ادب کا پنجابی میں ترجمہ کر کے شائع کرتے رہے۔ نامور ترقی پسند ادیب شیخ ایاز کی شاعری کا ʼجو بیجل نے آکھیاʼ کے نام سے پنجابی میں ترجمہ بھی کیا، جِسے وہ ہمیشہ فخر سے پیش کرتے تھے۔ ʼنال میرے کوئی چلےʼ اور ʼتتلیاں تے ٹینکʼ کے نام سے دو ناول بھی تخلیق کئے۔ سیاست کے موضع پر جو کتابیں تحریر کیں ان میں ٹوٹتی بنتی اسمبلیاں، سیاست دانوں کی جبری نا اہلیاں، پاکستان اور اقلیتیں، محمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ اور پاکستان کے سیاسی قتل کے نام سرِ فہرست ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے فیض احمد فیض، حمید اختر، مسعود کھدرپوش، احمد راہی اور کئی دوسرے اہلِ قلم پر کتابیں بھی قلم بند کیں۔ اُنہیں بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔
یورپ سے سے مزید