گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے گاؤں کھرکو میں پاک فوج نے ایک روزہ میڈیکل کیمپ لگایا۔
میڈیکل کیمپ میں 1500 سے زائد مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
مریضوں کو روٹین میڈیکل، ڈینٹل چیک اپ، ای سی جی اور لیب انویسٹیگیشن کی سہولت دی گئی۔
کیلے صحت کے لیے انتہائی مفید ہوتے ہیں اور یہ مختلف غذائی فوائد اس بنیاد پر پہنچاتے ہیں کہ وہ پکنے کے کونسے مرحلے میں ہیں۔ سبز کیلے نشاستہ سے زیادہ مزاحمت فراہم کرتے ہیں، پیلے کیلے نسبتاً آسانی سے ہضم ہو جاتے ہیں، جبکہ بھورے دھبوں والے بہت زیادہ پکے کیلے میں بعض اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے۔
کراچی سے 2 دن میں ایم پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا۔ اسپتال حکام کے مطابق کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی کے 35 سالہ رہائشی میں ایم پاکس کی تصدیق ہوئی۔
یونیورسٹی آف سڈنی کے محقیقن نے اپنی نئی تحقیق میں کم از کم 80 قدم فی سیکنڈ چلنے کو چلنے کی وضاحت کی ہے۔
خیبر پختون خوا میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 3 ہو گئی۔
تحقیق کے مطابق 2 ارب 71 کروڑ سے زائد افراد دوسروں کے تمباکو نوشی کے مضر دھویں سے متاثر ہوئے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے برطانیہ کے 11 ہزار ایسے افراد کا جائزہ لیا جنہیں پہلے سے قلبی بیماری لاحق نہیں تھی۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا ہے کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالرز کے ایم او یو طے پائے ہیں۔
تحقیق میں برطانیہ کے تقریباً 9 لاکھ 80 ہزار افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔
اگر رنگت کی تبدیلی کے ساتھ پھپھوندی، رس کا رسنا، ناگوار بو یا اندر سے سیاہ گودا موجود ہو تو عموماً کیلے کو پھینک دینا بہتر ہے۔
انڈہ ابالنے کے 6 مختلف اوقات اور ان کی حالت کچھ یوں ہے کہ 4 منٹ تک ابالنے میں زردی مکمل طور پر مائع (پتلی) رہتی ہے جبکہ سفیدی ہلکی سی جمتی ہے۔
محققین نے جی ایل پی 1 ادویات اور مردوں میں بال جھڑنے کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سبز پتوں والی سبزیاں (پالک، بروکلی)، دالیں، مٹر، انڈے اور گری دار میوے فولیٹ کے بہترین قدرتی ذرائع ہیں جنہیں روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنا چاہیے۔
ریبیز کی علامات ظاہر ہونے میں کئی ہفتے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) نے طبی شعبے میں خودکار تشخیص کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ڈاکٹروں کی گئی جدید تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کھانے کا وقت دل اور شریانوں کی صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔
قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں 12 سال کے بچے کے دل میں پیوست گولی نکال لی گئی۔