• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’گٹھیا‘‘ خون میں یورک ایسڈ جمنے کے نتیجے میں یہ مرض لاحق ہوتا ہے

ڈاکٹر عظمیٰ مبین (جنرل فزیشن )

گٹھیا ایک بیماری ہے جو آپ کے جوڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس میں آپ کے جوڑوں کی سوزش اور انحطاط شامل ہوتا ہے جب ہم ان جوڑوں کو ہلاتے ہیں تو ان میں درد پیدا ہوتا ہے۔ یہ مرض پاؤں، ہاتھ، کولہے، گھٹنے اورکمر کے نچلے حصے کوزیادہ متاثر کرتا ہے ۔گھٹیا کا مرض ہر عمر کےلوگوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ اس مرض کے باعث چلنے پھیرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔گھٹیا یا جوڑوں کا درد بہت تکلیف دہ ہوتا ہے اور اسے تمام امراض کی جڑ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

عام طور پر یہ مرض خون میں یورک ایسڈ جمنے کے نتیجے میں ہوتا ہے، یورک ایسڈ جسمانی پراسیس کے نتیجے میں خارج ہوتا ہے اور عام طور پر خون میں تحلیل ہوکر گردوں کے راستے یورین کے ذریعے نکل جاتا ہے، مگر جب جسم میں اس کی زیادہ مقدار بننے لگے تو گردے اس سے نجات پانے میں ناکام رہتے ہیں۔اس کے نتیجے میں یہ جوڑوں میں کرسٹل کی شکل میں جمنے لگتا ہے ،جس سے جوڑوں میں درد ہوتاہے۔اس مرض کا شکار ہونے سے پہلے علامات سامنے آتی ہیں جن کو بھانپ کر اس سے بچنے کی تدبیر کی جاسکتی ہے۔اس کی علامات ہر دن مختلف ہو سکتی ہیں۔ یہ بیماری مردوں کے مقابلے خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے۔

اقسام

گٹھیا کی تمام اقسام جوڑوں کو مختلف طریقوں سے نقصان پہنچاتی ہیں۔

اوسٹیو آرتھرائٹس

اس کی سب سے عام قسم اوسٹیو آرتھرائٹس ہے۔ اس میں جوڑوں کے کارٹیلج کا ٹوٹنا اور آنسو کا نقصان شامل ہے ۔ آنسو ہڈیوں کے سروں پر سخت چکنی کوٹنگ جہاں وہ جوڑ بناتے ہیں۔ کارٹلیج ہڈیوں کے سروں کو سپورٹ دیتا ہے اور بغیر رگڑ کے ہڈیوں کے جوڑوں کو حرکت میں مدد دیتا ہے لیکن اس تکلیف میں ہونے والے نقصان کی وجہ سےہڈیاں آپس میں ٹکڑا سکتی ہیں ،جس کی وجہ سے درد پیدا ہوتا ہے اور حرکت میں تکلیف ہو تی ہے۔ یہ ہڈی میں تبدیلی اور جوڑنے والی بافتوں کو بگاڑنے کا سبب بھی بنتی ہے، جس کی وجہ سے جوڑوں میں سوجن ہو جاتی ہے۔

رمیٹی سند شوت

اس قسم کے آرتھرائٹس میں ایک سخت جھلی تمام جوڑوں کے حصوں کو گھیر لیتی ہے ،جس کے سبب ہڈیاں سوج جاتی ہیں۔

سوریاٹک گٹھیا

اس قسم کے گٹھیا میں جلد میں سوزش پیدا ہوتی ہے اور جلد کی رنگت مانند پڑجاتی ہے ۔ یہ 30 سے 50 سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ عام طور پرکہنیوں اور گھٹنوں کے سروں، کھوپڑی اور ناف کے آس پاس کی جلد کو متاثر کرتا ہے۔ یہ انگلیوں کی سوزش کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس قسم کے گٹھیا کے متاثر مریضوں کے ناخن اکثر بے رنگ ہو جاتے ہیں۔

گاؤٹ

اس میں جوڑوں میں یورک ایسڈ کرسٹلز جمع ہو جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ تر پائوں متاثر ہوتے ہیں۔ یہ اچانک آپ کےپائوں کے انگوٹھے میں شدید درد کی صورت میں ہوتا ہے،اس کی وجہ یہ ہو تی ہے کہ آپ کے جسم میں یورک ایسڈ بڑھ رہا ہے۔

لیوپس

لیوپس ایک خودکار مدافعت کی بیماری ہے جو آپ کے جوڑوں اور بہت سے اعضاء کو متاثر کرتی ہےاور یہ مدافعتی نظام کو خراب کرنے کا باعث بھی بنتی ہے ۔یہ آپ کے پورے جسم میں جوڑوں سے لے کر تمام اعضاء تک اور آپ کے دماغ تک سوزش اور درد پیدا کرنے لگتی ہے۔

عوامل

گٹھیا کا مرض لاحق ہونے میں ذیل میں موجود عوامل ہوسکتے ہیں۔

خاندانی تاریخ

گٹھیا کی کچھ اقسام موروثی ہوتی ہیں۔ لہٰذا اگر آپ کے والدین یا بہن بھائیوں میں یہ عارضہ ہے تو آپ کو آرتھرائٹس ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

عمر

گھٹیا کی کئ اقسام کا خطرہ بڑھتی عمر کے ساتھ بڑھ جاتا ہے اس میں اوسٹیو آرتھرائیٹس اور گاؤٹ وغیرہ شامل ہیں۔

جوڑوں پر چوٹ

ماضی میں جوڑوں پر لگی چوٹ بھی گٹھیا کے مرض میں مبتلا کر سکتی ہے۔

موٹاپا

اضافی وزن آپ کے جوڑوں پر دباؤ ڈالتا ہے،جس سے گھٹیا کا مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر کولہوں، گھٹنوں اور ریڑھ کی ہڈی پر۔جو لوگ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں ان میں یورک ایسڈ بھی زیادہ بنتا ہے اور گردوں کے لیے ان کو خارج کرنا مشکل ہوجاتا ہے، ایسے افراد میں اس مرض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر موٹاپے کے شکار افراد میں گھٹیا کی تشخیص ہو تو انہیں طرز ِزندگی میں تبدیلیاں لانا ضروری ہوتا ہے ،تاکہ جسمانی وزن میں کمی لاکر اس تکلیف کو کم کیا جاسکے۔

علامات

گٹھیا کی مختلف اقسام میں مختلف علامات ہو سکتی ہیں جو کچھ لوگوں میں کم اور کچھ میں شدید ہو تی ہیں۔ جوڑوں کی تکلیف بعض لوگوں کو وقفے وقفے سے ہوتی ہیں اور کچھ کومستقل رہتی ہیں ۔ اس کی عام علامات جوڑوں میں درد، جوڑوں کا سرخ ہونا، سوجن اورسختی شامل ہیں۔ گٹھیا کی علامات صبح کے وقت زیادہ شدید ہوسکتی ہیں جب آپ آرام کرنے کے بعد بستر سے کھڑے ہوں۔

پاؤں کے انگوٹھے سوجنا

اس مرض کی عام علامت پیروں کے انگوٹھوں کا سوجنا ہوتا ہے جو کہ یورک ایسڈ کے جمع ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس میں درد کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ نصف شب کو ہوتا ہے اور اتنا شدید ہوتا ہے کہ ہلنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی، وہ انگوٹھا گرم، سرخ اور سوج جاتا ہے، تاہم چند ہفتوں کے بعد یہ دردخود بہ خود ختم ہوجاتا ہے اور کبھی بھی دوبارہ شروع ہوجاتا ہے ۔

جوڑوں کا سوجنا

اس مرض میں جسم کا کوئی بھی جوڑ متاثر ہوسکتا ہے جہاں یورک ایسڈ جمع ہونے لگتی ہے، مردوں میں عام طور پر پیر، گھٹنے اور کہنیاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں جب کہ خواتین میں ہاتھ اور گھٹنے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

مخصوص ادویات کا استعمال

اگر ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے ادویات استعمال کی جارہی ہوں تو بھی جسم میں یورک ایسڈ کی سطح بڑھنے لگتی ہے۔ جوڑوں کے مرض یا ہڈیوں کی کمزوری کے شکار کے افراد اگر ان ادویات کا استعمال کرتے ہیں توان میں گھٹیا کے مرض کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ناقص غذا

بیف اورسافٹ ڈرنکس کا کثرت سے استعمال بھی اس مرض کا باعث بنتا ہے ، جس کی وجہ جسم میں جاکر ان کا یورک ایسڈ میں تبدیل ہونا ہے، اگر جسم قدرتی طور پر یورک ایسد کو خارج نہ کرسکے تو گھٹیا کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔آج کل جنک فوڈکا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے ،جس کے سبب جوڑوں کا مرض تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ایسے لوگ بھی اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں جن کے خاندان میں اس کی تاریخ نہیں ملتی۔

علاج

اس کا علاج ادویات ،سپلیمینٹس، جسمانی تھراپی،باقاعدہ ورزش، وزن میں کمی اگر ضرورت ہو۔

وجوہات

گھٹیا کی مختلف اقسام کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر گاؤٹ جسم میں بہت زیادہ یورک ایسڈ کا نتیجہ ہے لیکن اس کے علاوہ مزید اقسام کے لئے کوئی خاص وجہ نہیں ہوتی۔ آپ کو گٹھیا ہو سکتا ہے اگرآپ کی خاندانی تاریخ ہے۔ایسا کوئی کام ، نوکری یا کھیل کھیلیں جو آپ کے جوڑوں پر دباؤ ڈالتا ہو ۔

صحت سے مزید