کراچی ( رفیق مانگٹ) بھارتی اخبار نے برصغیر میں اردو ہندی تنازع پر ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا کہ ہندی زبان نے اردو پر سبقت حاصل کرنے کے لئے سو سال جدو جہد کی،یہی ہندی اردو تنازع بعد میں ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کا باعث بنا۔ انڈین ایکسپریس اور میڈیا رپورٹس کے مطابق18ویں اور 19ویں صدی کے اوائل میں، برصغیر کے ان علاقوں میں اردو غالب زبان تھی جنہیں آج ہندی پٹی کہا جاتا ہے جہاں آج ہندی بطور زبان بولی جاتی ہے۔یہ اصطلاح نو ریاستوں بہار، چھتیس گڑھ، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔یہ غلط فہمی ہے کہ ہندو ہندی اور مسلمان اردو بولتے ہیں۔ پریم چند اور امرتا پریتم جیسے نامور مصنفین نے اردو میں لکھا، حالانکہ وہ مسلمان نہیں تھے، آج بھی پنجاب، بہار اور مہاراشٹر میں اردو بہت بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے، مورخ سمیت سرکار نے اپنی مشہور کتاب’’ماڈرن انڈیا، 1885-1947‘‘میں لکھا کہ اردو شمالی ہندوستان کے ایک بڑے حصے میں شائستہ ثقافت کی زبان رہی تھی۔1881-90 تک یو پی میں ہندی میں 2793 جب کہ اردو میں 4380کتابیں شائع ہوئیں، اخبارات کےسرکولیشن اردو کے لیے 16256 اور ہندی کے لیے 8002 تھے۔مغل سلطنت میں فارسی سرکاری زبان تھی۔شمالی ہندوستان کے بڑے حصوں میں اردو نے فارسی کی جگہ لے لی۔ 1860 کی دہائی سے، سرکاری زبان پرتنازع شروع ہوا۔ مورخ کرسٹوفر کنگ نے 1977 میں اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا کہ ایسا نہیں کہ ہندی اور اردو یا فارسی کی تعلیم سرکاری طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بانٹ دی گئی ہو۔ 19ویں صدی میں فارسی اور اردو تعلیم یافتہ مسلمانوں کی سرکاری ملازمت پر اجارہ داری رہی۔ ایک رپورٹ کے مطابق مغلیہ دور میں فارسی عدالتی ،سنسکرت ہندو پجاریوں اورعربی کا استعمال مسلم علما کے ذریعہ ہوتا رہا۔ سنسکرت اور دیوان گری رسم الخط کو خصوصی طور پر برہمنی استعمال کے لیے رکھا گیا تھا۔ 18صدی میں اعلیٰ ذات کے ہندو برہمن انگریزوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے سنسکرت کو ترک کر دیا۔ اور اردو کو قبول کر لیا۔ لیکن انہوں نے اسے نستعلیق رسم الخط کی بجائے دیوان گری رسم الخط میں لکھنا شروع کیا۔ ہندوستانی کا یہ نسخہ ہندی کے نام سے مشہور ہوا۔ اس وقت، اٹھارویں صدی میں، اردو اور ہندی ایک ہی تھے اور صرف ان کے رسم الخط کا فرق تھا ۔ انڈیں اخبار کے مطابق جب زبان اور مذہب ایک ہو گئے۔بنارس کے بابو شیوا پرساد نےاپنی تصنیف’’میمورنڈم: کورٹ کریکٹرز ان اپر پرونسز آف انڈیا‘‘ میں لکھا کہ جب مسلمانوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا، تو انہوں نے ہندی کو یہاں کی زبان پایا،نئے مسلم حکمرانوں نے نئی زبان سیکھنے کی زحمت نہیں کی بلکہ ہندوؤں کو فارسی سیکھنے پر مجبور کیا۔ اسی طرح کے دلائل بھارتی ندو ہریش چندر، جنہیں ہندی ادب کے باپ بھی کہا جاتا ہے، اور پنڈت مدن موہن مالویہ نے بھی پیش کیا،اس کے بعد کئی تنظیموں نے ہندی کا مقدمہ پیش کرنا شروع کردیا،1893 میں بنارس میں ناگری پرچارینی سبھا، 1910 میں الہ آباد میں ہندی ساہتیہ سمیلن، 1918 میں دکشینا بھارت ہندی پرچار سبھا اور 1926 میں راشٹر بھاشا پرچارنی سبھا کا اہم کردار تھا۔1880 میں حکومت ہند نے سر ولیم ہنٹر کی سربراہی میں ایک کمیشن مقرر کیا ،کنگ نے اپنی کتابOne language: two scripts میں لکھا،کئی شمال مغربی صوبوں اور اودھ کی تنظیموں نے ہندی اور ناگری کے حق میں 67000 سے زیادہ دستخط کیے اور انہیں ایک سو یادداشتوں کے ساتھ کمیشن کو بھیج دیا۔1900 میں شمال مغربی صوبوں اور اودھ کی حکومت نے دیوناگری اور اردو رسم الخط کو برابری کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ مسلمانوں نے اس فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔لکھنؤ کے انڈین ڈیلی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے نزدیک یہ آفت سر پر لٹک رہی ہے۔اردو کے ادیبوں کو یقین آیا کہ 1900 کی قرارداد سے ان کی زبان معدوم ہو جائے گی۔ اردو زبان کے دفاع اور فروغ کے مقصد سے کئی تنظیمیں وجود میں آئیں۔ ان میں سرفہرست انجمن ترقی اردو تھی جو 1903 میں قائم ہوئی تھی۔اگرچہ 1903 کی قرارداد نے دونوں زبانوں کے استعمال میں زیادہ تبدیلی نہیں کی لیکن آنے والی کئی دہائیوں تک ہندو مسلم تعلقات کو بھڑکا دیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ 19 ویں صدی کے ہندی اردو تنازع میں مسلم علیحدگی پسندی کے بیج موجود تھے، اور اس نےملک کی تقسیم میں ظاہر کیے۔ دونوں زبانوں کے درمیان مذہبی اختلاف سے مزید فاصلے ہوئے جب پاکستان نے اردو کو اپنی قومی اور سرکاری زبان کے طور پر اپنایا، اور ہندوستان نے انگریزی کے ساتھ ہندی کو اپنی سرکاری زبان کے طور پر اپنایا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق 10ویں صدی عیسوی کے دوران اتر پردیش، بہار، دہلی، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور پاکستان کے کچھ حصوں میں علاقائی زبان سنسکرت کی بگڑی شکل’ پراکرت‘ کے مختلف لہجے بولتے تھے ۔ہندو پجاری زیادہ تر سنسکرت کا استعمال کرتے تھے۔ فارسی عالم اسلام میں ایک قابل احترام زبان تھی ہندوستانی جو حکومت میں شامل ہونا چاہتے تھے انہوں نے بھی فارسی سیکھنی شروع کردی۔