• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کمیشن بمقابلہ پی ٹی آئی … کس وکیل نے کیا کہا

اسلام آباد(رپورٹ :،رانا مسعود حسین) سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان سے متعلق مقدمہ کی تقریبا نو گھنٹے کی طویل سماعت کے بعد رات دیر گئے متفقہ فیصلہ جاری کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم کرکے پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا ہے۔

دوران سماعت  PTI وکلا ، علی ظفر، حامد خان نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کرنے والے ہمارے ممبر ہی نہیں ، الیکشن کمیشن رول آف لا نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان اور اکبر ایس بابر کے وکیل نے جواب الجواب دیا جبکہ الیکشن کمیشن میں شکایت کنند گان محمود احمد خان،یوسف علی،نورین فاروق اور بلال اظہر نے پیش ہوکر بتایا کہ وہ پی ٹی آئی کے ممبرز ہیں ،وہ انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن انہیں حصہ لینے نہیں دیا گیا ہے۔

علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے 175 سیاسی جماعتوں میں سے کسی اور کے پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کئے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان نے جواب الجواب دیتے ہوئے کہا کہ امتیازی سلوک کا الزام درست نہیں ہے انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر 13دیگر جماعتوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے ،ایک جماعت نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا تھا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کو انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے وقت اس بنیاد پر دیا گیا کہ مذکورہ جماعت کے پچھلے انٹرا پارٹی الیکشن کے پانچ سال ابھی پورے نہیں ہوئے تھے۔

دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے الیکشن کمیشن پر بدنیتی کے الزام کا موقف واپس لے لیا جبکہ عدالت نے ایک بار پھر انٹرا پارٹی الیکشن کا معاملہ دو مختلف ہائی کورٹس میں اٹھانے اور معاملے پر پہلے لاہور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار قبول کرنے کا سوال اٹھایا۔

علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ نہ تو آئین اور نہ ہی الیکشن ایکٹ نے الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کے معاملات کی جانچ پڑتال کا اختیار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کسی پارٹی کے انٹرا پارٹی ایکشن کو کالعدم نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی اس بنیاد پر انتخابی نشان دینے سے انکار کرسکتا ہے؟

انہوں نے مزید بتایا کہ آئین کا آرٹیکل 17سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے،انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم کرنا ،پی ٹی آئی کو غیر فعال کرنے اور انتخابی نشان لینا پارٹی کو تحلیل کرنے کے مترادف اور آرٹیکل 17کی خلاف ورزی ہے ، پی ٹی آئی ایک پرائیوٹ ایسو سی ایشن ہے اور اگر انٹرا پارٹی پر کسی کو اعتراض ہے تو سول کورٹ میں دعوی دائر کیا جاسکتا ہے جہاں آئین کے آرٹیکل 10اے کے مطا بق شفاف ٹرائل اور واجب عمل کے آئینی تقاضے پورے کرکے ٹرائل کے بعد فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے دوسرے وکیل حامد خان نے پی ٹی آئی کے بانی ارکان کی فہرست پیش کی 11بانی ارکان میں اکبر ایس بابر کا نام بھی شامل تھا۔

علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا الیکشن کمیشن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن کا جائزہ لے اور ان کو کالعدم قرار دے، الیکشن کمیشن کے پاس یہ بھی اختیار نہیں کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کو کسی مبینہ بے ضابطگی پر نشان الاٹ نہ کرے، آئین اور قانون الیکشن کمیشن کو انٹراپارٹی انتخابات کی اسکروٹنی کا اختیار نہیں دیتا ہے، ایک نشان پر انتخاب لڑنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے، انتخابی نشان سے محروم کرنا سیاسی جماعت اور عوام کے بنیادی حق کی نفی کرنا ہے، الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں ہے اس لیے وہ آرٹیکل 10اے کے تحت شفاف ٹرائل نہیں کرسکتا، تحریک انصاف کے کسی ممبر نے انٹرا پارٹی الیکشن کو چیلنج ہی نہیں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بیس روز میں انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دیاتھا، ہمارے پاس دس روز تھے، اگر بیس دن میں الیکشن نہ کراتے تو الیکشن کمیشن ہماری سیاسی جماعت کو سیاست سے ہی باہر کر دیتا، انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کرنے والے ہمارے ممبر ہی نہیں ہیں، الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں بے قاعدگی کی نشان دہی نہیں کی ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے ماضی میں تلوار کا نشان لیا گیا، پھر پی پی پارلیمنٹیرین بنی۔

علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ اگر الیکشن میں کوئی بے ضابطگی ہے تو الیکشن کمیشن کو جانچنے کا حق نہیں ہے۔

علی ظفر نے کہا الیکشن کمیشن نے 175 سیاسی جماعتوں میں سے کسی اور کے پارٹی انتخابات کالعدم نہیں کئے، ہمایوں اختر کیس میں الیکشن کمیشن نے قرار دیا تھا کہ پارٹی انتخابات کیس میں ہم مداخلت نہیں کر سکتے، ق لیگ میں بھی پارٹی انتخابات درست نہ ہونے کا سوال تھا، لیکن میری جماعت کو تو عملاً ا تحلیل کر دیا گیا ہے۔

علی ظفر کے دلائل مکمل ہوئے تو حامد خان نے آئینی ایشوز پر دلائل دیے اور کہا کہ پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھین کرپارٹی کے کروڑوں ووٹرز کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید