• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مجھے نہیں معلوم کس کو ٹکٹ ملا کس کو نہیں، بانی تحریک انصاف

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) بانی تحریک انصاف نے احتساب عدالت پیشی کے موقع پر کارکنان کی طرف سے ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے شکایات پر کہا کہ مجھے ٹکٹوں کے بارے مشاورت کی اجازت نہیں دی گئی ، مجھے نہیں معلوم کس کو ٹکٹ ملا کس کو نہیں، 850 ٹکٹوں کے بارے میں زبانی کلامی کیسے فیصلہ کر سکتا ہوں۔

قبل ازیں احتساب عدالت میں توشہ خانہ ریفرنس میں 4 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے ، 15جنوری کو مزید گواہان طلب کرلئے گئے۔

ادھر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ نواز شریف لندن پلان کے تحت گارنٹی لے کر پاکستان آیا ہے، ہماری انڈر 16 کو بھی نہیں کھیلنے دیا جا رہا،ہماری انتخابی مہم کا سلوگن ”غلامی نا منظور“ ہو گا، جس نے پارٹی کیخلاف پریس کانفرنس کی اس کو ٹکٹ نہیں دیں گے ، جو مرضی یہ کر لیں ہم آخری بال تک لڑیں گے، فوج سیاسی جماعت نہیں ، آرڈر اوپر سے آتا ہے ، ایک آدمی فیصلہ کرتا ہے، غیر ملکی سفیر یا اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا،غیر ملکی جریدے میں چھپا آرٹیکل وکلا کو زبانی طور پر ڈکٹیٹ کیا تھا ، وکلا کو ہدایت کی تھی کہ میرے وی لاگز سے باقی چیزیں اٹھائی جائیں۔

قبل ازیں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی تو عمران خان اور انکی اہلیہ بشری بی بی کو پیش کیا گیا۔

اس موقع پر توشہ خانہ ریفرنس میں چار گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے ، عدالت نے 15 جنوری کو مزید گواہان کو بیان قلمبند کرانے کیلئے طلب کر لیا ۔

اہم خبریں سے مزید