• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاغذات نامزدگی غلط بیان حلفی کیساتھ جمع کرانے پر سخت ایکشن ہوگا

اسلام آباد (رپورٹ:حنیف خالد)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سرکلر نمبر ایف ٹو (ون) 2023کوآرڈر وی او ایل‘ ایکس ون 13جنوری 2024ءکو جاری کیا ہے جس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ ایک پولیٹیکل پارٹی سے وابستہ امیدوار دوسری پارٹی کا انتخابی نشان حاصل نہیں کریگا۔

الیکشن 2024ء کے قومی و صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی غلط بیان حلفی کے ساتھ جمع کرائیں گے یا جمع کرائے ہونگے تو اُن کیخلاف سخت قانونی ایکشن ہو گا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین سکندر سلطان راجہ اور چاروں صوبوں کے الیکشن کمیشن کے ممبرز نثار احمد درانی‘ شاہ محمود جتوئی‘ بابر حسن بھروانہ‘ جسٹس (ر) اکرام اللہ خان نے 13جنوری کو اپنے دستخطوں کے ساتھ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آرڈر پر عملدرآمد کا سرکلر اپنے سپیشل سیکرٹری ٹو ظفر اقبال حسین کے ذریعے تمام ریجنل الیکشن کمشنروں‘ تمام ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنروں‘ پنجاب‘ سندھ‘ خیبر پختونخوا‘ بلوچستان کے پراونشل الیکشن کمشنرز کو لاہور‘ کراچی‘ پشاور‘ کوئٹہ بھجوا دیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اس آرڈر پر تمام ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسروں اور ریٹرننگ افسروں کو لازمی عملدرآمد کرنا ہو گا۔

13جنوری 2024ء کو بھجوائے گئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین سکندر سلطان راجہ‘ ممبرز نثار احمد درانی‘ شاہ محمود جتوئی‘ بابر حسن بھروانہ‘ جسٹس (ر) اکرام اللہ خان نے اپنے آرڈر میں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بہت سے اشخاص کی طرف سے درخواستیں موصول ہوئی ہیں کہ متعدد دلچسپی رکھنے والے امیدوار قانون کی خلاف ورزی کے عزائم رکھتے ہیں‘ الیکشن کمیشن سے دھوکہ دہی کر سکتے ہیں اور وہ واضح طور پر کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرائے گئے بیان حلفی کی خلاف ورزی کرنے لگے ہیں۔

اسکے علاوہ امیدواران الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 66کی ذیلی شقوں خاص طور پر سیکشن 66کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ امیدوار کو اپنی پارٹی سے وابستگی کا سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہو گا۔ الیکشن لڑنے والا امیدوار انتخابی نشان کی الاٹمنٹ سے پہلے ریٹرننگ افسر کے روبرو ڈکلیئریشن فائل کریگا کہ اُسکی کس سیاسی جماعت کے ساتھ وابستگی ہے۔ اگر وابستگی نہیں تو وہ اس حکم کا پابند نہیں ہو گا۔ اگر کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اُسکی وابستگی ہے تو اُسے اُس سیاسی جماعت کا سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہو گا کہ وہ فلاں سیاسی جماعت کا اُس حلقے میں اُمیدوار ہے۔

اسی طرح الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 2003کے سب سیکشن تین کے تحت اُمیدوار کو کوئی شخص بیک وقت ایک سے زیادہ سیاسی پارٹی کا ممبر نہیں ہو گا۔

اسی طرح الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 205کا پابند ہو گا۔ سیکشن 205اُمیدوار کی معطلی یا اخراج کے متعلق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے ممبرکی رکنیت معطل ہو سکے گی اور اسے سیاسی جماعت کی ممبرشپ سے خارج کیا جا سکے گا جو سیاسی جماعت کے آئین میں دیئے گئے پروسیجر سے انحراف کریگا۔

کسی سیاسی جماعت کی رُکنیت سے اخراج یا معطل کئے جانے کے آرڈر سے قبل ایسے ممبر آف سیاسی پارٹی کے موقف کی مناسب سماعت ہو گی اور اُس کیخلاف مجوزہ ایکشن کیلئے شوکاز جاری ہوگا۔

اسی طرح ہر اُمیدوار پر یہ لازم ہو گا کہ وہ فارم بی پر بیان حلفی جمع کرائیں جس میں اس بات کی تصدیق کی جائے گی کہ فارم اے کے حلف جو کہ سیاسی جماعت سے وابستگی یا ناوابستگی سے متعلق ہو گا‘ جس کے سیاسی جماعت کے امیدوار کے طور پر اس نے الیکشن ایکٹ 2017ء سیکشن 66کے تحت کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید