کراچی(اسٹاف رپورٹر) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے سیشن 2024-25ء میں داخلوں کیلئے داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد کیا ۔ جامعہ کے مرکزی جناح کیمپس میں بیچلرز آف انجینئرنگ ، بیچلرز آف سائنس ، اقبال کیمپس میں بیچلرز آف آرکیٹیک ، گلبرگ ٹاؤن کراچی کی فیکلٹی آف انفارمیشن اینڈ کمپیوٹنگ سائنس میں بیچلرز آف سائنس اور روہڑی سکھر کے سینٹر برائے انٹر پرینیوشپ مینجمنٹ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز میں بیچلرز آف سائنس میں داخلوں کیلئے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے ) کراچی اور سکھر کے ڈولفن بینکویٹ میں بیک وقت داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا جس نے شفافیت اور انتظامات کے نئے معیارات مقرر کئے۔ آئی بی اے کراچی ٹیسٹنگ سروسز کی جانب سے لئے جانے والے ٹیسٹ آئی بی اے کراچی اور سکھر ڈولفن بینکویٹ میں صبح اور شام کی دو شفٹوں میں ہوا ، کراچی میں 3800 رجسٹرڈ امیدواروں میں سے 3520 امتحان میں شریک ہوئے۔ سکھر سینٹر میں 271 رجسٹرڈ امیدواروں میں سے 200 امیدواروں نے سندھ اور پاکستان کے مختلف شہروں سے داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی طرف سے پیش 18 ڈگری پروگراموں میں داخلہ لینے کے لیے ٹیسٹ میں شرکت کی۔ اس سال کے انٹری ٹیسٹ کے سب سے زیادہ دلکش پہلوؤں میں سے ایک خواتین امیدواروں کی قابل ستائش نمائندگی تھی، جو کل رجسٹریشنز کا 26؍ فیصد بنتی ہے۔ خواتینکی شرکت میں اضافہ انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں صنفی شمولیت کی طرف ایک مثبت تبدیلی کا اشارہ ہے۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی کے داخلہ امتحان میں امیدواروں کے آرام اور جانچ کے شفاف ماحول کو یقینی بنانے پر پوری توجہ دی گئی جس کیلئے یونیورسٹی نے امیدواروں کو ایئر کنڈیشنڈ ٹیسٹنگ روم فراہم کیے جس سے انہیں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کیلئے سازگار ماحول ملا جبکہ مرکزی دروازے سے امتحانی مرکز تک آسان رسائی کیلئے شٹل سروس کا بھی انتظام کیا گیا۔ امیدواروں کے ساتھ آنے والے والدین نے داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کی داخلہ کمیٹی اور آئی بی اے ٹیسٹنگ سروس کی جانب سے کئے گئے سہل انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین ، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید بھٹو، داخلہ کمیٹی کے ارکان کے علاوہ ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس افیئر انجینئر صدام علی کھچی، وسیم لانگا اور دیگر کراچی میں امتحان کے دوران امیدواروں اور ان کے والدین یا سرپرستوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوںکا جائزہ لیتے رہے اور ٹیسٹ کے دوران مختلف مراکز کے دورے کئےجبکہ سکھر میں رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر سید آصف علی شاہ نے امتحانی انتظامات کا جائزہ لیا۔