• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نائٹروجن ہائپوکسیا یا نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت کیا ہے؟

--- فائل فوٹو
--- فائل فوٹو

امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قتل کے مجرم کو نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت دی گئی۔

ریاست الاباما میں قتل کے مجرم کو متنازع طریقہ کار سے نائٹروجن سزائے موت دی گئی۔

نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت:

نائٹروجن ہائپوکسیا یا نائٹروجن گیس کے ذریعے دم گھونٹ کر جان سے مار دینا، سزائے موت کا دینے کا ایک طریقہ ہے۔

نائٹروجن گیس کے ذریعہ دم گھونٹ کر سزائے موت دینے کے لیے مجرم کو سانس لینے والا ماسک پہنا دیا جاتا ہے اور سیلنڈر میں موجود ہوا یا آکسیجن گیس کو خالص نائٹروجن گیس سے بدل دیا جاتا ہے۔

ایسے وہ مجرم آکسیجن سے محروم ہو جاتا ہے اور پھر چند سیکنڈوں میں بے ہوش ہو جاتا ہے۔

بالآخر چند منٹوں میں وہ آکسیجن کی کمی کے باعث موت کی نیند سوجاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نائٹروجن سے دم گھونٹنے کا عمل باضابطہ طور پر سزائے موت کے لیے اپنایا جاسکتا ہے لیکن یہ کوئی حقیقی طبی عمل نہیں ہے۔

یہ کیسے کام کرتا ہے؟

یوں تو عام ہوا میں موجود مختف گیسز میں نائٹروجن 78 فیصد پائی جاتی ہے۔ اگر ہم سائنس کے ذریعے جو ہوا لیتے ہیں اس میں نائٹروجن کے ساتھ آکسیجن بھی موجود ہوتو یہ نقصان دہ نہیں ہوتی لیکن اگر ہوا کے تناسب سے آکسیجن کو خارج کرکے 100 فیصد نائٹروجن کردیا جائے تو دم گھٹنے سے انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

یہ متنازع طریقہ کار کیوں ہے؟

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس طریقہ کار کو غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک یا سزا کے برابر قرار دیا ہے۔

الاباما، اوکلاہوما اور مسیسیپی میں نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت دینے کے طریقہ کار کو پہلے ہی منظوری ملی ہوئی ہے۔

الاباما کے اٹارنی جنرل اسٹیو مارشل نے دعویٰ کیا کہ نائٹروجن کے ذریعہ دم گھونٹ کر سزائے موت دینے کا اب تک وضع کردہ شاید یہ سب سے زیادہ غیر انسانی طریقہ ہے۔

نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت پانے والے مجرم اسمتھ کے وکلاء کی دلیل:

اسمتھ کے وکلاء نے یہ دلیل دیتے ہوئے نائٹروجن کے ذریعہ دم گھوٹنے کے عمل کو روکنے کی کوشش کی تھی کہ ریاست اسے ایک تجرباتی عمل کے طریقہ کار کے لیے تجربہ کا موضوع بنارہی ہے۔ جوکہ امریکا میں ظالمانہ اور غیر معمولی سزا پر آئینی پابندی کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

وکلاء کا کہنا تھا کہ اپنی پہلی کوشش میں اسمتھ کو مارنے کی کوشش میں ناکام ہوجانے کے بعد الاباما نے اسے ’گنی پگ‘ کے طورپر منتخب کیا ہے تاکہ سزائے موت کا ایسا طریقہ آزمایا جا سکے جس کی پہلے کبھی کوشش نہیں کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ مجرم اسمتھ کو 1989ء میں ایک مبلغ کی اہلیہ کو قتل کرنے پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اسمتھ کو الاباما ریاست نے 2022ء میں مہلک انجکشن دے کر سزائے موت پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں ناکامی ہوئی تھی۔ تاہم آج اسمتھ کوماسک سے نائٹروجن گیس دی گئی اور وہ 40 منٹ سے بھی کم وقت میں مردہ قرار دے دیا گیا۔

اس سے قبل امریکا میں کسی کو سزائے موت دینے کے لیے یہ طریقہ استعمال نہیں کیا گیا۔

خاص رپورٹ سے مزید