• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روز آشنائی … تنویر زمان خان، لندن
زندگی تو بے وفا ہے، ایک دن ٹھکرائے گی۔ بس اسی طرح کے صبر اور شکر کے مصرے اور جملے ہوتے ہیں، جو صدمے پر مرہم کا کام کرتے ہیں۔ محبوب خان کے چلے جانے کا دکھ بھی اسی طرح کا ہے، میری محبوب خان کے ساتھ47 سال پرانی دوستی تھی، ہم دونوں نے زندگی کا وہ وقت اکٹھے گزارا جسے عموماً زندگی کا پرائم ٹائم کہا جاتا ہے، پنجاب یونیورسٹی سے شروع ہوکے لیبیا سازش کیس، مفروری اور اشتہاری رہنے کے اوقات، جیل کے ساڑھے تین سال اور1988ء میں وہ سب تو ختم ہوا لیکن اگلا دور جو میرا تو لندن کی جلا وطنی میں گارا لیکن محبوب خان کی انسانی حقوق کی بحالی کی کٹھن وکالت میں گزرا۔ جب ہم کسی دوسرے ملک میں آباد ہوجاتے ہیں تو اپنے مک واپس جانے کی تڑپ خواہ وہ چند ہفتوں کی ہالی ڈے ہی کی کیوں نہ ہو۔ اس میں چند دوستوں یا عزیزواقارب کی محبت یا چاہت ہی ہوتی ہے جو اپنے ملک جانے کی کھینچ کا سبب بنتی ہے۔ محبوب خان کی محبت بھی ان ہی میں سے ایک تھی۔ 1991ء میں محبوب خان نے ایک طرح سے خود کو مکمل طور پر انسانی حقوق کی بحالی کی جدوجہد کے لیے وقف کردیا اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستانHRCPکو جوائن کرلیا اور اگلے 25سال عاصمہ جہانگیر (مرحوم) کے ساتھ کام کیا۔ زمانہ طالب علمی میں محبوب خان نے اپنی طلبہ سیاست کا آغاز فیصل آباد سے کیا اور نیشنل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشنNSOسے وابستہ ہوا اور اس تنظیم کی پنجاب کی صدارت کے عہدے تک پہنچا۔ یہ ایک بائیں بازو کی تنظیم تھی۔ محبوب تنظیم کی طرف سے تفویض کردہ لیبر میں کام کرنے کی ذمہ داریاں بھی نبھاتاتھا۔ ٹریڈ یونین کے لوگوں سے رابطے رکھنا، انہیں منظم کرنا، ان کی نظریاتی تربیت کرنا، یہ وہ کام تھے جو محبوب خان زمانہ طالب علمی میں طلبہ سیست کے ساتھ ساتھ سرانجام دیتا تھا۔ میں اس زمانے میں اسی تنظیم کا سیکرٹری اطلاعات تھا، اس حوالے سے بھی محبوب خان کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا رہتا۔ اس کا دھیمہ لہجہ اس کی خاص پہچان تھی جو کہ ٹھہراؤ کے حوالے سے بھی دھیمہ تھا اور آواز کی آہستگی میں بھی، اسے خصوصی طور پر متوجہ ہوکے سننا پڑتا تھا، وہ جینز کے لحاظ سے بھی مکمل سیاسی تھا اور انسان دوستی اس کے اندر کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی۔ پاکستان میں چونکہ سیاست یا سماجی رتبہ فقط بے بڑے خاندانوں اور مرتبے اور اسٹیٹس کو کمرشل طریقے سے چلانے والوں کے سر کا تاج بنتا ہے، اس لیے محبوب جیسے مجسم سیاست کی اس معاشرے میں جگہ م ہی ہے، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم جب راولپنڈی جیل میں تھے، وہاں محبوب خان کو وکالت کا بہت فائد تھا۔ جیل کے حوالاتی اور قیدیوں کا ہر وقت محبوب خان کے پاس تانتا لگا رہتا تھا۔ قیدیوں کے کیس پڑھنا۔ انہیں مختلف درخواستیں لکھ کر دینا، محبوب خان کا روزانہ کا معمول تھا۔ ہم دونوں یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ تھے۔ اس لیے ہم دونوں وہاں بہت سے قیدیوں کو باقاعدہ تعلیم دیتے تھے اور انہیں امتحانات کے لیے تیار کرتے تھے۔ ہمارے زمانے میں جب ہم سیاسی لوگوں نے عام قیدیوں کو جیل میں پڑھانا شروع کیا تو ان دو، تین سال میں راولنڈی جیل سے مختلف سالوں حتیٰ کہ یونیورسٹی تک کے طلبہ قیدی تعداد میں دیگر جیلوں سے ریکارڈ زیادہ ہوگئے۔ یہ سب بھی محبوب خان کی اس سوچ اور کمٹمنٹ کا مرہون منت تھا کہ وہ جیل میں بھی اپنے اوپر اتنے مقدمات کا پریشر ہونے کے باوجود جہاں تک ہوتا لوگوں کی فلاح اور بہتری کے لیے کام کرتا رہتا۔ جیل کی بیڑیاں اور کافی عرصے تک کیلئے سی کلاس بھی عزم اور ہمت کو متزلزل نہ کرسکی۔ ہم چند سیاسی حوالاتی بشمول محبوب خان ساڑھے تین سالوں میں جوکہ ہمارے زیر سماعت مقدمہ کی حیثیت کے سال تھے۔ اس میں ہمیں جو ٹانگوں میں بیڑیاں لگائی گئی تھیں، وہ بیڑیاں ہمیں جب بی کلاس بھی مل گئی جوکہ ہمای دو سال کی قانونی لڑائی کے بعد ملی جوکہ جیل مینوئل کے مطابق ہمارا قانونی حق تھا۔ اس کے باوجود ہماری بیڑیاں نہیں اتاری گئیں۔ محبوب خان نے اس تمام تر تکلیف دہ وقت کو بہت خوش اسلوبی اور ہمت سے گزارا، کبھی ماتھے پر تکالیف کی کوفت ظاہر نہ ہوئی، بلکہ اسے احساس رہتا اور ہمیں بھی باور کراتا رہتا کہ یہ سختیاں اس مارشل لاء دور میں ہمارے حصے کی سختیاں ہیں۔ انہیں خندہ پیشانی سے جھیلنا ہے۔ محبوب خان کا ہیومن رائٹس کمیشن کے ساتھ جڑ جانے والا بہت سا وقت گو کہ میں نے آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن میں جب بھی HRCPکی سالانہ رپورٹ پڑھتا، اس میں محبوب خان کے انویسٹی گیٹو کیسوں کا کئی جگہ زکر ہوتا، بلکہ آئی اے رحمان سے جب بھی ملا۔ اہوں نے محبوب خان کے کام اور کوالٹی کی ہمیشہ تعریف کی۔ عاصمہ جہانگیر تو محبوب خان پر بہت اعتماد رکھتیتھیں اور اکثر کافی مشکل کیس محبوب خان کے حوالے کیا کرتی تھیں۔ خاص طور پر مذہبی منافرت میں قتل والے کیس، جن میں سلامت مسیح کا کیس خصوصی طور پر قابل ذکر ہے۔ جہاں محبوب خان ایسے تحقیقی کاموں میں بھی ملوث ہوا جہاں وہ انتہا پسندوں کے ہاتھوں کئی دفعہ اپنی ذہنی ہوشیاری سے بال بال بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔ محبوب خان سیاسی طور پر ایسے طبقات کے حقوق کی بحالی کے لیے پاکستان کی ایک بہت بلند آواز تھی، جسے بھلایا نہیں جاسکے گا۔ 
یورپ سے سے مزید