• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک دفتر کے فرش پر کیوں سوتے ہیں؟

کراچی (رفیق مانگٹ ) آخر ایلون مسک دفتر کے فرش پر کیوں سوتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ان کے نزدیک یہ محنت ان کی طاقت اور ان کے حق حکمرانی کا ثبوت ہے۔

 ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم از کم 80 گھنٹے کام کرنا ضروری ، ہفتے میں 120 گھنٹے کام کرنا میری سپر پاور ہے، جیف بیزوس روزانہ 12 گھنٹے کام کرتے تھے، او ٹم کک صبح 4:30 بجے ای میل بھیجنے کیلئے مشہور ہیں۔ 

جب بات دنیا کے سب سے امیر شخص کی ہو، تو ذہن میں عالیشان محلات، نجی جزیرے اور پرتعیش زندگی کا خیال آتا ہے۔ لیکن ایلون مسک؟ وہ تو اپنے دفتر کے فرش پر سوتے ہیں، "پیزا، ریڈ بل، اور ڈوریٹوس" کے سہارے دن رات ایک کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہفتے میں 120 گھنٹے کام کرنا میری سپر پاور ہے! یہ سن کر آپ حیران ہوں گے کہ آخر یہ شخص اتنی دولت کے باوجود آرام کیوں نہیں کرتا ۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق وہ برسوں سے کہتے آ رہے ہیں کہ دنیا کو بدلنے کے لیے ہفتے میں کم از کم 80 گھنٹے کام کرنا ضروری ہے، اور بعض اوقات تو یہ تعداد 100 یا 120 گھنٹوں تک بھی جا پہنچتی ہے۔ 

مسک کا کہنا ہے، جب ہم ہفتے کے آخر میں بھی کام کر رہے ہوتے ہیں، تو ہمارے بیوروکریٹک مخالفین دو دن کے لیے میدان چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ میری جیت کا راز ہے! امریکی کاروباری ثقافت میں انتھک محنت کو کامیابی کی کلید سمجھا جاتا ہے۔

 ایمازون کے بانی جیف بیزوس اپنی ابتدائی جدوجہد کے دوران ہر روز 12 گھنٹے کام کرنے کی بات کرتے ہیں، جبکہ ایپل کے سی ای او ٹم کک صبح 4:30 بجے ای میل بھیجنے کے لیے مشہور ہیں۔ اسی طرح، مسک کے باس بھی، جو خبروں اور سوشل میڈیا میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ "مجھ سے زیادہ محنت کسی صدر نے نہیں کی۔ 

اگرچہ ایلون مسک کے منصوبے کی نوعیت نئی ہو سکتی ہے، لیکن وہ جس نظریے کی نمائندگی کرتے ہیں، اس کی جڑیں تاریخ میں گہری ہیں۔ 

آسٹریا سے تعلق رکھنے والے معروف ماہر معاشیات جوزف شومپیٹر، جنہوں نے 1932 سے 1950 میں اپنی وفات تک ہارورڈ میں تدریس کی، اس تصور کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا کہ کاروباری افراد (انٹرپرینیورز) میں کچھ خاص ذاتی خصوصیات ہوتی ہیں جو انہیں عام کاروباری شخصیات اور منیجرز سے ممتاز کرتی ہیں۔ 

شومپیٹر کے مطابق، حقیقی کاروباری افراد معاشی نظام کی روایتی ساخت کو توڑتے ہیں، جس کے لیے غیر معمولی عزم اور شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے مشہور جملے "تخلیقی تباہی کے طوفان" کا مطلب یہ تھا کہ یہ کاروباری ذہن رکھنے والے افراد نئی راہیں متعین کرتے ہیں، چاہے اس کے لیے پرانے نظام کو ختم ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

یہ تصور جرمن ماہر معاشیات ورنر زومبارٹ کے خیالات سے ماخوذ تھا، جنہوں نے 1909 میں کہا تھا کہ "حقیقی کاروباری افراد وہ مرد (عورتیں نہیں!) ہوتے ہیں جو بے پناہ توانائی، عمل کے لیے غیر معمولی جذبے، کام میں خوشی اور طاقت کے حصول کی ناقابل تسخیر خواہش سے بھرپور ہوتے ہیں۔" درحقیقت، وہ انہیں ایک "سپر ہیرو" قرار دیتے تھے۔ 

دوسری طرف، مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی نے اس سوچ کو مزید ہوا دی ہے۔ گوگل، میٹا، اور ڈراپ باکس جیسی کمپنیوں نے AI کے نام پر ملازمین کو نکالنا شروع کر دیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق، اگلے پانچ سالوں میں 40 فیصد کمپنیاں ایسا ہی کریں گی۔ 

مسک جیسے ٹیک لیڈرز اسے مستقبل کے طور پر دیکھتے ہیں – ایک ایسی دنیا جہاں مشینیں سب کچھ کریں گی، اور صرف وہ چند "سپر ورکرز" باقی رہیں گے جو فیصلے کریں گے۔ تاہم، مسک کے فیصلے اکثر تنازعات اور غلطیوں کا شکار بھی ہوتے ہیں۔

 ٹوئٹر کی خریداری کے بعد انہوں نے ہزاروں ملازمین کو برطرف کیا اور پھر کئی کو دوبارہ بھرتی کرنا پڑا۔ اسی طرح، ان کی کمپنیوں میں کارکنان کی فلاح و بہبود پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جہاں ملازمین کو تھکا دینے والے کام کے ماحول کا سامنا ہے۔ لیکن کیا یہ پلان واقعی کامیاب ہے؟ مسک کی ٹیم 120 گھنٹے کام کر کے ایسی غلطیاں کر رہی ہے جو نیند کی کمی سے متوقع ہیں۔ 

انہوں نے ایک ویب سائٹ بنائی جس میں حساباتی غلطیاں تھیں، اور جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے ملازمین کو نکالنے کے بعد انہیں دوبارہ رکھنا پڑا۔ تو سوال یہ ہے کہ آخر ایلون مسک دفتر کے فرش پر کیوں سوتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ان کے نزدیک یہ محنت ان کی طاقت اور ان کے حق حکمرانی کا ثبوت ہے ۔

اہم خبریں سے مزید