• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اقبال کی لافانی شاعری نے مسلمانوں کو غفلت کی نیند، جس میں وہ دوبارہ کھوچکے ہیں، سے جھنجوڑ کر بیدار کیا، شاعری پتھر دلوں کو بھی پانی اور سفاک آنکھوں کو بھی آنسووںسے تر کرسکتی ہے۔ کون ہے جو ایک ’’بچے کی دعا‘‘ کے اس اثر انگیز شعر سے متاثر نہ ہو...’’ہو میرا کام غریبوںسے حمایت کرنا، درد مندوںسے ضعیفوںسے محبت کرنا۔‘‘لیکن یہی شاعری جلیانوالہ باغ کے سانحے پر خاموش بھی دکھائی دی جب تیرہ اپریل 1919 کو جنرل ڈائر نے برطانوی سپاہیوں کو نہتے ہندوستانیوں پر گولی چلانے کا حکم دیا اور اس کے نتیجے میں ایک ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوئیں۔ رولٹ ایکٹ (Rowlatt Act)...جو برطانوی راج کو کسی بھی شخص کو بغیر کسی ٹرائل کے قید کرنے کا اختیار دیتا تھا... کی منظور ی کے بعد پنجاب میں بے چینی پائی جاتی تھی کیونکہ پہلی جنگ ِ عظیم میں لڑنے کے لئے برطانوی فوج میں بھرتی ہونے والے ساڑھے چھے لاکھ ہندوستانیوں میں سے ساٹھ فیصد کا تعلق پنجاب سے تھا لیکن اس قربانی کا صلہ راج نے رولٹ ایکٹ جیسے جابرانہ قانون کے نفاذ سے دیا ، چنانچہ لاہور اور امرتسر میں فسادات پھوٹ پڑے۔ اس دوران خاص طور پر امرتسر میں پرتشدد واقعات بھی دیکھنے میں آئے جہاں چار یاپانچ انگریز ہلاک ہوگئے جبکہ ایک انگریز اسکول ٹیچر مرسیلا شرووڈ(Marcella Sherwood) کو مشتعل ہجوم نے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ لاہور میں مارشل لا اور امرتسر میں کرفیو کے باوجوددو رہنمائوں، ستیہ پال اور ڈاکٹر سیف الدین کچلوکی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے جلیانوالہ باغ میں ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہوگیا جس پر گولیوں کی بارش کی گئی۔ اس سے پہلے حکم دیا گیا تھا کہ جوکوئی بھی مس شرووڈکی گلی میںسے گزرے گا، اُسے پیٹ کے بل رینگ کر گزرنا پڑے گا۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں پر تشدد کیا گیا۔
شاعر ِ مشرق علامہ محمد اقبال صرف لاہور کی مسلم کمیونٹی کے ہی رہنما نہ تھے بلکہ وہ اپنے اپنے وقت کے عظیم ترین شعرا میں سے ایک تھے لیکن ان کی تمام شاعری میں جلیانوالہ باغ کے سانحے، جس نے پورے انڈیا کو ہلاکر رکھ دیا، کا کوئی حوالہ موجود نہیں۔ نہ ہی اقبال نے اس پر عوامی سطح پر کچھ کہا۔اگرچہ میں ان کی خاموشی کا گہرائی میں جاکر کوئی مطلب تلاش کرنے کی کوشش نہیںکررہا لیکن اس سانحے کے تین سال بعد 1922 کو علامہ اقبال کو سرکا خطاب دیا گیا۔ 1931 میں بھگت سنگھ کوایک انگریز پولیس افسر کوقتل کرنے کی پاداش میں پھانسی کی سزا سنادی گئی۔ چاہے کسی کو بھگت سنگھ کا کام یا طریق ِ کارپسند آئے یا نہ آئے ، وہ ایک ہیرو اور آزادی کا مجاہد تھااور اُس نے مسکراتے ہوئے پھانسی کے پھندے کو چوم لیا۔ صرف محمد علی جناح نے سینٹرل اسمبلی میں کھڑے ہوکر ببانگ دہل کہا...’’میں بھگت سنگھ کے ایکشن کی حمایت نہیںکرتا ہوں... مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ آج کے نوجوان مشتعل ہیں۔ آپ کو ان کی حرکتوںپر افسوس ہوتا ہے کہ وہ غلط راستے کو اپنارہے ہیں لیکن یہ وہ نفرین نظام ِ حکومت ہے جو اس اشتعال کا باعث بن رہا ہے۔‘‘ جب لاہور کی جیل میں بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے بھوک ہڑتال کی تو مسٹر جناح نے کہا...’’ وہ شخص جس نے بھوک ہڑتال کی ہے، وہ آزادی کا جذبہ رکھتا ہے۔ ا س کے دل میں سرفروشانہ جذبات موجزن ہیں۔‘‘ یہ جناح کے الفاظ ہیں، لیکن شاعر ِ مشرق کی طرف سے اس ضمن میں مکمل خاموشی ہے۔
اقبال کی شاعری انسان کو آمادہ ٔ عمل کرتی ہے، وہ نہ تو حجرہ نشیں تھے اور نہ ہی زمانے سے لاتعلق، بلکہ وہ حرکت کو زندگی اور سکوت اور جمود کو موت سے تعبیر کرتے ہیں۔ مسلمانوںکو جرأت اور خوداری کا پیغام دینے کے لئے وہ شاہین، جو قصر ِ سلطانی کے گنبد کی بجائے پہاڑوں پر بسیرا کرتا ہے، کا استعارہ استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنی قوم کا حوصلہ ابھارتے ہوئے رسم ِ شہبازی اپنانے اور خانقاہوں سے نکل کررسم ِ شبیری ادا کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ پر موجود کہ ان کا مخاطب کون ہے؟ وہ کون سا بحر ِ ظلمات ہے جس میں مردان ِ غازی نے گھوڑے دوڑانے ہیں؟کیا ان کی نگاہ سوئے ثمر قند، بخارا یا کاشغر نہیں؟ وہ کون سی ’’تازہ بستیاں ‘‘ ہیں جو وہ چاہتے ہیں کہ اہل ِ نظر آباد کریں ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ وہ سرزمین ، جواُنہیں سارے جہاںسے اچھی لگی تھی، میں آزادی کا شعلہ ٔ جوالہ بھڑک رہا تھا اور فرزاندن ِ وطن اس پر پروانہ وار نثار ہورہے تھے۔ وہ سرزمین، جسے سرفروشی کے جذبے کی ضرورت تھی اور جہاں داخلی جذبات نے حریت کی موج ِ تند خوں میں تبدیل ہوکر نہنگوں کے نشیمن تہہ وبالا کرنے تھے ، وہ تاریخ کے اس لمحے میں انڈیا کے سوا کون سی تھی لیکن وہ ’’یوسف ِ من بہر ِ این بازار نیست ‘‘کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
29؍دسمبر1930 کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلا س کے موقع پر اقبال کا خطبہ ٔ الہ آباد فہم و فراست سے لبریز تھا، لیکن اس کا موضوع اسلام تھا اور موقع پر اسلام کی بات کرنے کا مطلب انڈیا کی مسلم قومیت کے دل میں اسلامی کلچر کا احساس بیدار کرناتھا۔ چنانچہ اقبال نے ’’انڈیا کے شمال مغربی ‘‘ علاقوں میں ایک مسلم ریاست کے قیام کی بات کی، تاہم یہ بات واضح نہ ہوسکی کہ کیا وہ ایک آزاد اور خود مختار اسلامی ریاست کی بات کررہے تھے یا وہ انڈیا کی سیاسی جغرافیائی حدود کے اندر رہتے ہوئے ایک اسلامی ریاست کا قیام چاہتے تھے ، تاہم اُنھوں نے نوآبادیاتی نظام کی زنجیروں کو کاٹنے، جو ا ن کی منشاکے مطابق اسلامی ریاست کے قیام کی اولین ضرورت تھی، اور استعمار سے ٹکراجانے کا مطلق ذکر نہ کیا۔
کیا آج اس موضوع کو دہرائے جانے کی کوئی ضرورت تھی؟ دراصل مسٹر جناح کی رحلت کے بعد کئی عشروں تک مسلم لیگ کی قیادت اور ملک کے حکمران طبقے نے پست ذہنیت اور غلامانہ روش اپناتے ہوئے احتیاط کے کوزے میں خود بند کرلیا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ سرحد پار کانگریس کی قیادت انقلابیوں پر مشتمل تھی، ایسا نہ تھا، لیکن ان کے ہاں کسی حد تک بائیں بازوسے تعلق رکھنے والے سوشلسٹ رہنما تھے اور پھر... آتش مزاج سبھاش چندر بوس بھی تھے۔ کیا ہمارے ہاں مسلم لیگ کی صفوں میں کوئی ایسا رہنما دکھائی دیتا تھا جسے ہم انقلابی یا جدت پسند کہہ سکیں؟ اگر کوئی نام ذہن میں آتا ہے تو وہ شاعر مولانا حسرت موہانی تھے جن کے دل میں انقلاب کی چنگاری موجود تھی۔ جہاں تک مسٹر جناح کا تعلق ہے تو وہ قوم پرست پہلے اور کچھ اور بعد میں۔ باقی سب وہی روایتی مسلم لیگ ، وہی چوڑی دار پاجامہ، وہی اچکن ، وہی مخصوص ٹوپی۔ دراصل یہ قائد ِ اعظم کی ولولہ انگیز قیادت تھی جس نے ’’ممولے کو شہباز ‘‘سے لڑا دیا تھا ورنہ روایتی مسلم لیگ میں انقلاب کی آتش ِ شوق فروزاں نہ تھی اور نہ ہی ہمارے ہاں کوئی روایتی معنوں میں حریت پسندی موجود تھی۔اس دوران ہمیں ایک بات فراموش نہیںکرنی چاہیے کہ برطانوی راج نے بھی مسلم لیگ کو سراٹھانے کا موقع دیا کیوں ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘استعماری طاقتوںکی پالیسی ہوتی ہے۔
یہاں مسلم لیگ کی قیادت ، خاص طور پر اقبال کے بارے میں بات کی جانی چاہئے کہ تقسیم ِ ہند کے حوالے سے ان کی بصیرت دانائی کے تقاضوں کو پورا کرتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ ، جیسا کہ بر ِ صغیر کے ’’شمال مغربی ‘‘ علاقوں میں ایک مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ، لیکن ایسا کرتے ہوئے یہ بات نہ سوچی نہ گئی کہ اگر ایسا ہوا تو انڈیا تو بعد میں تقسیم ہوگا، پہلے پنجاب کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ اس کج فہمی کے نتیجے میں 1947 میں یہ پنجاب تھا جس کے سنہرے میدان لہورنگ ہوئے اور راوی کی ریت خون میں بھیگ گئی۔ یقینا مسلم لیگ کی قیادت اس خونریزی کے لئے تیار نہ تھی۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقبال کا شاہین کن فضائوں میں پرواز کرنے کا سوچ رہا تھا؟آزادی سے پہلے شاہین کی پلاننگ ہماری نگاہوںسے اوجھل تھی لیکن آزادی کے بعد اس نے یقینا ’’کرگس کے جہاں ‘‘ میں قدم رنجا فرمایا اور ہجرت کرنے والوں کی چھوڑی ہوئی جائیداد پر قبضہ کرنا اس کی اولین ترجیح بن گئی۔ اس کے بعد جس ذرا فضا صاف ہوئی تو اس نے پھر اُڑان بھری اور بغداد پیکٹ ، سنٹواور سیٹو جیسے معاہدوں میں خود کو الجھا لیا۔ جب اس خطرناک لیکن لاحاصل تگ و دو میں شاہین کو اپنے پر جلتے محسوس ہوتے تو اس نے ایک نہایت موثر نعرہ ایجاد کرلیا...’’اسلام خطرے میں ہے۔‘‘ مشرقی پاکستان کے بنگالی بھائیوں کو بھی ’’شہبازی ‘‘ میں شامل کیا جانا چاہئے تھا لیکن ان کے مسائل مختلف تھے ، اس لئے ان کو عقائد کے ان معرکوںسے دلچسپی نہ تھی جنہیں ہم نے اپنی آزادی کا حاصل بنا لیا تھا۔ اس کے بعد ایک جنگ اور بنگالیوںنے ہم سے راستہ الگ کرلینا مناسب سمجھا۔ اس طرح اقبال کے تصورکے مطابق شمال مغربی علاقوں پر مشتمل اسلام کا اٹل قلعہ باقی رہ گیا۔ بنگلہ دیش نے طرز ِ کہن سے انحراف کی پالیسی اپنالی اور اسلام پسند سیاسی قوتوں، جیسا کہ جماعت ِ اسلامی ،کے خلاف سختی کی ، لیکن ہم ابھی تک آئین ِ نو سے ڈرتے ہوئے اس قلعے سے باہر نکلنے کے لئے تیار نہیں۔ جب تعلیم یافتہ اور صاحب ِ نظر اقبال نے اسلام کی بات کی تھی تو وہ ملا کا اسلام نہ تھا، لیکن جماعت اسلامی اور مولانا سمیع الحق جس مذہب کی بات کرتے ہیں وہ بقول اقبال ’’ملاو نباتات و جمادات ‘‘ کا مذہب ہے۔ وہ طالبان اور اندھیرے کی طاقتوں کا مذہب ہے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی فرقہ واریت سے ہماری سرمین لہو رنگ ہے۔ آج کاشاہین کون ہے؟اگر ہمارے آبائو اجداد قدرے کم محتاط اور کچھ انقلابی ہوتے، جیسا کہ حسرت موہانی اور ادھم سنگھ ( جس نے مائیکل او ڈائر، جو جلیانوالہ باغ کے سانحے کے وقت پنجاب کا گورنر تھاکو ہلاک کیا تھا)تو شاید ہمارے حالات قدرے مختلف ہوتے۔ تاہم مرزا غالب نے ہماری موجودہ زیست کو مرگ کے پیرائے میں بیان کردیا تھا...’’ہوئی مدت کہ غالب مرگیا پریاد آتا ہے، کہ جو ہر بات پر کہتا تھا یوں ہوتا تو کیا ہوتا۔‘‘
تازہ ترین