• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

چیمپئنز ٹرافی: بھارت نے ماضی کی طرح ہٹ دھرمی دکھائی تو پاکستان کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی

کرکٹ کے حلقوں میں اس وقت یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا آئندہ سال فروری میں آئی سی سی چیمپنز ٹرافی کے لئے بھارتی ٹیم پاکستان آئے گی ؟۔پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کہتے ہیں کہ میں اس بارے میں نہیں سوچ رہا کہ بھارت آئے گی یا نہیں، بھارت یقینی طور پر پاکستان آئے گا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اکتوبر میں ورلڈ کپ کے لئے بھارت کا سفر کیا تھا۔ حالانکہ بھارتی کرکٹ ٹیم نے ایشیا کپ کے لئے پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا۔ پاکستان نے ہمیشہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھا ہے لیکن بھارت کرکٹ کو سیاست میں ملوث کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

چیمپنز ٹرافی کے لئے ملک کے گراونڈز کی اپ گریڈیشن کا جامع پلان تیار، پاکستان کی تیاریاں بھی جاری ہے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم2008 میں آخری بار ایشیا کپ کھیلنے کراچی آئی تھی۔ دونوں ٹیمیں آئی سی سی ٹورنامنٹ اور ایشین کرکٹ ٹورنامنٹس میں آمنے سامنے آتی رہتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت نے آخری بار دو طرفہ ٹیسٹ سیریز 2007 میں کھیلی تھی جب پاکستان بھارت کے دورہ پر تھا اور اسےایک صفر سے شکست ہوئی تھی۔2012-13میں پاکستانی ٹیم دو ٹی ٹوئینٹی اور تین ون ڈے انٹر نیشنل کے لئے بھی بھارت گئی تھی۔پھر2016میں ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لئے پاکستانی ٹیم نے کول کتہ اور موہالی میں میچ کھیلے تھے۔

اب آئی سی سی چیمپنز ٹرافی میں بھارت کی اسپورٹس مین شپ کا ایک اور امتحان ہے اگر بھارت نے ماضی کی طرح ہٹ دھرمی دکھائی تو پاکستان کو بھی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔چند دن پہلے ایک پوڈ کاسٹ میں انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے روہت شرما سے سوال پوچھا کہ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اگر بھارت اور پاکستان باقاعدگی سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں تو اچھا ہوگا؟جواب میں روہت شرما نے تسلیم کیا کہ وہ بھی پاک-بھارت ٹیسٹ سیریز دوبارہ بحال ہونا دیکھنا چاہتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلا گیا آخری ٹیسٹ میچ 2006 یا 2007 میں کھیلا گیا تھا جب وسیم جعفر نے ایڈن گارڈنزمیں ڈبل سنچری بنائی تھی۔ میں چاہتا ہوں کہ پاک بھارت ٹیسٹ سیریز ہو، پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹیسٹ میچز بہت شاندار ہوں گے، ہم پہلے ہی آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستان کے خلاف کھیل چکے ہیں۔ روہت شرما نے کہا کہ میری رائے خالص کرکٹ پر مبنی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں، پاکستان ایک زبردست ٹیم ہے، پاکستان کی بولنگ بہت زبردست ہے ،اوور سیز کنڈیشن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تگڑا مقابلہ ہوگا۔

واقعی پاکستان اور بھارت کی سیریز کا دنیا کو شدت سے انتظار ہے یہی وجہ ہے کہ انگلینڈ اور آسٹریلیا ،پاکستان اور بھارت کی سیریز کی میزبانی کی پیشکش کرچکے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی ہدایت پر پی سی بی پہلی بار ایک سال کا جامع شیڈول ترتیب دے رہا ہےجس کے لئے انٹر نیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کےشیڈول تیاری کے آخری مرحلے میں ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ حکام میٹنگز میں مصروف ہیں اوراس تفصیلی پلان کا اعلان اگلے مہینے کے شروع میں کیا جائے گا ایک سال کے دوران پاکستان چیمپنز ٹرافی کے علاوہ بنگلہ دیش، انگلینڈ، نیوز ی لینڈ اور جنوبی افریقا کی میزبانی کرے گا پی ایس ایل میں بڑے کھلاڑیوں کو پاکستان لانے کے لئے معاوضے میں اضافے کی بھی تجویز ہے۔ 

پاکستان کرکٹ بورڈ انٹر نیشنل سیزن کو سامنے رکھ کر مردوں اور خواتین کے ٹورنامنٹ کا پلان ترتیب دیا جارہا ہے۔ گراونڈز اور انفرااسٹرکچرکے ساتھ کمرشل ویلیو کا بھی خیال رکھا جارہا ہے تاکہ جو کرکٹ ہو وہ فائدہ مند ہو اور سیزن کے دوران بار بار گراونڈ تبدیل ہوں۔ ماضی میں پاکستان کرکٹ میں ہونے والے بدانتظامی کے واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے محسن نقوی نے پی سی بی حکام کو اپنے لانگ ٹرم وژن سے آگاہ کیا۔

یہ طے کیا جائے گا کہ انٹر نیشنل میچ کس کس گراونڈ میں ہوں گے اور ڈومیسٹک میچوں کی میزبانی کن کن گراونڈز کو کرنا ہے۔ محسن نقوی نے ہدایت کی ہے کہ سیزن کے دوران وینیوز تبدیل نہ ہوں ایسی کرکٹ کرائی جائے جو فائدہ مند ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اگلے سال فروری میں آئی سی سی چیمپنز ٹرافی کی میزبانی کرنا ہے اس سے قبل جنوری میں پاکستان، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان تین قومی ون ڈے ٹورنامنٹ ہوگا اس لئے پی سی بی حکام کو چیمپنز ٹرافی کو سامنے رکھتے ہوئے اپریل اور مئی میں پی ایس ایل کی ونڈو کو بھی حتمی شکل دے رہا ہے۔

اس سال پی ایس ایل نائن ہوئی ہے اس لئے ایک سال میں دوسری پی ایس ایل کرانا مشکل ہےجبکہ مصروف انٹر نیشنل سیزن کی وجہ سے اس سال پی ایس ایل کا ہونا ناممکن ہے۔ اگلے سال پی ایس ایل ،آئی پی ایل سے متصادم ہوگی۔پی سی بی ونڈو پر مطمین ہوکر یہ معاملہ پی ایس ایل گورننگ کونسل کے سامنے رکھے گا۔پاکستان کو اس سال کے اوائل میں بنگلہ دیش کی میزبانی کرنا ہےجس کے بعد انگلینڈ نے پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔ پاکستان ٹیم نے جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کا دورہ کرنا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل کے 10 ویں ایڈیشن کے لیے اچھی ونڈو نکالنے کے لیے پر امید ہے اور اس سلسلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جلد مشاورت کی جائے گی۔ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے کہا ہےکہ انٹرنیشنل کمٹمنٹس کو پورا کرنے کے ساتھ پی ایس ایل کے 10 ویں ایڈیشن کے لیے ایک مناسب ونڈو نکالیں گے، تمام فرنچائزز اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ روایتی طور پر جنوری سے مارچ کے درمیان ہوتی ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ پی ایس ایل 10 کیلئے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایونٹ بین الاقوامی وعدوں سے متاثر نہ ہو۔ پی ایس ایل پاکستان کا برانڈ ہے جس کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ پاکستان کا ایک برانڈ ہے ، نہ کوئی کوتاہی ہوگی نہ اسے نظر اندز کیا جائے گا ۔ پی ایس ایل چیلنج پر پورا اتریں گے ،کوئی کوتاہی نہیں ہوگی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ چیمپنز ٹرافی کی تیاریاں شروع کرچکا ہے۔ جون میں نیویارک میں بھی پاک بھارت ٹاکرے کے ٹکٹ نایاب ہوگئے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ پاک بھارت سیریز ایشیز سے بھی زیادہ کامیاب سیریز ہوسکتی ہے۔ پاک بھارت انٹر نیشنل کرکٹ میچ دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والا میچ ہے۔ اگر دونوں ملکوں کی ٹیسٹ سیریز شروع ہوجاتی ہے تو اس کا فائدہ دونوں ملکوں کو ہوسکتا ہے۔ بھارت کے شائقین پاکستانی اسٹارز اور پاکستانی شائقین بھارتی کھلاڑیوں کو اپنے گراونڈز میں ایکشن میں دیکھنا چاہتے ہیں۔اس لئے بھارت کو بڑے دل کا مظاہرہ کرکے دو طرفہ سیریز کو بھال کرنا ہوگا۔ورنہ پاکستان کی کرکٹ بھارت کے بغیر بھی سالہا سال سے چل رہی ہےاور کامیابی سے چلتی رہے گی۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید