سینئر صحافی نجم سیٹھی نے بھارتی صحافی راجدیپ سردیسائی کو پاکستانی خارجہ پالیسی سے متعلق پوچھے گئے سوال کا کرارا جواب دے دیا۔
نجم سیٹھی نے بھارتی میڈیا سے پاکستانی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات سے متعلق بات کی۔
راجدیپ سردیسائی نے نجم سیٹھی سے سوال کیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف یا چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں حتمی فیصلے کون کرتا ہے؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نجم سیٹھی نے اس معاملے کو ’مشترکہ پلیٹ فارم‘ قرار دیا اور بتایا کہ ہماری حکومت اور عسکری قیادت مکمل ہم آہنگی سے کام کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے حال ہی میں وزیرِ اعظم نے ترکیہ کا دورہ کیا، وزیرِ خارجہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور فیلڈ مارشل نے ایرانی قیادت کے ساتھ بات چیت کی سہولت فراہم کی۔
گفتگو دلچسپ اس وقت ہوئی جب راجدیپ سردیسائی نے اسے فیٹف واچ لسٹ اور آپریشن سندور کی طرف موڑنے کی کوشش کی لیکن نجم سیٹھی نے انہیں پرانا موضوع قرار دے کر بات کرنے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور میں کیا ہوا، وہ بھی آپ جانتے ہیں، آپ کو دنیا میں کہیں سے ہمدردی نہیں ملی، کسی کو آپ کے مؤقف پر یقین نہیں، اس لیے ابھی پاک بھارت تنازع میں نہ پڑیں۔
نجم سیٹھی کے اس جواب پر راجدیپ سردیسائی کو اعتراف کرنا پڑا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی عالمی سطح پر عزت بہت بڑھی ہے۔
سوشل میڈیا پر نجم سیٹھی کے اس انٹرویو کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور صارفین کی جانب سے ان کی خوب تعریفیں بھی کی جا رہی ہیں۔