برمنگھم (ابرار مغل) مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ کے زیر اہتمام چوالیسویں سالانہ عالمی اسلامی دعوت کانفرنس بعنوان قبلہ اول اور مسلمانان عالم اسلام برمنگھم کی جامع مسجد محمدی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں دنیا بھر سے علماء ومشائخ اہلحدیث نے شرکت کی۔ اس عالمی کانفرنس کے اعلامیہ کے مطابق اقوام عالم سے فوری مطالبہ کیا گیا کہ فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کے بدترین سلسلے کو فوری بند کرایا جائے اور فلسطینیوں کو ان کےبنیادی اور پیدائشی حق سے دے کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے، مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی حرمت و تقدس کا احترام یقینی بنایا جائے تاکہ بڑھتی انتہاپسندی اور عالمی جنگ کے خطرات سے بچا جا سکے۔ اس موقع پر آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف مذمتی قرار داد بھی پیش کی گئی جبکہ عالم اسلام پر بھی زور دیا گیا کہ وہ متحد ہو کر مظلوم فلسطینوں کی آواز بنیں اور اپنے قبلہ اوّل مقبوضہ بیت المقدس کو آزاد کرایا جائے۔ اس کانفرنس میں برطانیہ سے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے جمعیت کے مرکزی امیر مولانا ابراہیم میرپوری، نامور اسکالر علامہ ابتسام الٰہی ظہیر آف پاکستان، شیخ کریم ابو زید آف امریکہ، پروفیسر علامہ حماد لکھنوی آف پاکستان، مولانا فضل الرحمٰن حقانی آف نیلسن، سابق امیر جمعیت مولانا محمد الہادی العمری، علامہ حبیب الرحمٰن آف اسکاٹ لینڈ، ناظم اعلیٰ قاری ذکاء اللہ سلیم، ڈاکٹر صہیب حسن آف لندن، علامہ محمد ادریس المدنی آف گلاسکو، علامہ عبدالباسط العمری آف نیلسن، مولانا محمد خذیفہ اور دیگر مقامی علمائے دین و اسکالرز نے خطاب کیا اور کہا کہ اس وقت عالم اسلام کو متحد ہو کر عالمی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہو گا اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنا کر دنیاوی میدانوں میں بھی آگے آنا ہوگا۔ مقررین نے مزید کہا کہ ظہور اسلام کے ساتھ ہی بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول قرار پایا۔ بیت المقدس اسلام کے عظیم الشان تاریخی آثار و باقیات اور روایات کا اہم جز وہے، یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کسی بھی وقت اور کسی بھی حال میں اس سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ مسلمانوں کے نزدیک مسجد اقصیٰ صرف ایک مسجد ہی نہیں، بلکہ یہ امت محمدیہ کے لئے بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیائے کرام علیہم السلام کی ایک متبرک تاریخی یادگار ہے اس کی تقدیس و تکریم اور فضیلت و اہمیت کی رو سے امت مسلمہ ہی مسجد اقصیٰ کی تولیت و تحفظ کی ذمہ دار ہے اور امت کسی صورت میں اللہ و رسول ﷺ کے تفویض کردہ حق سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، مولانا محمد الہادی العمری، قاری ذکاء اللہ سلیم، عبد الرب ثاقب، بزرگ عالم دین مولانا ابراہیم میرپوری اور دیگر مقررین نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد برطانوی مسلم نوجوان نسل کو اپنے قبلہ اول اور مسلمانان عالم کو درپیش چیلنجز کے بارے میں آگاہی دینا ہے ہماری نوجوان نسل ہی ہمارا اثاثہ ہے ہمیں اپنے مستقبل پر بھی نظر رکھنی ہو گی اور اپنی نوجوان نسل کی تربیت پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ دیگر مقررین نے مزید کہا کہ اس وقت مغرب میں اسلام شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، فلسطین میں اسرائیلی مظالم ایک بار پھر انتہا پسندی کو جنم دے سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہا اسرائیلی مظالم کا سلسلہ بند کرایا جائے۔ کانفرنس میں فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے جانے پر ایک مذمتی قرار داد بھی پیش کی گئی جس پر تمام شرکاء نے اتفاق کیا۔